اسلام آباد:الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے بیرسٹر گوہر علی خان کو باضابطہ طور پر چیئرمین تحریک انصاف تسلیم نہ کرنے کے فیصلے نے پارٹی کی موجودہ سیاسی حیثیت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی تحریک انصاف عملاً ایسے دوراہے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں سے اس کی فعال سیاسی شناخت تقریباً ختم ہوتی محسوس ہو رہی ہے۔
تحریک انصاف پہلے ہی اپنی رجسٹریشن کے خاتمے کی وجہ سے انتخابی عمل سے باہر ہو چکی تھی۔ حکومتی حلقے اس کے غیر رجسٹرڈ ہونے کے باعث اسے کالعدم تنظیم قرار دینے پر غور تو کر رہے تھے، مگر یہ معاملہ حتمی مراحل تک نہ پہنچ سکا۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے پارٹی کی قانونی حیثیت اور چیئرمین شپ کو تسلیم نہ کرنا وہ بڑا سبب بن گیا جس نے اس پر پابندی کے عمل میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر دیں تھیں۔
سیاسی و پارلیمانی معاملات سے گہری واقفیت رکھنے والے معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے ارکان نے بھی تحریک انصاف سے اپنی وابستگی کو قابل قبول قرار نہ دیتے ہوئے راستہ جدا کر لیا ہے۔ اس صورتحال میں پی ٹی آئی کو ایوانِ بالا میں سب سے چھوٹے گروپ کی حیثیت دے دی گئی ہے، جو اس کی کمزور ہوتی پارلیمانی طاقت کا واضح اشارہ ہے۔
نواحی علاقوں میں ریڈ زون نافذ
اسی دوران اڈیالہ جیل کے گرد و نواح میں سکیورٹی کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا گیا ہے۔ پولیس کے اضافی دستے پیر کی صبح ہی تعینات کر دیے گئے ہیں جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید نفری بھی بلانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ حکام نے سکیورٹی اہلکاروں کی درست تعداد میڈیا سے شیئر کرنے سے گریز کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق رینجرز کو بھی ہنگامی بنیادوں پر اڈیالہ طلب کر کے الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ جیل کے تحفظ کے لیے تین سطحی مستقل سکیورٹی انتظامات قائم کیے گئے ہیں۔ نئے سکیورٹی پروٹوکول کے تحت کوئی بھی غیر متعلقہ فرد پہلے ناکے سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ صرف وہی افراد اندر جا سکیں گے جن کے نام جیل انتظامیہ کی فراہم کردہ فہرست میں درج ہوں گے۔
جیل سے وابستہ داخلی ذرائع نےنجی اخبار کو بتایا ہے کہ تحریک انصاف کے بانی کو دی جانے والی سہولتیں پہلے کی طرح برقرار ہیں، تاہم ان کی جانب سے لاہور کے اسپتال سے اپنی ذاتی میڈیکل ٹیم بلوانے کی درخواست منظور کیے جانے کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔ جیل انتظامیہ نے تمام قیدیوں کے لیے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ اگر انہیں علاج کی ضرورت ہو تو دن میں تین بار آنے والے جیل کے سرکاری ڈاکٹروں سمیت اسلام آباد اور راولپنڈی کے ماہر ترین معالجین کو بھی طلب کیا جاسکتا ہے، البتہ اس کے لیے جیل ڈاکٹر کی سفارش لازمی ہوگی۔
تحریک انصاف کے لیے حالات پہلے ہی مشکل تھے، مگر الیکشن کمیشن کے تازہ فیصلے نے اسے سیاسی طور پر مزید تنہا اور غیر فعال کر دیا ہے۔ پارٹی کی سربراہی کو قانونی حیثیت نہ ملنا، پارلیمنٹ میں نشستوں کا بکھر جانا، اور ادارہ جاتی سطح پر درپیش چیلنجزیہ سب مل کر مستقبل کی سمت کو غیر واضح بنا رہے ہیں۔ دوسری جانب اڈیالہ جیل کے گرد بڑھتی ہوئی سکیورٹی اس حساس سیاسی ماحول کی عکاسی کرتی ہے جس میں ہر قدم احتیاط کا متقاضی ہے۔
عوامی رائے
عام شہریوں میں اس صورتحال پر ملا جلا ردعمل دیکھا جا رہا ہے۔کچھ لوگ اسے قانون کی بالادستی سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کو اپنی قانونی ذمہ داریوں کا پابند ہونا چاہیے۔دوسری طرف بہت سے افراد اسے سیاسی انتقام کے طور پر دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سے سیاسی عدم استحکام میں مزید اضافہ ہوگا۔کچھ حلقوں کا خیال ہے۔ کہ ملک میں پہلے ہی تناؤ کی فضا ہے اور اس طرح کے فیصلے سیاسی تقسیم کو اور گہرا کر دیں گے۔
میری رائے
میری نظر میں، اس صورتحال نے پاکستان کے سیاسی نقشے میں ایک اہم موڑ پیدا کر دیا ہے۔ کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کا غیر فعال ہو جانا جمہوری ماحول کے لیے مثبت اشارہ نہیں سمجھا جاتا۔ ریاستی اداروں کو قوانین کے نفاذ میں توازن کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ اب سوال یہ ہے کہ مستقبل میں پی ٹی آئی اپنی تنظیمی حیثیت اور سیاسی بقا کو کیسے بحال کرے گی،یا پھر یہ باب واقعی اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے؟





















