اسلام آباد:پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شدید نعرے بازی اور سیاسی کشیدگی کے باوجود قومی کمیشن برائے اقلیت حقوق بل 2025 کو آخرکار کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 160 اراکین نے تحریک کی حمایت اور 79 نے مخالفت کی، جبکہ اپوزیشن کے مسلسل احتجاج کے باعث ماحول کئی مرتبہ انتہائی کشیدہ صورت اختیار کرتا رہا۔ اجلاس کے دوران ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد اپوزیشن اراکین ایوان سے واک آؤٹ بھی کر گئے۔
بل کی منظوری کے دوران سب سے متنازع نکتہ شق 35 رہا، جسے اپوزیشن کے شدید اعتراضات کے بعد وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خود واپس لے لیا۔ جے یو آئی (ف) کی عالیہ کامران کی جانب سے پیش کردہ ترمیم کو کثرتِ رائے سے منظور کرتے ہوئے اس شق کو بل سے مکمل طور پر حذف کر دیا گیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں جاری اجلاس کے آغاز پر ہی ماحول گرما گیا۔ ایوان میں "ناموسِ رسالت زندہ باد” اور "اللہ اکبر” کے نعروں سے فضا گونجتی رہی۔ نعرے بازی اس قدر شدید تھی کہ وزیر قانون اور اسپیکر کو دورانِ اجلاس ہیڈ فون استعمال کرنے پڑے۔
وزیر قانون کا مؤقف
تحریک پیش کرنے کے بعد وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ یہ بل اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہے اور سپریم کورٹ نے 2014 کے تاریخی فیصلے میں واضح طور پر حکم دیا تھا کہ ایک خصوصی کمیشن تشکیل دیا جائے۔
ان کا کہنا تھا:
-
"قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون سازی نہیں ہو سکتی۔”
-
"قادیانی فتنے کو ہوا دینے کا تصور بھی ہمارے خمیر میں نہیں۔”
-
"بل کا مقصد غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ ہے، اس پر سیاست نہ کی جائے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اگر جے یو آئی (ف) اور دیگر جماعتیں شق 35 کو متنازع تصور کرتی ہیں تو اسے نکالنے پر کوئی اعتراض نہیں۔
اپوزیشن کے اعتراضات اور بیانات
مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے شدید اعتراضات اور بیانات سامنے آئے:
-
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس نوعیت کا قانون کوئی غلط فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، لہٰذا اسے احتیاط کے بغیر پاس نہیں کیا جانا چاہیے۔
-
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ "اقلیتیں ہمارے بھائی ہیں، مگر اسلام کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہو سکتی۔”
-
جے یو آئی کے کامران مرتضیٰ نے کہا کہ قانون کے دو نکات انتہائی قابل اعتراض ہیں اور ان کے مطابق یہ قانون منظور ہوا تو قادیانیوں سے متعلق پہلے سے موجود قانون غیر مؤثر ہو جائے گا، لہٰذا شق 35 کو لازماً حذف کیا جائے۔
ایک اور موقع پر ایوان میں مزاحیہ صورتِ حال بھی پیدا ہوئی جب اسپیکر نے کہا
"آج یہاں بھی سوموٹو ہوگیا، عالیہ کامران نے کامران مرتضیٰ کے خلاف سوموٹو لے لیا!”
دیگر رہنماؤں کا ردعمل
-
علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ملک کے بڑے مسائل میں شامل ہیں، مگر اپوزیشن کو آئینی اختیارات بھی دیے جائیں تاکہ وہ کردار ادا کر سکے۔
-
نور الحق قادری نے کہا کہ "داڑھی والے اور پگڑی والے” اقلیتوں سے متعلق حساس مسائل پر اتفاق رکھتے ہیں، لیکن قادیانیوں کے معاملے پر گہری تشویش ہے۔
-
پیپلز پارٹی کے قادر پٹیل نے کہا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والا فیصلہ ایک ایسے وزیر اعظم نے دیا تھا جس کی داڑھی بھی نہیں تھی، لہٰذا اس مسئلے پر کوئی دروازہ کھولنا مناسب نہیں۔
دیگر بل بھی کثرتِ رائے سے منظور
اجلاس میں متعدد اہم بل بھی منظور کیے گئے جن میں شامل ہیں:
-
کنوینشن برائے حیاتیاتی و زہریلے ہتھیار عمل درآمد بل 2024
-
پاکستان ارادہ برائے مینیجمنٹ سائنسز و ٹیکنالوجی بل 2023
-
نیشنل یونیورسٹی آف سیکیورٹی سائنسز اسلام آباد بل 2023
-
اخوت انسٹیٹیوٹ قصور بل 2023
-
گھرکی انسٹیٹیوٹ برائے سائنس و ٹیکنالوجی بل 2025
اسی دوران قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ملازمین ترمیمی بل 2025 بھی پیش ہوا جس کی شق وار منظوری لی گئی۔
اجلاس کو آخر میں غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
قومی کمیشن برائے اقلیت حقوق بل 2025 کی منظوری پاکستان کی قانون سازی کی تاریخ کا اہم موڑ ہے، خصوصاً اس وقت جب ملک میں سیاسی تقسیم شدید ہے اور مذہبی معاملات ہمیشہ حساس نوعیت رکھتے ہیں۔ شق 35 کا حذف کیا جانا اس بات کی علامت ہے کہ حکومت نے مذہبی جماعتوں کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنا اور تنازع کم کرنے کی کوشش کی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ قانون سازی دیر سے سہی مگر ناگزیر تھی، کیونکہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی فریم ورک کی عدم موجودگی کئی برسوں سے تنقید کی زد میں تھی۔ تاہم اپوزیشن کا احتجاج ظاہر کرتا ہے کہ مذہبی حساسیت کے باعث یہ عمل آسان نہیں ہوگا اور آئندہ بھی اس قانون کے عملی نفاذ پر سوالات اٹھتے رہیں گے۔
عوامی سطح پر اس بل پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
کچھ شہری سمجھتے ہیں کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور یہ قانون پیش رفت ثابت ہوگا۔
جبکہ دوسروں کے نزدیک اس میں مذہبی معاملات سے متعلق پیچیدگیاں موجود ہیں جو آئندہ تنازع کو جنم دے سکتی ہیں۔
آپ کی رائے؟
قومی کمیشن برائے اقلیت حقوق بل 2025 کی منظوری کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں!





















