واشنگٹن فائرنگ کیس:افغان شہری کے عدالت میں حیران کن مؤقف نے سب کو چونکا دیا

29 سالہ ملزم شدید زخمی حالت میں اسپتال میں زیرِ علاج ہے

امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب ہونے والی فائرنگ کے ہولناک واقعے میں نیشنل گارڈ کے ایک اہلکار کی ہلاکت اور دوسرے کے زخمی ہونے کے بعد گرفتار افغان شہری رحمان اللّٰہ لکنوال کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اس نے اپنے اوپر عائد تمام الزامات تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

29 سالہ ملزم شدید زخمی حالت میں اسپتال میں زیرِ علاج ہے، جس کے باعث اسے ویڈیو لنک کے ذریعے مجسٹریٹ رینی ریمنڈ کے سامنے پیش کیا گیا۔ دورانِ سماعت وہ مسلسل تکلیف کے باعث آنکھیں بند کیے رہا اور صرف ضروری سوالات کے مختصر جواب دیتا رہا۔ اس نے پراسیکیوٹرز کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات کی تردید کی۔

جج کے سخت ریمارکس

سماعت کے دوران جج رینی ریمنڈ نے کہا کہ موجودہ شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ ملزم مسلح ہو کر طویل سفر کے بعد واشنگٹن ایک خاص مقصد کے تحت پہنچا۔
جج کے ریمارکس نے اس کیس کی سنگینی اور آئندہ کارروائی کے حساس کردار کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

استغاثہ کا مؤقف

استغاثہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ واقعے کے وقت ملزم نے مبینہ طور پر "اللہ اکبر” کا نعرہ لگایا تھا، جس سے اس واقعے کے ممکنہ محرکات کے حوالے سے مزید سوالات جنم لے رہے ہیں۔
پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ ابھی کئی پہلوؤں پر تحقیق جاری ہے، جس میں ملزم کے سفر، ممکنہ روابط، ارادے اور محرکات کا تفصیلی جائزہ شامل ہے۔

عدالت نے ملزم کو آئندہ سماعت تک حراست میں رکھنے کا حکم دے دیا ہے، جبکہ استغاثہ کو مزید شواہد اور رپورٹس پیش کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

واشنگٹن جیسی انتہائی محفوظ اور حساس جگہ پر فائرنگ کا واقعہ امریکی سکیورٹی اداروں کے لیے واضح چیلنج ہے۔ اس مقدمے میں ملزم کے مؤقف اور جج کے ریمارکس سے اندازہ ہوتا ہے کہ معاملہ محض اتفاقی فائرنگ کا نہیں بلکہ ممکنہ طور پر منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے اقدام کا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، ملزم کی جانب سے الزامات کی تردید اس مقدمے کو مزید ج پیچیدہ بنا سکتی ہے، خاص طور پر جب وہ خود شدید تکلیف میں ہے اور ذاتی وضاحت دینے کی پوزیشن میں بھی مشکل سے ہے۔
امریکی تحقیقاتی ادارے اب اس بات کا تفصیلی جائزہ لیں گے کہ ملزم کا امریکا تک سفر، ہتھیاروں کی دستیابی اور واقعے کے پیچھے ممکنہ گروہ یا شخصیات کے ساتھ کوئی تعلق موجود ہے یا نہیں۔

عوامی سطح پر اس واقعے نے خوف اور تشویش پیدا کی ہے۔ امریکی شہری خصوصاً واشنگٹن ڈٰی سی کے رہائشی سوشل میڈیا پر مسلسل سوال اٹھا رہے ہیں کہ وائٹ ہاؤس کے قریب ہونے والی اس واردات تک ملزم کیسے پہنچا اور حفاظتی نظام میں کہاں خلا رہ گیا۔
کچھ صارفین واقعے کو دہشت گردی سے جوڑ رہے ہیں، جبکہ بعض افراد اسے امریکی سکیورٹی نظام کی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔

آپ کی رائے؟

کیا اس واقعے کے پیچھے منصوبہ بندی ہو سکتی ہے یا یہ محض انفرادی کارروائی ہے؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین