’’عشقِ پاکستان‘‘ اور ’’عشقِ عمران‘‘ میں واضح لکیر کھینچی جا چکی ہے: اختیار ولی

نی پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے تمام دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو چکے ہیں

اسلام آباد:وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر برائے اطلاعات خیبر پختونخوا، اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے تمام دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو چکے ہیں، کیونکہ ملک میں ’’عشقِ پاکستان‘‘ اور ’’عشقِ عمران‘‘ کے درمیان اب ایک صاف اور واضح لکیر کھینچی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اسی پاک فوج پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی جس نے دنیا بھر میں پاکستان کا وقار بلند کیا۔ بانی پی ٹی آئی کے حالیہ ٹویٹ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ وہ بات ہے جسے نہ پی ٹی آئی تسلیم کر سکتی ہے اور نہ اس سے پھر سکتی ہے۔ پشاور جلسہ اس کی مثال ہے جہاں پورے ملک سے لوگ بلانے کے باوجود بھی خاطر خواہ عوام اکٹھی نہ ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے بار بار استعمال کرتی ہے۔

پی ٹی وی ہیڈکوارٹرز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے دو ٹوک مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی اپنی سیاست کو دہشت گردی کے بیانیے میں ڈھال رہی ہے۔ ان کے مطابق ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی میں کوئی بنیادی فرق باقی نہیں بچا کیونکہ آئے روز یہ جماعت فوج اور عدلیہ کو نشانہ بناتی ہے، جبکہ ان کی خواہش ہے کہ عدلیہ آج بھی پاناما بنچ کی طرح ان کی حمایت کرے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی نے اپنے دور حکومت میں کون سا بڑا منصوبہ مکمل کیا؟ ان کے بقول پی ٹی آئی نے نوجوان نسل کو نفرت اور انتہا پسندی کی سیاست کے سپرد کر دیا اور خیبر پختونخوا میں تیرہ برس کے دوران نہ ایک نیا ہسپتال بنا سکی اور نہ کوئی نئی یونیورسٹی۔

اسے بھی پڑھیں: حکومت نے عمران خان کو اڈیالہ جیل سے منتقل کرنے پر غور شروع کر دیا

اختیار ولی خان نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے ٹویٹ کو ان کی اپنی جماعت کے رہنما بھی ری ٹویٹ کرنے سے گریزاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ ملک کو نقصان پہنچایا، جس کی مثالیں 9 مئی اور 26 نومبر جیسے واقعات ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2013 میں انہیں متعارف کرایا گیا اور 2018 میں ملک پر مسلط کر دیا گیا، مگر آج خیبر پختونخوا میں بلّے کے نشان کا انتخاب کرنے کو بھی کوئی تیار نہیں۔

گورنر راج کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جمہوری قوتیں اس کے حق میں نہیں ہوتیں؛ اگر حکومت نے اسے نافذ کرنا ہوتا تو وہ وقت 26 نومبر کے واقعات کے فوراً بعد تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی ہمیشہ لاشوں کی سیاست کرتی ہے، اسے انتشار اور خون چاہیے، جبکہ حکومت نے کبھی تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ انہوں نے غیر ملکی مداخلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارت اور اسرائیل سے چلائے جا رہے ہیں، اور بھارتی میڈیا بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے جھوٹے بیانیے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔

آخری اعلان میں اختیار ولی خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں اور عشقِ پاکستان اور عشقِ عمران کے درمیان حدِ فاصل قائم ہو چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نہ وہ کسی کو غدار کہتے ہیں اور نہ کسی جماعت پر پابندی کی بات کرتے ہیں، اور اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ میرا انتخاب صرف پاکستان ہے، اور پاکستان ہمیشہ زندہ باد رہے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین