پاکستان میں پانی کے بحران پر ایشیائی بینک کی رپورٹ ہوشربا ہے: خرم نواز گنڈاپور

مالیاتی ادارے نے ٹیکنیکل صلاحیت اور کوآرڈینیشن پر سوال اٹھائے ہیں، 80فیصد شہری صاف پانی سے محروم ہیں

لاہور(رپورٹ:محمد اورنگزیب خان)پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے پاکستان میں پانی کے شدید تر ہوتے بحران کی نشاندہی پر مبنی ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ کو ہوشربا قرار دیتے ہوئے فوری سنجیدہ اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق پانی اور صفائی کے ناقص آبی نظام کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ 2.2ارب ڈالر کا نقصان ہورہا ہے اور یہ کہ 80فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔ رپورٹ کے مطابق پانی کا مفید استعمال کم اور ضیاع زیادہ ہے۔ زراعت کا شعبہ پانی ضائع کرنے میں سرفہرست قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان خشک سالی کے خطرناک بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ زیر زمین پانی کے بے تحاشا استعمال کے باعث آرسینک پھیل رہا ہے جو انسانی زندگیوں کے لئے خطرناک ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے ٹیکنیکل صلاحیت اور کوآرڈینیشن پر نہایت سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔

بینک نے پانی کے معیار کی موثر نگرانی کے لئے ایک آزاد اتھارٹی کے قیام کی سفارش کی ہے۔ بینک نے اس خطرہ سے بھی آگاہ کیا ہے کہ پاکستان نے اس طرف توجہ نہ دی تو معاشی ترقی کے لئے کی جانی والی کوششیں رائیگاں چلی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلیوں میں ہر ایشو زیر بحث آتا ہے مگر جو ایشوز ریاست کی مضبوطی اور بقا سے تعلق رکھتے ہیںان پر کوئی بات نہیں کرتا۔ پاکستان میں پانی کے مسائل اور متوقع بحران پر بینک کی رپورٹ کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے اور بلاتاخیر ضروری اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔عام شہریوں میں شعور اجاگر کیاجائے کہ پانی کا ضیاع روکا جائے اور زراعت میں ایسے ہائبرڈ بیجز اور جدید زرعی ٹیکنیکس کا استعمال کیاجائے جس میں کم پانی درکار ہوتا ہے۔ پانی زندگی ہے اور ہم مسلسل اس سے کھلواڑ کررہے ہیں۔

اسے بھی پڑھیں:پاکستان شدید پانی کے بحران کا شکار ،ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ میں چونکادینے والےانکشافات

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی محمد اورنگزیب خان نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پانی کا بڑھتا ہوا بحران اب محض ایک ماحولیاتی یا انتظامی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ریاست کی بقا، معاشی ترقی اور انسانی صحت کے لیے ایک سنگین خطرے کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی تازہ رپورٹ نے جس شدت کے ساتھ حالات کی سنگینی کو اُجاگر کیا ہے، وہ اس امر کی طرف واضح اشارہ ہے کہ پاکستان اپنی آبی پالیسیوں میں عملی اصلاحات اور فوری اقدامات کے بغیر مستقبل میں شدید معاشی اور سماجی عدم استحکام کا سامنا کرسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سالانہ 2.2 ارب ڈالر کا نقصان ناقص آبی نظام، کمزور صفائی کے ڈھانچے اور غیر مؤثر پانی مینجمنٹ کی وجہ سے ہورہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پانی کا مسئلہ سرفہرست قومی ترجیح ہونا چاہیے۔ اس وقت 80 فیصد ملک صاف پینے کے پانی سے محروم ہے، زیرِ زمین پانی کے بے قابو استعمال نے آرسینک جیسے زہریلے عناصر کی مقدار بڑھا دی ہے، جب کہ زراعت—جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے—سب سے زیادہ پانی ضائع کرنے والے شعبوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان پانی کے ضیاع کے ساتھ ساتھ اپنی زرعی پیداواری استعداد بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔

ایشائی ترقیاتی بینک نے نہ صرف موجودہ حالات پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ ایک آزاد اتھارٹی کے قیام کی سفارش بھی کی ہے جو پانی کے معیار اور تقسیم کی سخت نگرانی کرسکے۔ یہ سفارش دراصل اس بنیادی خلا کی نشاندہی کرتی ہے جو برسوں سے پانی کے شعبے میں موجود ہے—یعنی ادارہ جاتی ہم آہنگی، تکنیکی صلاحیت اور واضح نگرانی کا فقدان۔ سیاسی سطح پر صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے؛ کیونکہ پارلیمنٹ اور متعلقہ فورمز پر ان معاملات پر سنجیدہ بحث کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ پانی جیسے وجودی مسئلے کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے، حالانکہ اس پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو معاشی ترقی کے تمام منصوبے بے اثر ہوسکتے ہیں۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پانی کے استعمال میں اصلاحات، ضیاع میں کمی، جدید زرعی ٹیکنیکس، ہائبرڈ بیجوں کے فروغ اور عوامی سطح پر شعور بیداری کو قومی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا جائے۔ شہروں اور دیہات میں واٹر مینجمنٹ، ذخائر کی تعمیر، ری سائیکلنگ، اور زیرِ زمین پانی کے استعمال پر پابندیوں جیسے اقدامات میں تاخیر اب قومی نقصان کو بڑھائے گی۔ یہ حقیقت تسلیم کرنا ناگزیر ہے کہ "پانی زندگی ہے” مگر ہم بدقسمتی سے اس بنیادی حقیقت کو نظر انداز کرتے چلے آرہے ہیں۔ پانی سے مسلسل کھلواڑ نہ صرف موجودہ نسل کے لیے خطرہ ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک تباہ کن وراثت چھوڑے گا، اس لیے فوری، مربوط اور فیصلہ کن عملی اقدامات کے بغیر اس بحران سے نکلنے کا کوئی راستہ موجود نہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین