آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 1.3 ارب ڈالر کی نئی قسط منظور کر لی

 پہلی قسط ایک ارب ڈالر ستمبر 2024 میں مل چکی تھی۔

واشنگٹن / اسلام آباد:پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے جہاں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ملک کے لیے 1 ارب 30 کروڑ ڈالر کی نئی قسط کی منظوری دے دی۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ کا اجلاس واشنگٹن میں منعقد ہوا، جس میں توسیعی فنڈ سہولت (EFF) پروگرام کے تحت پاکستان کے لیے قرض کی تیسری قسط کی منظوری دی گئی۔

وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق سات ارب ڈالر کے EFF پروگرام کے تحت پاکستان کو ایک ارب ڈالر سے زائد کی یہ نئی قسط جلد موصول ہو جائے گی، جب کہ 20 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی اضافی رقم بھی پہلی قسط کے طور پر فراہم کی جائے گی۔ نئی قسط کے اجراء کے بعد دونوں قرض پروگرامز کے تحت پاکستان کو ملنے والی مجموعی رقم 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

پس منظر

پاکستان کو ای ایف ایف پروگرام کے تحت
 پہلی قسط ایک ارب ڈالر ستمبر 2024 میں مل چکی تھی۔
 دوسری قسط ایک ارب ڈالر مئی 2025 میں موصول ہوئی۔

یہ موجودہ منظوری اس پروگرام کی تیسری قسط ہے، جو کہ 37 ماہ کے قرض پروگرام کے تسلسل میں ایک اور اہم سنگِ میل ہے، جسے پاکستان نے ستمبر 2024 میں حاصل کیا تھا۔

آئی ایم ایف کا مؤقف

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ نے نہ صرف قرض کی نئی قسط کی منظوری دی بلکہ پاکستان کے دوسرے اقتصادی جائزے (Second Review) کو بھی قبول کر لیا ہے۔ بورڈ نے جاری پروگرام پر پاکستان کی جانب سے عمل درآمد کو مضبوط اور اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشی اصلاحات کی رفتار برقرار رکھنا ملک کے مفاد میں ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ مالیاتی نظم و ضبط اور معاشی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھتے ہوئے اصلاحاتی اقدامات جاری رکھے گی۔

نئی قسط سے اقتصادی صورتِ حال پر ممکنہ اثرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ 1.3 ارب ڈالر کی یہ منظوری پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بہتری لانے، مالیاتی پالیسی کو سہارا دینے اور عالمی سطح پر اعتماد بحال کرنے میں مدد دے گی۔ مشکل معاشی حالات اور مالیاتی دباؤ کے تناظر میں یہ رقم ایک وقتی ریلیف کے طور پر کام کرے گی، تاہم پائیدار بہتری کے لیے اصلاحات کا جاری رہنا ناگزیر ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے نئی قسط کی منظوری پاکستان کی موجودہ معاشی حکمت عملی پر عالمی اداروں کے اعتبار کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف حکومتی اقدامات پر اعتماد کی علامت ہے بلکہ اس بات کی بھی تصدیق ہے کہ پاکستان اپنی معاشی سمت درست کرنے کی کوششوں میں سنجیدہ ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ مالی معاونت ملکی معاشی مشکلات کا مکمل حل فراہم کر سکتی ہے؟
جب تک ٹیکس نیٹ وسیع نہیں ہوتا، حکومتی اخراجات کم نہیں ہوتے اور معاشی پالیسیوں میں پائیدار اصلاحات نہیں ہوتیں، صرف قرضے وقتی سہارا تو دے سکتے ہیں لیکن مستقل حل فراہم نہیں کر سکتے۔

پاکستان کو قرضوں کے انحصار سے نکل کر خود کفالت کی جانب بڑھنے کے لیے سخت اور اصلاحاتی فیصلے جاری رکھنے ہوں گے۔ ورنہ ہر نئی قسط محض ایک اور وقتی سہارا بن کر رہ جائے گی۔

عوامی رائے

 عام شہریوں کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے ملنے والا قرض وقتی آسانی تو لاتا ہے لیکن مہنگائی اور ٹیکسوں میں اضافے کی صورت میں عام آدمی پر مزید بوجھ بھی ڈال دیتا ہے۔
 کاروباری طبقہ اسے معاشی استحکام کی طرف ایک مثبت قدم قرار دے رہا ہے، کیونکہ ڈالر کے ذخائر بہتر ہونے سے مارکیٹ میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔
 کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ حکومت کو بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرتے ہوئے اپنی معاشی صلاحیتوں کو خود بہتر بنانا چاہیے۔

میری رائے

میرے نزدیک آئی ایم ایف کی قسط پاکستان کے لیے ایک ضروری مالی سہارا ضرور ہے، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب معیشت اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے۔ قرضے وقتی آسانی فراہم کرتے ہیں مگر مستقل ترقی کا راستہ صرف معاشی نظم و ضبط، بروقت فیصلوں اور شفاف پالیسیوں سے ہی ممکن ہے۔
اگر حکومت اصلاحات میں تسلسل برقرار رکھتی ہے، تو آنے والے برسوں میں پاکستان اپنی معاشی بحالی کے سفر کو مضبوط بنیادیں فراہم کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین