سڈنی حملہ،مسلمان شخص نے جان پر کھیل کر کئی جانیں بچائیں، دو گولیاں بھی لگیں

یہودی کمیونٹی کی تقریب پر فائرنگ کے واقعے میں پاکستان کو غلط طور پر ملوث کرنے کی کوشش بے نقاب ہوگئی

سڈنی:آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ایک شہری نے بہادری کا ایسا مظاہرہ کیا کہ سب کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ آسٹریلوی میڈیا کے مطابق، ایک حملہ آور کو موقع پر موجود مسلمان شہری احمد ال احمد نے اپنی جان پر کھیل کر پکڑا اور اس کا اسلحہ چھین کر کئی لوگوں کی جانیں بچائیں۔

تینتالیس سالہ احمد ال احمد ایک پھل فروش ہیں اور دو بچوں کے والد ہیں۔ بہادری کا مظاہرہ کرنے کے دوران احمد کے بازو پر دو گولیاں لگی ہیں، تاہم وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ڈاکٹرز کے مطابق ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

یہ واقعہ سڈنی کے مشہور ساحل بونڈائی بیچ پر پیش آیا، جہاں دو مسلح افراد نے شہریوں پر فائرنگ کی۔ اس دہشت گردانہ حملے میں 16 افراد ہلاک اور 40 کے قریب زخمی ہوئے، جن میں دو پولیس اہلکار اور بچے بھی شامل ہیں۔ احمد ال احمد کی بہادری نے اس المناک واقعے میں کئی زندگیوں کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

دریں اثنا سڈنی میں یہودی کمیونٹی کی تقریب پر فائرنگ کے واقعے میں پاکستان کو غلط طور پر ملوث کرنے کی کوشش بے نقاب ہوگئی۔

سڈنی کے ساحلی علاقے میں فائرنگ کرکے 16 افراد کی جانیں لے جانے والے حملہ آور نوید اکرم کے دوست اور ہمسائے نے آسٹریلوی ٹی وی چینل کو بتایا کہ ملزمان بھارتی نژاد ہیں۔ نوید اکرم کی والدہ اٹلی کی شہری ہیں، جبکہ والد ساجد اکرم کا تعلق بھارت سے ہے۔

ابتدائی طور پر بھارت، اسرائیل اور افغانستان کے میڈیا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی، لیکن یہ پروپیگنڈا حقیقت کے برعکس نکلا۔ ساجد اور نوید اکرم کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

گزشتہ روز سڈنی میں ہونے والے اس دہشت گردانہ واقعے میں حملہ آور سمیت 16 افراد ہلاک اور تقریباً 40 زخمی ہوئے۔ ایک حملہ آور پولیس کی فائرنگ میں ہلاک ہوگیا جبکہ دوسرا زخمی حالت میں گرفتار ہوا اور اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

اس افسوسناک واقعے کے فوراً بعد اسرائیلی اور بھارتی میڈیا نے اسے پاکستان کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔ اسرائیلی اخبار "یروشلم” نے حملہ آوروں کو پاکستانی ظاہر کیا، جبکہ را سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بھی پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کے ریکارڈ میں ساجد اور نوید اکرم کے پاکستانی ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے، اور آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے بھی ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔

بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے جھوٹ پھیلایا کہ ساجد اکرم سیاحتی ویزے پر آسٹریلیا گئے تھے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ساجد اکرم 1998 میں سٹوڈنٹ ویزے پر آسٹریلیا پہنچے تھے، اور 2001 میں وارینا نامی آسٹریلین خاتون سے شادی کے بعد ان کا ویزا پارٹنر ویزا میں تبدیل ہوگیا۔ آسٹریلوی وزیر داخلہ ٹونی بیورک نے بھی اس حقیقت کی تصدیق کی ہے۔

یاد رہے کہ بھارتی میڈیا نے واقعے کے بعد پاکستانی شہری شیخ نوید کی تصاویر بھی چلا کر اسے حملہ آور قرار دینے کی کوشش کی، لیکن شیخ نوید نے ویڈیو بیان جاری کر کے اس پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا اور واضح کیا کہ ان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین