لاہور(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)پنجاب میں نئے ٹریفک قوانین کے نفاذ کے بعد ڈرائیونگ لائسنس کے حصول میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ صرف پانچ روز کے اندر 7 لاکھ 80 ہزار سے زائد شہریوں نے لائسنسنگ مراکز سے مختلف سہولیات حاصل کیں۔
ترجمان کے مطابق ٹریفک قوانین پر سختی کے نتیجے میں ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء میں 911 فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق:
3 لاکھ 72 ہزار سے زائد افراد نے لرننگ ڈرائیونگ لائسنس بنوائے۔
1 لاکھ 8 ہزار سے زیادہ شہریوں نے ریگولر ڈرائیونگ لائسنس حاصل کیے۔
2 لاکھ 98 ہزار سے زائد افراد نے لرننگ، ریگولر اور انٹرنیشنل لائسنس کی تجدید کروائی۔
جبکہ 56 ہزار سے زیادہ شہریوں نے گمشدہ لائسنس دوبارہ حاصل کیے۔
ڈی آئی جی ٹریفک محمد وقاص نذیر کے مطابق قوانین پر سختی نے شہریوں میں قانونی تقاضوں کی پاسداری کے رجحان کو نمایاں طور پر بڑھایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لائسنسنگ سنٹرز پر شہری بڑی تعداد میں موجود ہیں اور تمام لائسنس میرٹ اور مکمل شفافیت کے ساتھ جاری کیے جا رہے ہیں۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ٹریفک قوانین کی سختی کے نتیجے میں ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا میں 911 فیصد اضافہ صرف ایک انتظامی اقدام نہیں، بلکہ یہ عوامی رویوں، ریاستی نظم و ضبط اور شہری معاشرت میں تبدیلی کے اہم رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب قانون سخت بھی ہو اور اس پر عملدرآمد مؤثر بھی، تو شہری خود بخود قانونی تقاضوں کی پاسداری کی طرف مائل ہوتے ہیں۔
نئے ٹریفک قوانین کا بنیادی مقصد حادثات میں کمی، ٹریفک نظم و ضبط میں بہتری اور شہریوں کی قانونی ذمہ داریوں کو مضبوط بنانا تھا۔ قوانین کی سختی نے فوری طور پر شہریوں کو متحرک کیا، جس کا نتیجہ پانچ روز میں 7 لاکھ 80 ہزار سے زائد شہریوں کا لائسنسنگ مراکز کا رخ کرنا ہے۔ یہ تعداد بتاتی ہے کہ پہلے لوگ قانون کی نرمی یا کمزور عملدرآمد کی وجہ سے لائسنس کو اہمیت دیتے ہی نہیں تھے۔
3 لاکھ 72 ہزار لرننگ لائسنس اس بات کا ثبوت ہیں کہ بڑی تعداد میں ایسے افراد بغیر لائسنس گاڑی چلا رہے تھے یا انہیں اس کی ضرورت کا احساس اب ہوا۔
1 لاکھ 8 ہزار ریگولر لائسنس اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ لوگ اب مستقل طور پر قانونی طور پر ڈرائیونگ کرنا چاہتے ہیں۔
2 لاکھ 98 ہزار افراد کی لائسنس تجدید اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ بنیادی دستاویزی عمل بھی حد سے زیادہ نظرانداز کیا جاتا رہا۔
56 ہزار گمشدہ لائسنس کا دوبارہ اجرا شہریوں میں رجسٹریشن کو برقرار رکھنے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی علامت ہے۔
یہ مجموعی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ قوانین پر عمل نہ کرنے کی عادت کتنی گہری تھی اور سختی نے کس طرح عام شہری کو ذمہ داری کا احساس دلایا۔
اتنی بڑی تعداد میں لائسنس کا اجرا مستقبل میں بہتر ٹریفک نظم و نسق کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ لائسنس حاصل کرنے کے ساتھ شہری ٹریفک قوانین سے واقف ہوتے ہیں اور ان کی خلاف ورزی کے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔ تربیت یافتہ ڈرائیور سڑکوں پر حادثات، رش اور خطرناک ڈرائیونگ میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔
اگر اس اقدام کے بعد شہریوں کو جدید تربیتی کورسز، عملی ڈرائیونگ ٹیسٹ، ٹریفک آگاہی مہمات اور سڑکوں کے بہتر انفراسٹرکچر سے جوڑا جائے، تو یہ تبدیلی دیرپا ثابت ہو سکتی ہے۔
اگرچہ لائسنس مرکزوں پر رش ایک مثبت علامت ہے، لیکن یہ انتظامیہ کے لیے بڑا امتحان بھی ہے۔ طویل قطاریں، انتظار کے اوقات، عملے کی تعداد اور سہولیات میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔ اگر اس مرحلے پر شفافیت اور میرٹ میں کوئی کمزوری سامنے آئی، تو عوام کا اعتماد متاثر ہوسکتا ہے۔
مزید یہ کہ 911 فیصد اضافہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ بغیر لائسنس ڈرائیونگ کس قدر عام تھی۔ جب تک اس کلچر کو مستقل بنیادوں پر کنٹرول نہیں کیا جاتا، ٹریفک اصلاحات پوری طرح موثر نہیں ہو سکتیں۔
ڈی آئی جی محمد وقاص نذیر کے مطابق قوانین کی سختی نے شہریوں میں ضابطوں کی پابندی کا رجحان بڑھایا ہے۔ یہ ایک مثبت علامت ضرور ہے مگر اس رجحان کو برقرار رکھنے کے لیے قانون پر مستقل سختی، پیروی اور ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے۔ بصورت دیگر چند ماہ بعد عوام دوبارہ پرانی روش پر جا سکتے ہیں۔
پنجاب میں لائسنس کے اجرا میں 911 فیصد اضافہ ایک تاریخی اور غیر معمولی پیش رفت ہے جو بتاتی ہے کہ قانون کی مضبوط گرفت ہی شہری معاشرت کو سدھار سکتی ہے۔ اگر انتظامیہ اس رفتار کو منظم، شفاف اور جدید سہولیات کے ساتھ برقرار رکھے تو آنے والے برسوں میں ٹریفک حادثات، قوانین کی خلاف ورزیوں اور بے ڈھنگی ڈرائیونگ میں نمایاں کمی ممکن ہے۔





















