پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی نمایاں اور ہر کردار میں ڈھل جانے والی اداکارہ یمنیٰ زیدی اس بار اپنی اداکاری نہیں بلکہ لکس اسٹائل ایوارڈز میں پہنے گئے بولڈ لباس کے باعث توجہ کا مرکز بن گئیں۔ ان کے لباس نے سوشل میڈیا پر شدید بحث چھیڑ دی ہے جہاں صارفین نے مختلف آراء کا اظہار کرتے ہوئے انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
یمنیٰ زیدی، جو بختاور، پری زاد، پیار کے صدقے، رازِ الفت، تیرے بن، عشقِ لا اور متعدد سپر ہٹ ڈراموں میں اپنی بےمثال اداکاری کے باعث بے حد مقبول ہیں، حال ہی میں ڈراموں جینٹل مین اور قرضِ جاں میں بھی شاندار پرفارمنس پیش کر کے داد سمیٹ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ فلم نایاب کے لیے لکس اسٹائل ایوارڈ بھی جیت چکی ہیں اور آنے والے رمضان میں ایک نئے ڈرامے کے ساتھ اسکرین پر جلوہ گر ہونے والی ہیں۔
24ویں لکس اسٹائل ایوارڈز میں اداکارہ نے ڈیزائنر شہلا چتور کا خاص طور پر تیار کردہ تھری پیس لباس زیب تن کیا جس میں روز گولڈ لمبی اسکرٹ، اینٹیک گولڈ کراپ ٹاپ اور کڑھائی و ٹِلّہ ورک سے آراستہ چمکدار جیکٹ شامل تھی۔ یہ انداز یمنیٰ زیدی کے عمومی اسلوب سے خاصا مختلف تھا اور اسی وجہ سے سوشل میڈیا پر ان کے لباس کو لے کر شدید ردِ عمل سامنے آیا۔
کئی صارفین نے لباس کو ’’غیر مناسب‘‘، ’’ضرورت سے زیادہ بولڈ‘‘ اور ’’یمنیٰ کی شخصیت کے خلاف‘‘ قرار دیا۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اداکارہ اس لباس میں واضح طور پر غیر مطمئن نظر آئیں۔ مداحوں کے ایک طبقے نے ان کے ماضی کے انٹرویوز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یمنیٰ ہمیشہ سادگی اور شائستگی پر زور دیتی رہی ہیں، اس لیے ان کا نیا انداز اُن کے اپنے بیانیے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ بعض نے سخت ناراضی کا اظہار بھی کیا۔ البتہ ایک چھوٹی تعداد نے اس انداز کو ’’فیشن تجربہ‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کے اعتماد کو سراہا نیز کہا کہ اداکاراؤں کو اپنے فن اور انداز میں نئے تجربات کی آزادی ہونی چاہیے۔
یمنیٰ زیدی ہمیشہ کرداروں میں سنجیدگی، شائستگی اور مضبوط اداکاری کے حوالے سے پہچانی جاتی ہیں، اس لیے ان کا یہ منفرد انداز مداحوں کے لیے غیر متوقع تھا۔ پاکستانی شوبز انڈسٹری میں اداکاراؤں کے لباس پر بحث کوئی نئی بات نہیں مگر یمنیٰ جیسی سادہ تاثر رکھنے والی فنکارہ کا بولڈ انتخاب یقیناً زیادہ توجہ کا باعث بنا ہے۔ اس تنقید کے پیچھے صرف لباس کا معاملہ نہیں بلکہ وہ سماجی توقعات بھی ہیں جو فنکاروں کے ہر عمل اور ہر انداز پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ یہ واقعہ ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں فنکاروں کی فیشن چوائسز اکثر عوامی رائے کے کٹھن امتحانات سے گزرتی ہیں۔ یمنیٰ پر ہوئی شدید بحث ثابت کرتی ہے کہ مشہور شخصیات کو اپنی ظاہری تبدیلیوں میں بھی باریک توازن رکھنا پڑتا ہے کیونکہ یہاں مداح محبت بھی شدت سے کرتے ہیں اور ناراضی بھی۔
عوامی رائے
بہت سے لوگوں نے سوشل میڈیا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یمنیٰ کا انداز ان کی شخصیت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ بعض صارفین نے کہا کہ وہ سادگی کی علامت سمجھی جاتی ہیں اور ان کا یہ فیشن انتخاب بہت مایوس کن ہے۔ کچھ مداحوں نے کہا کہ انہیں اس انداز سے زیادہ اعتماد دکھانا چاہیے تھا جبکہ کچھ لوگوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ شوبز کے بڑھتے ہوئے بولڈ رجحانات فنکاروں کی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں۔ تاہم ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو یمنیٰ کے حق میں آواز بلند کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اداکاراؤں کو اپنی مرضی کے مطابق فیشن اپنانے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
میری رائے
میرے نزدیک یمنیٰ زیدی ایک باوقار اور شاندار اداکارہ ہیں جن کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں سب پر واضح ہیں۔ ان کے لباس پر اس قدر شدید ردِ عمل ظاہر کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے معاشرے میں فنکاروں کے لیے فیشن کے معاملے میں گنجائش بہت محدود ہے۔ فنکار بھی انسان ہوتے ہیں اور ان کے تجربات کو برداشت سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ البتہ شوبز دنیا میں شہرت کے ساتھ تنقید بھی جڑی ہوتی ہے اور یمنیٰ جیسے نامور فنکاروں کو ہر قدم پر یہ دباؤ برداشت کرنا پڑتا ہے۔
آپ اس واقعے کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ کمنٹ میں بتائیں۔





















