صدر زیلنسکی کی 90 دن کے اندر مشروط عام انتخابات پر رضامندی

جنگی حالات میں انتخابات کے لیے مغربی اتحادی سکیورٹی کی مکمل ضمانت دیں:یوکرینی صدر

روم / کیف:یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ ملک آئندہ 60 سے 90 دن کے اندر عام انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے، تاہم یہ عمل صرف اس صورت میں ممکن ہوگا جب مغربی اتحادی انتخابی سکیورٹی کی مکمل اور مضبوط ضمانت فراہم کریں۔ جنگ زدہ صورتحال میں عام انتخابات کرانے کے حوالے سے یہ سب سے اہم اور واضح بیان سمجھا جا رہا ہے۔

اٹلی کے دورے کے بعد اپنے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ وہ انتخابی عمل میں تاخیر کے حامی نہیں، لیکن موجودہ حالات میں بنیادی رکاوٹ سکیورٹی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یوکرین اس وقت بھی میزائل حملوں، ڈرون حملوں اور شدید جنگی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے، جس میں عام شہریوں اور فوجیوں کے لیے ووٹ ڈالنا ایک مشکل ترین عمل ہے۔

مغربی اتحادیوں سے براہِ راست اپیل

زیلنسکی نے کہا“میں انتخابات کے لیے تیار ہوں، مگر یہ عمل اس وقت تک محفوظ نہیں ہوسکتا جب تک امریکہ اور یورپی اتحادی انتخابی سکیورٹی کی مکمل ضمانت نہیں دیتے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کے مغربی شراکت داروں کا کردار اس مرحلے پر نہایت اہم ہے کیونکہ ملک کے کئی علاقوں میں روس کی جانب سے مسلسل حملے جاری ہیں، اور ایسی صورتحال میں انتخابی سرگرمیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

ٹرمپ کے بیان پر سخت ردِعمل

صدر زیلنسکی کا یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ یوکرین کی قیادت جنگ کو انتخابات مؤخر کرنے کا بہانہ بنا رہی ہے اور انتخابات "اب ہونے چاہئیں”۔
زیلنسکی نے اس تاثر کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا
میں اقتدار سے چمٹے رہنے کا خواہش مند نہیں ہوں۔ میری اولین ترجیح ملک کی سکیورٹی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ مسلسل میزائل حملوں کے دوران لوگ ووٹ کیسے ڈال سکتے ہیں؟ فوجی پولنگ اسٹیشن تک کیسے پہنچیں گے؟ شہریوں کا تحفظ کون یقینی بنائے گا؟

مارشل لا میں انتخابات

یوکرینی صدر نے بتایا کہ انہوں نے پارلیمنٹ سے باضابطہ درخواست کی ہے کہ مارشل لا کے نفاذ کے باوجود انتخابات کرانے کے لیے ضروری قانون سازی کی تیاری کی جائے۔
مارشل لا کی موجودگی میں انتخابی سرگرمیوں کی اجازت دینا یوکرین کے لیے ایک بڑا قانونی چیلنج ہے، جسے دور کرنے کے لیے شفاف قانون سازی ناگزیر ہے۔

زیلنسکی نے کہا کہ وہ انتخابی عمل کے حوالے سے اپنے اتحادیوں کے احترام میں بات کر رہے ہیں، مگر فیصلہ صرف یوکرینی عوام کا ہوگا کہ ملک کس سمت جانا چاہیے۔

یوکرین اس وقت اپنی جدید تاریخ کی سب سے مشکل گھڑی سے گزر رہا ہے۔ جنگی حالات میں انتخابات کرانا ایک غیر معمولی اور پیچیدہ عمل ہے، جس کے لیے وسیع سکیورٹی انتظامات، شفافیت اور سیاسی استحکام ضروری ہیں۔

زیلنسکی کا مشروط انتخابات پر رضامند ہونا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی دباؤ کو مسترد نہیں کر رہے، مگر زمینی حقائق پر بھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے۔ ان کا موقف واضح ہے کہ بغیر سکیورٹی کسی بھی قسم کا انتخابی عمل عوام کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

ٹرمپ کا دباؤ یوکرین کے داخلی معاملات میں ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دیتا ہے، مگر زیلنسکی اس بیانیے کو متوازن رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ نہ تو داخلی عدم استحکام بڑھے اور نہ اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں۔

اگر مغربی ممالک سکیورٹی اور مالی معاونت فراہم کرتے ہیں تو اگلے چند ماہ یوکرین میں جمہوری تسلسل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔

عوامی رائے

 یوکرین کے شہریوں میں رائے تقسیم ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ جنگ کی حالت میں انتخابات کا انعقاد خطرناک ہوسکتا ہے۔
 دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ جمہوریت کا تسلسل برقرار رکھنا ضروری ہے، چاہے حالات کیسے بھی ہوں۔
 یورپ میں عام خیال یہ ہے کہ انتخابات کرانا تب ہی موثر ہوگا جب روسی حملوں کا خطرہ کم ہو یا اتحادی مضبوط حفاظتی بندوبست کر دیں۔

میری رائے

میرے مطابق زیلنسکی نے ایک محتاط مگر حقیقت پسند مؤقف اپنایا ہے۔ انتخابات جمہوریت کا بنیادی جز ہیں، مگر جنگ زدہ ملک میں انتخابات کا انعقاد بغیر سکیورٹی ایک غیر ذمہ دارانہ قدم ہوگا۔
اگر مغربی اتحادی عملی طور پر سکیورٹی اور نگرانی فراہم کر سکتے ہیں تو یہ یوکرین کے سیاسی مستقبل کے لیے مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے۔ تاہم زمینی حقائق کو نظر انداز کرنا خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین