سائنس دان برسوں کی تحقیق کے بعد اس حقیقت پر متفق ہوچکے ہیں کہ اگر جسم فٹ رہے تو دماغ بھی زیادہ عرصے تک چاق چوبند، توانا اور ’جوان‘ رہتا ہے۔ اس حیرت انگیز تعلق کو Body–Brain Connection کہا جاتا ہے، اور جدید سائنسی مطالعات نے اس نظریے کو مضبوط دلائل کے ساتھ ثابت بھی کر دیا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق جسمانی سرگرمی دل کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے، جس کے نتیجے میں دماغ تک زیادہ آکسیجن اور غذائی توانائی پہنچتی ہے۔ اس کا براہِ راست اثر دماغ کی کارکردگی پر ہوتا ہے، جس سے یادداشت بہتر ہوتی ہے، توجہ بڑھتی ہے اور ذہنی تھکن کم ہوتی ہے۔
مزید یہ کہ ورزش خصوصاً تیز چہل قدمی، دوڑ اور سائیکلنگ دماغ میں وہ کیمیکلز بڑھاتی ہے جو نئے نیورونز بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ عمل neurogenesis کہلاتا ہے اور دماغ کو جوان رکھنے میں سب سے بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ سائنس نے ثابت کیا ہے کہ زیادہ نیورونز، زیادہ طاقتور دماغ کی علامت ہوتے ہیں۔
ورزش کا ایک اور بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ کورٹیسول جیسے تناؤ بڑھانے والے ہارمونز کو کم کرتی ہے جبکہ اینڈورفنز میں اضافہ کرتی ہے جو خوشی، سکون اور مثبت توانائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ورزش کو ڈپریشن، بےچینی اور ذہنی انتشار کے خلاف قدرتی علاج بھی کہا جاتا ہے۔
فٹ باڈی کا سب سے اہم اثر نیند پر پڑتا ہے۔ جسم جب متحرک رہتا ہے تو نیند خودکار طور پر بہتر ہوتی ہے۔ اچھی، معیاری نیند دماغ کے لیے ایسے ہے جیسے کمپیوٹر کی گہری صفائی، جس کے نتیجے میں فیصلہ سازی بہتر ہوتی ہے، یادداشت مضبوط ہوتی ہے اور سیکھنے کی رفتار میں اضافہ ہوتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق روزانہ صرف 30 منٹ کی واک بھی طویل عرصے تک دماغی بیماریوں، خصوصاً الزائمر، ڈیمنشیا اور یادداشت کی کمزوری کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔ جب جسم بہتر ہوتا ہے تو انسان خود کو بہتر محسوس کرتا ہے اور یہی مثبت توانائی دماغ کو مسلسل فعال رکھتی ہے۔
Body–Brain Connection محض ایک نظریہ نہیں رہا بلکہ جدید سائنس نے اسے عملی حقیقت ثابت کر دیا ہے۔ آج کی مصروف زندگی میں ذہنی دباؤ، تھکاوٹ اور بےچینی عام مسائل ہیں، اور عجیب بات یہ ہے کہ ان سب کا مؤثر علاج اکثر دواؤں میں نہیں بلکہ روزمرہ کی معمولی ورزشوں میں پوشیدہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ورزش کو صرف جسمانی ضرورت سمجھنا ایک بڑی غلطی ہے، کیونکہ اصل فٹنس دماغ سے شروع ہوتی ہے۔ روزانہ چند منٹ کی سرگرمی نہ صرف جسم کو بہتر بناتی ہے بلکہ دماغ کی عمر بھی کم ہونے نہیں دیتی۔
عوامی سطح پر بھی لوگ اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور فٹنس کمیونٹیز میں ہزاروں صارفین اپنے تجربات شیئر کرتے ہیں کہ کس طرح ورزش نے ان کی ذہنی کارکردگی، موڈ اور یادداشت کو بہتر بنایا۔
عام رائے یہی ہے کہ جسمانی فٹنس ہی ذہنی جوانی کا راز ہے۔
آپ کی رائے؟
کیا آپ بھی ورزش کے بعد ذہنی تازگی اور فوکس میں اضافہ محسوس کرتے ہیں؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔





















