سابق کپتان معین خان جھوٹی خبروں کا نشانہ،سوشل میڈیا پر انتقال کی غلط خبر وائرل

بغیر تصدیق کے سوشل میڈیا پر ان کے انتقال کی خبر چلانا نہایت افسوسناک ہے،معین خان

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور 1992 ورلڈ کپ کے ہیرو معین خان سوشل میڈیا کی سنگین غیر ذمہ داری کا شکار ہو گئے، جب ان کے انتقال کی جھوٹی خبر انٹرنیٹ پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ سب سے پہلے خبر دینے کی دوڑ نے ایک بار پھر سوشل میڈیا کے خبروں کے معیار پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا۔

واقعہ اس وقت شروع ہوا جب سوشل میڈیا صارفین نے حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے 65 سالہ فرسٹ کلاس کرکٹر معین خان راجپوت کے انتقال کی خبر شیئر کی، مگر تصویر غلطی سے پاکستان کے سابق ٹیسٹ کپتان معین خان کی لگا دی گئی۔ خبر پھیلنے کی دیر تھی کہ دنیا بھر میں موجود ان کے دوست، مداح اور عزیز و اقارب سخت پریشان ہو گئے۔

اصل میں انتقال کرنے والے کرکٹر معین خان راجپوت محبوب اسپورٹس کرکٹ کلب کے سابق کپتان تھے، جبکہ سابق وکٹ کیپر بیٹر معین خان مکمل طور پر خیریت سے ہیں۔

جلد ہی معین خان نے صورتحال واضح کرنے کے لیے ویڈیو بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ بغیر تصدیق کے سوشل میڈیا پر ان کے انتقال کی خبر چلانا نہایت افسوسناک ہے اور اس وجہ سے انہیں شدید ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق

انہیں سینکڑوں کالز اور پیغامات موصول ہوئے

دنیا بھر سے لوگ ان کی خیریت دریافت کرتے رہے

غلط خبر نے ان کے خاندان اور دوستوں کو سخت خوف میں مبتلا کر دیا

معین خان، جو اس وقت پی ایس ایل کی فرنچائز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سے وابستہ ہیں، نے شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ
“خبر نشر کرنے سے پہلے تصدیق کر لینا ضروری ہوتا ہے، ورنہ متعلقہ شخص اور خاندان کو شدید اذیت اٹھانی پڑتی ہے۔”

انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں اپنے ہم نام مرحوم سینئر کرکٹر معین خان راجپوت کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا۔

یہ واقعہ سوشل میڈیا کے اس خطرناک پہلو کو بے نقاب کرتا ہے جہاں "سب سے پہلے خبر دینے” کا جنون درست معلومات سے زیادہ اہم بن جاتا ہے۔ معین خان جیسے بڑے نام کے ساتھ ایسا ہونا نہ صرف حیران کن ہے بلکہ فیک نیوز کے بڑھتے ہوئے رجحان کا خطرناک اشارہ بھی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خبریں شیئر کرنے سے پہلے تصدیق کا اصول اب پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔ ایک غلط تصویر، غلط نام یا غلط کیپشن کئی خاندانوں کو ذہنی صدمے میں مبتلا کرسکتا ہے۔
یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ چند لمحوں میں غلط خبر پوری دنیا میں پھیل سکتی ہے، مگر اس کے اثرات گھنٹوں، دنوں اور کبھی کبھار ہمیشہ کے لیے ذہنی تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔

عوامی ردعمل بھی سخت تھا۔ کئی صارفین نے اس فیک نیوز بنانے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا، جبکہ کچھ نے معین خان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
بڑی تعداد نے مطالبہ کیا کہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

آپ کی رائے؟

آپ کے خیال میں سوشل میڈیا پر فیک نیوز روکنے کے لیے کیا اقدامات ہونے چاہییں؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین