دنیا بھر میں صنفی عدم مساوات اور خواتین کی مردوں کے مقابلے میں کم تنخواہوں پر طویل بحث جاری ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی خواتین کی کمائی کی شرح مردوں سے کم رہتی ہے، حالانکہ گزشتہ کئی دہائیوں میں خواتین نے نہ صرف کام کرنے کے رجحان میں اضافہ کیا بلکہ بڑی عالمی کمپنیوں کی سربراہی، حساس شعبوں میں خدمات اور غیر روایتی پیشوں میں بھی اپنی موجودگی ثابت کی ہے۔ اس سب کے باوجود جینڈر پے گیپ آج بھی ایک عالمی مسئلہ ہے اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھر میں خواتین اوسطاً مردوں کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد کم کماتی ہیں۔
تاہم اس عالمی عدم توازن کے درمیان یورپی ملک لیکسمبرگ واحد ایسا ملک ہے جس نے اس روایت کو توڑتے ہوئے نئی مثال قائم کی ہے۔ یورو اسٹیٹ کی جانب سے جاری کی گئی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لیکسمبرگ وہ واحد ملک ہے جہاں خواتین کی کمائی مردوں سے زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہاں جینڈر پے گیپ مثبت سمت میں 0.7 فیصد ہے جس کا مطلب ہے کہ مجموعی طور پر خواتین کو مردوں کے مقابلے میں بہتر تنخواہیں مل رہی ہیں۔ اگرچہ یہ فرق بظاہر معمولی دکھائی دیتا ہے، لیکن عالمی تناظر میں یہ انتہائی اہم اور غیر معمولی پیش رفت ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس فرق کی بنیادی وجہ لیکسمبرگ میں صنفی مساوات کے مضبوط اصول، غیر امتیازی پالیسیوں کا موثر نفاذ اور خواتین کی بڑی تعداد کا سرکاری شعبے میں موجود ہونا ہے جہاں انہیں اعلیٰ تنخواہیں اور محفوظ ملازمت کے مواقع میسر ہیں۔ ملک کی معاشی خوشحالی بھی اس رجحان میں اہم کردار ادا کرتی ہے کیونکہ لیکسمبرگ دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے اور یہاں روزگار کے مواقع وسیع اور مالیاتی استحکام مضبوط ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں خواتین اب بھی تنخواہوں میں تفریق کا شکار ہیں، لیکسمبرگ میں حالات اس کے برعکس بہتر ہیں۔ یہاں حکومت نے صنفی مساوات کے حوالے سے سخت قوانین نافذ کیے ہیں، جس کے تحت اداروں میں بھرتیوں، ترقی اور اجرت کے معاملات میں شفافیت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین کی کام کرنے کی شرح کے ساتھ ساتھ تنخواہوں کی سطح بھی بڑھتی رہی۔
لیکسمبرگ کی مثال واضح کرتی ہے کہ اگر حکومتیں سنجیدگی دکھائیں، جامع پالیسی سازی کریں اور غیر امتیازی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرائیں تو صنفی مساوات محض دعویٰ نہیں بلکہ عملی حقیقت بھی بن سکتی ہے۔ دنیا بھر میں خواتین کا مردوں کے مقابلے میں کم کمانا ہمیشہ سے بحث کا موضوع رہا ہے، مگر اس کے حل کے لیے جو مؤثر اقدامات درکار ہیں وہ بہت کم ممالک نے کیے۔ لیکسمبرگ نے یہ ثابت کیا کہ صنفی عدم مساوات ایک ناقابلِ حل مسئلہ نہیں بلکہ پالیسی اور ارادے کی مضبوطی سے اس کا خاتمہ ممکن ہے۔
تاہم عالمی سطح پر جینڈر پے گیپ کا فرق ابھی بھی تشویش ناک ہے۔ خواتین کے کام میں اضافہ ضرور ہوا ہے لیکن تنخواہوں میں وہ مقام حاصل نہ ہو سکا جو مساوات کے اصول کے مطابق ہونا چاہیے۔ لیکسمبرگ کی کامیابی دیگر ممالک کے لیے ایک رہنمائی کا درجہ رکھتی ہے کہ معاشی ترقی اس وقت پوری طرح فائدہ مند بنتی ہے جب مردوں اور خواتین دونوں کو یکساں مواقع ملیں۔
بہت سے صارفین اس رپورٹ سے متاثر دکھائی دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیگر ممالک کو بھی لیکسمبرگ کے ماڈل پر عمل کرنا چاہیے۔ کچھ لوگوں نے اسے صنفی انصاف کی بہترین مثال قرار دیا۔ کچھ حلقے حیرت میں مبتلا ہیں کہ اتنے ترقی یافتہ ممالک کے باوجود صرف ایک ملک حقیقی معنوں میں اس مقام تک پہنچ پایا ہے۔ بعض خواتین نے کہا کہ اس رپورٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ صنفی برابری خواب نہیں بلکہ حقیقت بن سکتی ہے بشرطیکہ ریاست سنجیدگی کے ساتھ کام کرے۔
میری رائے
میرے نزدیک لیکسمبرگ کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں حقیقی صنفی مساوات ممکن ہے، بس ضروری ہے کہ قوانین میں شفافیت، مؤثر پالیسی سازی اور خواتین کے لیے یکساں پیشہ ورانہ مواقع فراہم کیے جائیں۔ اگر بڑے ممالک بھی اسی سمت میں کام کریں تو عالمی سطح پر جینڈر پے گیپ کم ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ لیکسمبرگ کی پیش رفت دنیا کے لیے ایک مثبت مثال ہے۔
آپ کے خیال میں خواتین اور مردوں کی تنخواہوں میں مساوات کیوں ضروری ہے؟ اپنی رائے کمنٹ میں لکھیں۔





















