پنجاب بھر میں سردی اور دھند نے معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ لاہور سمیت مختلف شہروں میں صبح اور رات کے وقت حدِ نگاہ انتہائی کم ہو جانے کے باعث ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہے جبکہ موٹرویز کو بھی وقفے وقفے سے مختلف مقامات پر ٹریفک کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کو سفر میں مشکلات کا سامنا ہے اور کئی پروازیں بھی تاخیر کا شکار ہو رہی ہیں۔
لاہور میں خشک سردی کے ساتھ دھند نے صحت کے مسائل میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ نزلہ، زکام، کھانسی، گلے کی خراش اور بخار کے کیسز تیزی سے بڑھنے لگے ہیں، جس کے باعث اسپتالوں اور کلینکس میں مریضوں کی تعداد معمول سے زیادہ رپورٹ ہو رہی ہے۔ خشک موسم اور آلودگی کے امتزاج نے شہریوں خصوصاً بچوں اور بزرگوں کی صحت پر براہِ راست اثر ڈالا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 7 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 22 ڈگری ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے چند دنوں تک موسم میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئے گی۔ محکمے نے واضح کیا کہ 20 دسمبر تک شہر میں بارش کا کوئی امکان نہیں اور پنجاب کے زیادہ تر علاقے خشک سردی کی لپیٹ میں رہیں گے۔ بارش نہ ہونے کے باعث ہوا میں نمی کی کمی برقرار رہے گی جس سے دھند مزید گہری ہو سکتی ہے۔
طبی ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ بیماریوں سے بچنے کے لیے ماسک کا استعمال کریں، گرم مشروبات اور قوتِ مدافعت بڑھانے والی غذا کا باقاعدہ استعمال کریں، جبکہ کھلے علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خشک سردی کے دوران جسم کا پانی تیزی سے کم ہوتا ہے، اس لیے مناسب مقدار میں پانی پینا بھی ضروری ہے۔
پنجاب میں دھند کا بڑھتا ہوا سلسلہ صرف موسمی اثر نہیں بلکہ ماحولیاتی مسائل کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ صنعتی اخراج، گاڑیوں کے دھوئیں اور موسمیاتی تبدیلی نے خطے میں اسموگ اور دھند کو معمول بنا دیا ہے۔ لاہور جیسے بڑے شہر میں ہر سال سردیوں کے دوران شدید فضائی آلودگی اور دھند شہری زندگی، صحت، نقل و حمل اور معاشی سرگرمیوں پر واضح اثر ڈالتی ہے۔ بارش نہ ہونے کے باعث یہ صورتحال مزید طول پکڑ سکتی ہے، کیونکہ بارش ہی وہ واحد عنصر ہے جو فضا میں موجود آلودگی اور ذرات کو کم کر کے موسم کو صاف کرتی ہے۔
اگرچہ دھند پنجاب میں ایک عمومی موسمی مظہر ہے، لیکن اس بار شدت زیادہ دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ماحولیاتی پالیسیوں میں روانی اور سختی کی ضرورت پہلے سے بڑھ گئی ہے۔ حکومت کو نہ صرف سڑکوں پر ٹریفک منظم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے ہوں گے بلکہ شہریوں میں اسموگ سے بچاؤ کے لیے آگاہی مہم بھی بڑھانا ہوگی۔
عوامی رائے
شہریوں کا کہنا ہے کہ شدید دھند نے سفر کو مشکل بنا دیا ہے۔ بہت سے لوگ موٹروے کی بندش اور دیر سے کھلنے پر پریشان ہیں جبکہ والدین اسکول جانے والے بچوں کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ کچھ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسموگ کے مستقل حل کے لیے سخت پالیسیاں اپنائی جائیں، جبکہ دیگر افراد کا کہنا ہے کہ بارش نہ ہونے تک یہ صورتحال برقرار رہے گی اور احتیاط ہی واحد حل ہے۔
میری رائے
میرے نزدیک پنجاب میں بڑھتی دھند اور خشک سردی صرف موسمی نہیں بلکہ ماحولیاتی بحران کا حصہ ہے۔ بارش نہ ہونے سے آلودگی بڑھتی جائے گی اور صحت کے مسائل میں اضافہ ہوگا۔ حکومت، شہری اور صنعتی شعبہ—تینوں کو مل کر اس صورتحال کی سنگینی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ دھند کے باعث زندگی متاثر ہو رہی ہے اور مستقبل میں اس کے اثرات مزید گہرے ہوسکتے ہیں۔
آپ دھند کے اس سلسلے کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ میں لکھیں۔





















