دبئی:یو اے ای کی کرکٹ ٹیم نے آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شان دار کھیل پیش کرنے کا عزم کر لیا ہے۔ کپتان محمد وسیم کے مطابق ٹیم کی تمام توجہ اس وقت اپنی کارکردگی کو نکھارنے پر ہے، اور اگر وہ میچ کے روز وہی کھیل دکھانے میں کامیاب ہو گئے جو وہ جانتے ہیں، تو کسی بھی مضبوط حریف کو شکست دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ آئندہ سال فروری اور مارچ کے دوران بھارت اور سری لنکا میں منعقد ہوگا۔ یو اے ای نے کوالیفائر میں بہت عمدہ کارکردگی دکھاتے ہوئے عالمی ایونٹ میں رسائی حاصل کی۔ ٹیم گروپ ڈی میں نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، افغانستان اور کینیڈا جیسی مضبوط ٹیموں کے ساتھ شامل کی گئی ہے، جس سے مقابلے خاصے سخت ہونے کی توقع ہے۔
کپتان محمد وسیم کا خصوصی انٹرویو
دبئی میں نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کپتان نے کہا کہ ورلڈکپ میں شرکت پوری ٹیم کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ ’’ہمارا یہ سال بہت بہترین گزرا ہے۔ ایشیا کپ کھیلنے کا موقع ملا اور اب ورلڈکپ میں جگہ بنانا ہمارے لیے بڑی کامیابی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ٹیم کے تمام کھلاڑی عالمی اسٹیج پر بہتر کارکردگی دکھانے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ ’’ہم فی الحال اپنے مخالفین کے بارے میں زیادہ نہیں سوچ رہے کیونکہ ہماری اصل توجہ اپنی بہتر تیاری پر ہے۔ اگر میچ کے دن ہم اپنی بہترین کرکٹ کھیلیں تو کسی بھی ٹیم کو مات دے سکتے ہیں۔‘‘
متوازن کمبی نیشن اور ٹیم ورک پر زور
وسیم کے مطابق یو اے ای کی ٹیم اس وقت کافی مضبوط اور متوازن اسکواڈ رکھتی ہے۔ تجربہ کار کھلاڑیوں کے ساتھ باصلاحیت نوجوان بھی شامل ہیں جو ٹیم کے کمبی نیشن کو مستحکم بناتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فتح کسی ایک کھلاڑی پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ ٹیم ورک ہی کسی بھی بڑی کامیابی کی بنیاد ہوتا ہے۔
انہوں نے اپنی ذاتی کارکردگی پر بھی اطمینان ظاہر کیا اور کہا کہ وہ کوشش کریں گے کہ موجودہ فارم برقرار رکھیں۔ ’’جس طرح بیٹنگ اور قیادت کر رہا ہوں، امید ہے اسی تسلسل کو برقرار رکھوں گا۔‘‘
ٹیسٹ ٹیموں کے خلاف کارکردگی میں بہتری کا عزم
انہوں نے بتایا کہ یو اے ای کی ٹیم نے حال ہی میں نیوزی لینڈ، بنگلادیش اور افغانستان کو شکست دی ہے، جو ٹیم کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔ ’’اگرچہ ٹیسٹ اقوام کو ہرانا آسان نہیں ہوتا، لیکن ہم پراعتماد ہیں کہ جن ٹیموں کو آج ہم سخت مقابلہ دینے کے باوجود نہیں ہرا پا رہے، آنے والے دنوں میں ان پر بھی فتح حاصل کریں گے۔‘‘
کپتان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت چونکہ ان کے گروپ میں شامل نہیں، اس لیے ٹیم کسی مخصوص حریف کے بارے میں نہیں سوچ رہی۔ ’’ہم اپنی محنت جاری رکھیں گے اور جس بھی ٹیم کے مدمقابل آئیں گے اسے بھرپور چیلنج دیں گے۔‘‘
ذاتی سفر اور پسندیدہ کھلاڑی
محمد وسیم نے بتایا کہ ان کا سفر آسان نہیں تھا۔ ’’میں نے کرکٹ پاکستان میں شروع کی، پھر یو اے ای آ کر اپنا کیریئر بنایا۔ دونوں ممالک نے مجھے عزت دی، حمایت دی اور اسی وجہ سے آج میں اس مقام تک پہنچا ہوں۔‘‘
قومی ٹیم کی نمائندگی کے امکان پر انہوں نے کوئی رائے دینے سے گریز کیا، تاہم کہا کہ اگر وہ پاکستان میں اسی معیار کی کرکٹ کھیلتے جو آج کھیل رہے ہیں، شاید انہیں موقع مل جاتا۔
اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کے حوالے سے انہوں نے مزاحاً پہلے خود کو اپنا پسندیدہ کرکٹر کہا، پھر بتایا کہ کیرون پولارڈ سے بہت کچھ سیکھا، نکولس پوران بھی اعلیٰ معیار کے کھلاڑی ہیں جبکہ مجموعی طور پر اے بی ڈی ویلیئرز ان کے پسندیدہ کرکٹر ہیں۔ اس کے علاوہ فخر زمان سے تعلق اور ان کی جارحانہ بیٹنگ کی بھی تعریف کی۔
آئی ایل ٹی ٹوئنٹی کا معیار
کپتان نے آئی ایل ٹی ٹوئنٹی کو بہترین ٹورنامنٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا معیار انتہائی بلند ہے اور اس میں شرکت کھلاڑیوں کو مزید نکھارتی ہے۔
یو اے ای کی موجودہ ٹیم اس وقت اپنی بہترین فارم اور اعتماد کے ساتھ ورلڈکپ کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اگرچہ گروپ ڈی میں شامل ٹیمیں تجربہ کار اور مضبوط ہیں، مگر یو اے ای کی کارکردگی گزشتہ ایک سال میں واضح طور پر بہتر ہوئی ہے۔ ٹیم ورک، سخت محنت اور ایک مثبت ذہنیت ان کی کامیابی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ محمد وسیم کی قیادت بھی اس ٹیم کے لیے بڑا اثاثہ ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ وہ نہ صرف خود اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کو بھی اعتماد دے رہے ہیں۔
عوامی رائے
شائقین کرکٹ یو اے ای کی مسلسل بہتر ہوتی کارکردگی سے خوش ہیں اور انہیں امید ہے کہ ٹیم اس مرتبہ ورلڈکپ میں بڑے اپ سیٹ کر سکتی ہے۔
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ٹیسٹ اقوام کے خلاف مسلسل میچ کھیلنا ہی یو اے ای کو عالمی معیار تک لے جانے کا بہترین راستہ ہے۔
شائقین کا ایک طبقہ محمد وسیم کی لیڈرشپ کو ٹیم کے لیے نئی توانائی کا سبب قرار دیتا ہے۔
میری رائے
میرے نزدیک یو اے ای کی ٹیم اس وقت ترقی کے جس سفر پر ہے، وہ آنے والے سالوں میں انہیں زیادہ مضبوط مقام تک لے جا سکتا ہے۔ ٹیم کا کمبی نیشن مستحکم ہے، قیادت اعتماد سے بھرپور ہے اور حالیہ فتوحات ان کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا ثبوت ہیں۔ اگر یہ ٹیم اپنی محنت اور تسلسل برقرار رکھے تو ورلڈکپ میں اہم ٹیموں کے خلاف حیران کن نتائج پیش کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔





















