لودھراں :کھلے مین ہول میں گرنے سے 7 سالہ بچہ جاں بحق

راستے میں غفلت سے کھلا رہ جانے والا مین ہول ان کے سامنے آگیا، جس کے نیچے سیوریج لائن میں آٹھ سے دس فٹ تک گندا پانی بہہ رہا تھا

لاہور(خصوصی رپورٹر:ناصر بٹ)لودھراں میں کھلے مین ہول میں گرنے سے 7 سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق دھنوٹ کے علاقے میں ریاض آباد کالونی سے تعلق رکھنے والا سات سالہ ریحان اپنے والد کے ساتھ ناشتہ لینے سعید چوک آیا تھا۔ راستے میں غفلت سے کھلا رہ جانے والا مین ہول ان کے سامنے آگیا، جس کے نیچے سیوریج لائن میں آٹھ سے دس فٹ تک گندا پانی بہہ رہا تھا۔

والد کے ساتھ چلتے ہوئے ریحان اچانک اسی مین ہول میں جا گرا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور فوری آپریشن کیا گیا۔ بچے کو نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہوسکا۔

افسوسناک حادثے کے بعد اے ڈی سی جی کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جو واقعے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی ناصر بٹ کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے، کھلے مین ہولز پاکستان کے کئی شہروں میں ایک مستقل مسئلہ بن چکے ہیں۔ انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری شہری علاقوں میں سیوریج لائنز اور مین ہولز کو محفوظ بنانا ہے، مگر اکثر یہ ڈھکن ٹوٹ جاتے ہیں یا مرمت کے بہانے کھلے چھوڑ دیے جاتے ہیں اور متعلقہ محکمے اس پر فوری کارروائی نہیں کرتے۔ یہی لاپرواہی انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔ ریحان کا حادثہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شہری سہولیات کی نگرانی اور ان کی مرمت کے نظام میں سنگین خلا موجود ہے۔

مزید یہ کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب بچہ اپنے والد کے ساتھ ایک عام روزمرہ سرگرمی کے لیے گیا تھا۔ اس طرح کے حادثات یہ احساس دلاتے ہیں کہ شہری مقامات جہاں لوگ خود کو محفوظ سمجھتے ہیں، وہاں بھی انتظامی کمزوریاں چھپی ہوئی ہیں۔ 8 سے 10 فٹ گندے پانی سے بھرا ہوا مین ہول کھلا رہنا نہ صرف خطرناک بلکہ مجرمانہ غفلت ہے۔

ریسکیو ٹیموں نے بروقت کارروائی کی، تاہم ایسے واقعات میں چند منٹ بھی زندگی اور موت کے درمیان حد فاصل بن جاتے ہیں — خاص طور پر بچوں کے لیے۔ افسوس کہ ہر ممکن کوشش کے باوجود ریحان کو بچایا نہ جا سکا۔

انکوائری کمیٹی کی تشکیل پہلا قدم ضرور ہے لیکن اس مسئلے کا حل صرف کمیٹی بنانے میں نہیں بلکہ ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی اور مستقل بنیادوں پر انفراسٹرکچر کی بہتری میں ہے۔ جب تک واضح ذمہ داریاں طے نہیں کی جاتیں، سزا نہیں دی جاتی، اور شہری تحفظ کو اولین ترجیح نہیں بنایا جاتا، ایسے واقعات دوبارہ ہوتے رہیں گے۔

اس حادثے نے ثابت کر دیا کہ ہمارے شہروں میں بنیادی احتیاطی اقدامات تک کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ ایک خاندان نے اپنا بچہ کھو دیا، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس واقعے سے ہمارے نظام میں کوئی بہتری آئے گی یا نہیں؟ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور جب چھوٹے بچے بھی سڑکوں پر محفوظ نہ ہوں تو یہ مجموعی طرزِ حکمرانی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین