ممبئی( خصوصی رپورٹ)بالی ووڈ کے “خلجی” اور “منہا بھائی” سنجے دت نے 32 سال پرانے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے اپنی 5 سالہ قید کے دوران پیش آنے والے تکلیف دہ واقعات سے پردہ اٹھا دیا۔ ایک نجی انٹرویو میں سنجو بابا نے بابری مسجد انہدام، 1993 ممبئی بم دھماکوں، خاندان کو ملنے والی دھمکیوں اور جیل کی تنہائی پر کھل کر بات کی۔
“بابری مسجد گرنے کے بعد ہمارے گھر پر پتھراؤ ہوا، فون پر دھمکیاں آئیں، باپ، بہنوں اور ماں کی عزت پر حملے ہوئے۔ میں نے صرف اپنے خاندان کو بچانے کے لیے اسلحہ رکھا تھا۔ آج تک سمجھ نہیں آیا کہ مجھے جیل کیوں بھیجا گیا۔ 25 سال بعد عدالت نے خود تسلیم کیا کہ میرا ممبئی بم بلاسٹ کیس سے کوئی تعلق نہیں تھا،” سنجے دت نے لرزتی آواز میں کہا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جیل میں انہیں اکیلا سیل دیا گیا، جہاں وہ دن رات قانون کی کتابیں پڑھتے، دعائیں مانگتے اور خود سے باتیں کرتے رہے۔
“وہ 5 سال میری زندگی کے سب سے مشکل مگر سب سے بڑے سبق تھے۔ میں نے وہاں سیکھا کہ مشکلات کو شکست نہیں دینی، انہیں استاد ماننا ہے۔”
عدالت نے آخر مان ہی لیا
سنجے دت کو 1993 کے ممبئی سیریل بم دھماکوں کے سلسلے میں TADA کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ 2006-2007 میں ٹاڈا کورٹ نے انہیں 6 سال قید کی سزا سنائی، جن میں سے 18 مہینے پہلے ہی جیل میں گزار چکے تھے۔ 2013 میں سپریم کورٹ نے سزا کو 5 سال برقرار رکھا، جس کے بعد سنجے نے پھر جیل کاٹی۔ 2016 میں رہائی کے بعد بھی ان پر “دہشت گردی” کا لیبل لگا رہا، لیکن 25 سال بعد عدالت نے واضح کیا کہ بم دھماکوں سے ان کا کوئی براہ راست تعلق ثابت نہیں ہوا۔
آنے والی فلم “دھورندھر”
سنجو ان دنوں رنویر سنگھ کے ساتھ فلم “دھورندھر” کی شوٹنگ میں مصروف ہیں، جو ان کی زندگی کے اسی تلخ دور پر مبنی ہے۔ فلم میں سنجے دت خود اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
عوامی رائے
انٹرویو کی ویڈیو وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا پر ردعمل کا سیلاب بن گیا:
ایک صارف نے لکھا: “سنجے دت کو صرف مسلم خاندان ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا، آج بھی شرم آتی ہے۔”
دوسرے نے کہا: “سنجو بابا کی ہمت دیکھ کر رونے کو جی چاہتا ہے۔ 25 سال بعد انصاف ملا۔”
کئی نے لکھا: “یہ فلم ضرور دیکھیں گے، سچ سامنے آنا چاہیے۔”
سنجے دت کی یہ باتیں 1993 کے اس تاریک دور کی یاد تازہ کرتی ہیں جب بابری مسجد انہدام کے بعد پورے بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ سنیل دت اور نرگس دت کا بیٹا ہونے کے باوجود سنجے کو “مسلم دہشت گرد” کا لیبل لگا کر برسوں تک ذہنی اور جذباتی اذیت دی گئی۔
عدالتیں نے آخر کار تسلیم کر لیا کہ ان کا بم دھماکوں سے براہ راست تعلق نہیں تھا، لیکن جو 5 سال، جو عزت، جو ذہنی سکون چھین لیا گیا، وہ کون واپس کرے گا؟
سنجے دت کی کہانی ایک بار پھر ثابت کرتی ہے کہ قانون کے نام پر کبھی کبھی سب سے بڑی ناانصافی ہوتی ہے، اور جو لوگ اس ناانصافی کا شکار ہوتے ہیں، وہ یا تو ٹوٹ جاتے ہیں یا پھر سنجے دت بن جاتے ہیں۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا سنجے دت کے ساتھ ناانصافی ہوئی؟ کیا 1993 کے فسادات کے بعد بے گناہوں کو نشانہ بنایا گیا؟ فلم “دھورندھر” دیکھنے کا ارادہ ہے؟ کمنٹ سیکشن میں ضرور بتائیں!





















