این ایف سی اجلاس، وفاق اور صوبوں میں مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم کیلئے اہم فیصلہ

وفاق نے اپنے مالی مطالبات پیش کرنے کے بجائے صوبوں سے اُن کے اخراجات کی مکمل تفصیلات طلب کیں

اسلام آباد:گیارہویں این ایف سی اجلاس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ورکنگ گروپ تشکیل دینے کا اہم فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس کے دوران وفاق نے اپنے مالی مطالبات پیش کرنے کے بجائے صوبوں سے اُن کے اخراجات کی مکمل تفصیلات طلب کیں، تاہم سندھ نے یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے ایسا کرنے سے انکار کردیا کہ این ایف سی کا فورم آمدنی اور وسائل کا ہے، اخراجات کا نہیں۔

قومی مالیاتی کمیشن کے افتتاحی اجلاس میں سندھ اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ نے صوبائی وزرائے خزانہ کی حیثیت سے شرکت کی، جب کہ بلوچستان اور پنجاب کے وزرائے خزانہ کے علاوہ پرائیویٹ ممبران بھی موجود تھے۔

اجلاس میں وزارتِ خزانہ نے وفاقی مالی امور پر شرکا کو بریفنگ دی، جس کے بعد چاروں صوبوں کے نمائندوں نے اپنی مالی صورتحال اور وسائل کے جائزے سے متعلق تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے لیے ایک خصوصی ورکنگ گروپ قائم ہوگا،صوبوں میں ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنانے سے متعلق الگ ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا،جب کہ سابق فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام اور متعلقہ فنڈز کے تعین کے لیے بھی ایک الگ گروپ بنایا جائے گا۔مزید برآں، وسائل کی تقسیم کے پیچیدہ قانونی پہلوؤں پر اٹارنی جنرل آف پاکستان سے رائے لینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

این ایف سی اجلاس کے دوران جب وفاق نے صوبوں سے اخراجات کی تفصیلات طلب کیں تو سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے واضح مؤقف پیش کیا کہ یہ فورم ریونیو اور وسائل کا ہے، اخراجات کے حساب کتاب کا نہیں، لہٰذا وہ وفاق کو اخراجات کی تفصیلات فراہم نہیں کریں گے۔

دوسری جانب، ایف بی آر نے ٹیکس وصولیوں میں سے 5 فیصد حصہ صوبوں کو دینے کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مجموعی ریونیو پر دباؤ بڑھ جائے گا۔ تاہم صوبوں کے مالی حصے میں کسی ممکنہ کٹوتی پر اجلاس میں کوئی بات نہیں ہوئی۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے فی الحال صوبوں کے فنڈز میں کسی قسم کی کٹوتی کا عندیہ نہیں دیا، البتہ ایف بی آر نے ٹیکس وصولیوں میں سے پانچ فیصد اضافی حصہ صوبوں کو دینے کی تجویز کی واضح طور پر مخالفت کردی ہے۔

گیارہویں این ایف سی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے وزرائے اعلیٰ، صوبائی وزرائے خزانہ، سیکرٹریز اور دیگر ارکان کی شرکت پر اظہارِ تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا اجلاس نہ صرف ایک آئینی تقاضا ہے بلکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کا اہم موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

وزیر خزانہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن کا قیام آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 160 کے تحت عمل میں آیا تھا، جب کہ دسویں این ایف سی ایوارڈ کی مدت 21 جولائی 2025 کو ختم ہو چکی ہے۔ اسی پس منظر میں اس اجلاس کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ وفاقی حکومت کا واضح موقف رہا کہ گیارہویں این ایف سی کا پہلا اجلاس کسی تاخیر کے بغیر بلایا جائے، اور وزیراعظم نے بھی اس سلسلے میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ چاروں صوبوں نے بھی اس آئینی ذمہ داری کی بروقت ادائیگی کے لیے بھرپور تیاریاں کیں، تاہم پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے باعث اجلاس کا انعقاد مؤخر کرنا پڑا۔ ان کے مطابق این ایف سی سے متعلق خدشات اور قیاس آرائیوں کا بہترین حل کھرا، شفاف اور بروقت مکالمہ ہے، اور آج تمام اراکین اسی جذبے کے ساتھ موجود ہیں۔

محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ وفاق کی پہلی ترجیح صوبوں کی بات سننا ہے، اور انہیں امید ہے کہ صوبے بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعمیری تعاون اور وسیع النظری سے آگے بڑھیں گے۔ صوبوں کی جانب سے "نیشنل فِسکل پیکٹ” پر دستخط کو انہوں نے ایک اہم پیش رفت قرار دیا اور اسے قومی مفاد میں تعاون کی بہترین مثال کہا۔

وفاقی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ صوبوں کی جانب سے لازمی سرپلس کے اہداف کے حصول اور آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد کے سلسلے میں تعاون قابلِ تعریف ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال ملک کو بھارت کی جانب سے غیر معمولی خطرات اور تباہ کن سیلابوں جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ان مشکل حالات میں وفاق اور صوبے ایک مضبوط اکائی کی صورت متحد رہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جسے وہ گیارہویں این ایف سی ایوارڈ کے عمل میں بھی برقرار دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ این ایف سی کا بنیادی کردار ملکی وسائل کی منصفانہ تقسیم، مالیاتی استحکام اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔ یہ فورم ہمیں بہترین حکومتی ذہنوں کو ایک جگہ جمع کر کے مشترکہ سوچ اور موثر حکمتِ عملی کے دروازے کھولنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں بامقصد اور جامع مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا، اور امید ہے کہ تمام اراکین اسی سنجیدگی اور عزم کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ باہمی احترام، اتحاد اور تعاون ہی وہ اصول ہیں جن کی بنیاد پر ہم 11ویں این ایف سی ایوارڈ کو کامیابی سے ہمکنار کریں گے۔

اس حوالے سے خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ اجلاس میں مختلف معاملات کے لیے الگ الگ ورکنگ گروپس بنانے کی تجویز پر اتفاق ہوا ہے۔ مجموعی طور پر چھ سے سات ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے، جن کی نگرانی ایک مرکزی گروپ کرے گا۔ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام اور اسے مکمل طور پر مالیاتی ڈھانچے میں شامل کرنے کے لیے بھی ایک الگ ورکنگ گروپ قائم کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اجلاس خوشگوار ماحول میں ہوا، کسی پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا، سب کی بات توجہ سے سنی گئی اور صوبوں کے حصے میں کمی پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین