پاکستان کے معروف یوٹیوبر اور وی لاگر ڈکی بھائی ضمانت پر جیل سے رہائی کے بعد جب پہلی بار میڈیا کے سامنے آئے تو ان کی حالت دیکھ کر مداحوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ تقریباً چار ماہ جیل میں گزارنے کے بعد ان کا چہرہ، انداز اور جسمانی کمزوری واضح طور پر جھلک رہی تھی، جس نے لوگوں کو حیران اور پریشان کر دیا۔
ڈکی بھائی کو مبینہ جوئے کی ایپس کیس میں گرفتار کیا گیا تھا، اور دورانِ مقدمہ ان کی ضمانت کئی مرتبہ مسترد ہو چکی تھی۔ طویل قانونی جدوجہد اور جیل میں گزارے گئے سخت مہینوں کے بعد آخرکار انہیں ضمانت مل گئی، جس کے بعد وہ اپنی اہلیہ اروب جتوئی اور وکلا کے ہمراہ مجسٹریٹ کورٹ پہنچے، جہاں پہلے سے ہی متعدد میڈیا نمائندگان موجود تھے۔
عدالت کے باہر میڈیا کا جمِ غفیر ان کا منتظر تھا۔ کیمروں، مائکس اور موبائل فونز کے درمیان شدید دھکم پیل کے حالات پیدا ہوگئے۔ رپورٹرز مسلسل سوالات پوچھتے رہے مگر ڈکی بھائی نے ایک بھی سوال کا جواب نہیں دیا اور مکمل خاموشی سے آگے بڑھتے رہے۔ ان کا چہرہ شدید ذہنی دباؤ اور تھکن کی عکاسی کر رہا تھا، جبکہ مسلسل فلیش لائٹس اور شور شرابے نے ان کی بےچینی کو مزید بڑھا دیا۔
سوشل میڈیا پر ویڈیوز سامنے آتے ہی مداحوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ صارفین نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈکی بھائی واضح طور پر ذہنی دباؤ کا شکار دکھائی دے رہے ہیں اور میڈیا کا رویہ حد سے زیادہ جارحانہ تھا۔ بعض مداحوں نے تو یہ بھی کہا کہ یہ رویہ کسی قسم کی "ہراسانی” سے کم نہیں تھا اور میڈیا کو اس مشکل وقت میں ڈکی بھائی کو کچھ وقت اور پرائیویسی دینی چاہیے۔
اسی دوران ڈکی بھائی اور ان کی اہلیہ اروب جتوئی کی ایک ساتھ پہلی جھلک بھی سامنے آئی۔ ویڈیوز اور تصاویر میں اروب اپنے شوہر کے ساتھ کھڑی دکھائی دیں اور ان کی موجودگی نے مداحوں کے دلوں میں ایک حد تک اطمینان پیدا کیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے دونوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ جلد اپنی نارمل زندگی میں واپس آئیں گے۔
ڈکی بھائی کی رہائی کے بعد منظرِ عام پر آنے والے مناظر نہ صرف ایک معروف سوشل میڈیا شخصیت کی ذاتی آزمائش کو ظاہر کرتے ہیں، بلکہ میڈیا کے رویے پر بھی کئی سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ایک طرف چار ماہ کی قید اور مسلسل قانونی دباؤ نے انہیں ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور کیا، جبکہ دوسری طرف رہائی کے فوری بعد میڈیا کی ہجوم جیسی صورتحال نے ان کے لیے ماحول مزید مشکل بنا دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، مشہور شخصیات کے لیے جیل کا تجربہ ہمیشہ شدید نفسیاتی اثرات چھوڑتا ہے، اور ڈکی بھائی کے چہرے پر وہی اثرات نمایاں تھے۔ ایسے وقت میں میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ خبر کے حصول اور انسانی احترام کے درمیان ایک مناسب توازن برقرار رکھے۔
عوامی رائے اس حوالے سے واضح ہے
بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ ڈکی بھائی کو میڈیا کی بے جا شدت کا نشانہ بنایا گیا۔ صارفین کے مطابق اس صورتحال میں میڈیا نمائندگان کو کم از کم اتنا موقع ضرور دینا چاہیے تھا کہ وہ سکون سے اپنی اہلیہ کے ساتھ عدالت تک پہنچ سکیں۔ مداحوں کی بڑی تعداد نے ڈکی بھائی کے لیے دعائیں کی ہیں کہ وہ جلد صحت یابی کے ساتھ دوبارہ اپنی معمول کی زندگی اور سرگرمیوں کا آغاز کریں۔
آپ کی رائے؟
ڈکی بھائی کی رہائی کے بعد منظرِ عام پر آنے والی اس پہلی جھلک کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟
کمنٹ میں اپنی رائے ضرور بتائیں





















