لاہور(خصوصی رپورٹ: ناصر بٹ) ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے رپورٹ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے بھر میں 1291 ٹریفک حادثات پیش آئے، جن میں 645 افراد شدید زخمی ہوئے جبکہ 854 معمولی زخمیوں کو ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے موقع پر ہی ابتدائی طبی امداد فراہم کر کے ہسپتالوں پر بوجھ میں نمایاں کمی کی۔
رپورٹ کے مطابق ٹریفک حادثات میں 78 فیصد موٹر سائیکلیں شامل تھیں، جو اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد، لائن لین کی پابندی اور سڑکوں پر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل کے مطابق ان حادثات میں 861 ڈرائیور، 41 کم عمر ڈرائیور، 470 مسافر جبکہ 180 پیدل چلنے والے افراد متاثر ہوئے۔ ریسکیو 1122 کے صوبائی کنٹرول روم کو موصول ہونے والی کالز سے معلوم ہوا کہ سب سے زیادہ متاثرہ شہر لاہور رہا جہاں 250 حادثات کی کالز موصول ہوئیں اور 303 افراد متاثر ہوئے۔
متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے صوبہ بھر میں لاہور کے بعد ملتان دوسرے نمبر پر رہا، جہاں 84 حادثات میں 92 لوگ متاثر ہوئے، جبکہ فیصل آباد تیسرے نمبر پر رہا جہاں 70 حادثات میں 80 افراد زخمی ہوئے۔
اسے بھی پڑھیں: پنجاب میں 24 گھنٹوں میں 1558 ٹریفک حادثات، 20 افراد جاں بحق، 1776 زخمی
اعداد و شمار کے مطابق کل 1511 متاثرین میں 1255 مرد اور 256 خواتین شامل تھیں۔ زخمی ہونے والوں میں 237 افراد کی عمر 18 سال سے کم، 830 افراد کی عمر 18 سے 40 سال کے درمیان جبکہ 444 افراد کی عمر 40 سال سے زائد تھی، جو حادثات میں نوجوان طبقے کی بڑی شمولیت کو ظاہر کرتا ہے۔
حادثات کا حصہ بننے والی گاڑیوں میں 1229 موٹرسائیکلیں، 92 آٹورکشے، 174 کاریں، 26 وینیں، 15 مسافر بسیں، 24 ٹرک اور 149 دیگر اقسام کی گاڑیاں شامل تھیں۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اگر شہری ٹریفک قوانین کی پابندی، ہیلمٹ کا استعمال اور رفتار پر قابو رکھیں تو حادثات کی شرح میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔
ریسکیو 1122 نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سڑکوں پر محتاط رہیں، کم عمر ڈرائیونگ کی حوصلہ شکنی کریں اور محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے لیے قوانین کا احترام کریں تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔
ماہرینِ ٹریفک سیفٹی کا کہنا ہے کہ پنجاب میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پیش آنے والے 1291 ٹریفک حادثات اس حقیقت کی واضح علامت ہیں کہ سڑکوں پر بڑھتی ہوئی غیر محتاط ڈرائیونگ، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں اور کم عمر ڈرائیونگ سنگین خطرات کو جنم دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 78 فیصد حادثات میں موٹرسائیکلوں کا شامل ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ملک میں موٹر سائیکل استعمال میں غیر معمولی اضافے کے باوجود ہیلمٹ، ڈسپلن اور ڈرائیونگ ٹریننگ پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
ٹریفک انجینئرنگ کے ماہرین اس صورتحال کو ایک ’’پالیسی گیپ‘‘ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق شہریوں کی تربیت، موثر ٹریفک انفورسمنٹ اور ڈرائیونگ لائسنس کے سخت طریقۂ کار کے بغیر حادثات میں کمی ممکن نہیں۔ وہ تجویز دیتے ہیں کہ موٹرسائیکل چلانے والوں کے لیے بہتر ٹریننگ، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر سزا کا سخت اور فوری نفاذ، اور کم عمر ڈرائیونگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کرنا ضروری ہے۔
روڈ سیفٹی اسپیشلسٹس کا کہنا ہے کہ پیدل چلنے والوں کی بڑی تعداد کا متاثر ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ شہروں میں کراسنگ پوائنٹس، فٹ پاتھ، اور واک ویز کی بہتری پر فوری کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ شہری منصوبہ بندی میں روڈ سیفٹی کو لازمی جزو کے طور پر شامل کیے بغیر حادثات پر قابو پانا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق غیر معیاری سڑکیں، ناکافی سگنلنگ اور ٹریفک مینجمنٹ بھی حادثات کی ایک بڑی وجہ ہیں۔
صحت کے شعبے سے جڑے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ٹریفک حادثات کے نتیجے میں اسپتالوں پر پڑنے والا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اگرچہ ریسکیو 1122 ٹیموں کی موقع پر فوری طبی امداد نے صورتحال کو بہتر بنایا، مگر شدید زخمی ہونے والوں کی تعداد یہ بتاتی ہے کہ بہتر سڑکوں، محتاط ڈرائیونگ اور حفاظتی اقدامات کے بغیر صحت کے نظام پر بوجھ مزید بڑھے گا۔
نفسیاتی ماہرین بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تیز رفتاری، غصہ، اور بے صبری ٹریفک حادثات کے بنیادی محرکات میں شامل ہیں۔ ان کے مطابق شہریوں میں سڑکوں کے استعمال کی بنیادی آداب، برداشت اور نظم و ضبط کی تربیت ضروری ہے۔ اگر اسکولوں اور کالجوں کی سطح پر ٹریفک آگاہی شامل کی جائے تو نوجوان نسل میں شعور بہتر ہو سکتا ہے۔
ماہرین مجموعی طور پر اس بات پر متفق ہیں کہ ٹریفک حادثات میں کمی صرف قانون پر نہیں بلکہ شہری رویے کی تبدیلی، عوامی آگاہی، سڑکوں کی بہتری، اور سخت انفورسمنٹ کے امتزاج سے ممکن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت، ادارے اور شہری مل کر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو حادثات میں واضح کمی لائی جاسکتی ہے اور قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جاسکتا ہے۔





















