سوشل میڈیا پر چھائی ہوئی ربیکا خان کی شادی کی تقریبات پہلے ہی مسلسل خبروں میں تھیں، لیکن بارات کے موقع پر پیش آنے والے ایک غیر متوقع واقعے نے اس شادی کو ایک نئی وجہ سے مزید وائرل کر دیا ہے۔ پاکستانی کامیڈین کاشف خان کی بیٹی اور معروف سوشل میڈیا اسٹار ربیکا خان گزشتہ رات بارات کے بعد باقاعدہ طور پر حسین ترین کی دلہن بن گئیں۔ جہاں ان کی دلکش جوڑی اور خوبصورت لباس چرچے میں رہے، وہیں پارکنگ میں پیش آنے والے واقعے نے سب کی توجہ اپنی جانب موڑ لی۔
تقریب کے دوران شادی ہال کی پارکنگ میں کھڑی ایک گاڑی اچانک آگ کے شعلوں میں لپٹ گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے شعلے بلند ہونے لگے اور موقع پر موجود افراد حیران و پریشان اس منظر کو اپنے موبائل فون کیمروں میں قید کرنے لگے۔ چند لمحوں میں یہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیل گئیں اور ربیکا خان کی شادی ایک بار پھر ٹرینڈز کی زینت بن گئی۔
ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑی مکمل طور پر آگ کی لپیٹ میں تھی اور دور تک دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا تھا۔ سوشل میڈیا صارفین پہلے ہی ربیکا کی غیر معمولی طویل شادی پر میمز اور طنزیہ تبسطروں کی بارش کر رہے تھے، لیکن اس ’آگ‘ نے طنز کے اس سلسلے کو مزید تقویت دے دی۔
سوشل میڈیا پر ردِعمل
سوشل میڈیا صارفین نے حسبِ روایت اس واقعے کو بھی مزاح کا موضوع بنا لیا۔
کچھ دلچسپ تبصرے یوں رہے:
ایک صارف نے طنزیہ پوچھا "تو ربیکا گاڑی میں نہیں تھی ناں؟”
ایک اور نے لکھا: "اب اس پر پورا سال ولاگز بنیں گے!”
کسی نے اسے پبلسٹی اسٹنٹ قرار دے دیا۔
ایک صارف نے ڈرامائی انداز میں کہا
"یہ تو بالکل ’میری زندگی ہے تو‘ کے سین جیسا لگ رہا ہے!”
چاہے یہ واقعہ اتفاق ہو یا بدقسمتی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ربیکا خان کی شادی کے ساتھ جڑی یہ ’آگ‘ اب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی خوب بھڑک رہی ہے۔
ربیکا خان کی شادی اس حقیقت کی مثال ہے کہ سوشل میڈیا دور میں مشہور شخصیات کی ہر سرگرمی لمحہ بہ لمحہ عوام کی نظروں میں رہتی ہے۔ لمبی شادی کی تقریبات پہلے ہی تنقید اور مزاح کا مرکز بنی ہوئی تھیں، ایسے میں گاڑی کو لگنے والی آگ نے اس شادی کو نئی بحثوں کے درمیان لا کھڑا کیا ہے۔
میڈیا ماہرین کے مطابق، وائرل کلچر میں کسی بھی غیر معمولی لمحے کا بِلا تحقیق و تصدیق پھیل جانا عام ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے اس واقعے کو فوراً میمز، لطائف اور قیاس آرائیوں کا موضوع بنا ڈالا۔ بعض صارفین نے اسے محض ایک حادثہ قرار دیا جبکہ کچھ نے اسے "آپریشن پبلسٹی” کا نام دیا۔
دوسری جانب کچھ لوگوں نے کہا کہ ایسے حساس واقعات کو ہنسی مذاق کا موضوع بنانا مناسب نہیں، کیونکہ کسی کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔
عوامی رائے میں واضح تقسیم نظر آئی
ایک جانب وہ لوگ ہیں جو اسے "فَن مومنٹ” سمجھ کر تبصرے کر رہے ہیں۔
دوسری جانب وہ صارفین ہیں جو سمجھتے ہیں کہ حادثات کو تفریح کا ذریعہ بنانا بے حسی ہے۔
تاہم اتنا ضرور ثابت ہوا کہ ربیکا خان کی شادی کا سوشل میڈیا سفر ابھی ختم نہیں ہوا—اور یہ آگ اس سفر میں ایک نیا باب ثابت ہوئی ہے۔
آپ کی رائے؟
ربیکا خان کی بارات میں پیش آنے والے اس واقعے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔





















