پاک بھارت جنگ خطرناک ثابت ہوسکتی تھی، دنیا میں تنازعات امن کے لیے براہِ راست خطرہ بن چکے ہیں:اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم نے اپنی تقریر میں موسمیاتی تبدیلی کو بھی غیر معمولی چیلنج قرار دیا

اسلام آباد:نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ دنیا بھر میں جاری تنازعات نہ صرف علاقائی عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں بلکہ عالمی امن کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی اگر بروقت قابو نہ پائی جاتی تو یہ ایک خطرناک جنگ کی شکل اختیار کر سکتی تھی، جس کے نتائج ناقابلِ تلافی ہوتے۔

وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ ایک اہم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ دنیا اس وقت مختلف محاذوں پر سلگتے ہوئے تنازعات کا شکار ہے اور ایسی صورتحال میں عالمی سطح پر امن اور سفارتکاری پہلے سے زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مسلسل اس بات پر زور دیتا رہتا ہے کہ تنازعات کا حل مذاکرات، سفارتکاری اور تحمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

موسمیاتی تبدیلی 

نائب وزیراعظم نے اپنی تقریر میں موسمیاتی تبدیلی کو بھی غیر معمولی چیلنج قرار دیا۔ ان کے مطابق درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ، بار بار آنے والی تباہ کن بارشیں اور سیلاب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑا معاشی خطرہ بھی بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں موسمیاتی آفات نے پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، اور اگر عالمی برادری نے فوری اقدامات نہ کیے تو آئندہ حالات اور بھی خراب ہوسکتے ہیں۔

غزہ میں قتل عام کی مذمت

اسحاق ڈار نے تقریب کے دوران اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے عالمی قوتوں پر زور دیا کہ فلسطینیوں کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

جنوبی ایشیا کے چیلنجز

اپنے خطاب کے آخر میں نائب وزیراعظم نے جنوبی ایشیا کے اندرونی مسائل کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ خطے کو درپیش بڑے چیلنجز میں:

بڑھتی ہوئی غربت

بڑھتی ہوئی ناخواندگی

اور بار بار ہونے والی ناگہانی آفات

شامل ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مشترکہ علاقائی تعاون اور مضبوط حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے خطے میں امن، تعاون اور ترقی کو فروغ دینے کی پوری کوشش کر رہا ہے، اور دنیا کو بھی چاہیے کہ تشدد اور تنازعات کی بجائے بات چیت کے راستے کو ترجیح دے۔

اسحاق ڈار کے خطاب کا تناظر عالمی سیاسی ماحول کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی، یوکرین جنگ، اسرائیل-فلسطین تنازع اور پاک بھارت تناؤ نے دنیا کو ایک نازک موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔ ان کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ مئی میں پاک بھارت کشیدگی اگر بھڑک اُٹھتی تو جنوبی ایشیا میں جنگ کے خوفناک اثرات پوری دنیا کو ہلا سکتے تھے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان کی جانب سے سفارتکاری پر زور دینا ایک مثبت پیغام ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب طاقت کے استعمال کی سوچ عالمی سطح پر دوبارہ ابھر رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور اقتصادی بحران جیسے مسائل کے درمیان تنازعات کسی بھی ملک کو مزید کمزور کر سکتے ہیں۔

عوامی رائے بھی اس تقریر پر تقسیم دکھائی دی۔
کچھ شہری اسحاق ڈار کے امن پسند مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ کئی افراد سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر اور زیادہ مضبوط اور سرگرم کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رہ سکے۔
تاہم اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ پاک بھارت جنگ اگر چھڑ جاتی تو اس کے نتائج تباہ کن ہوتے۔

آپ کی رائے؟

عالمی تنازعات اور پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے اسحاق ڈار کے اس بیان کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین