نئی دہلی(خصوصی رپورٹ: نوشیرواں عاصم)معرکہ حق میں عبرت ناک شکست کے بعد بھارتی فوج دنیا کے سامنے ایک مضحکہ خیز تصویر بن کر رہ گئی ہے۔ عالمی سطح پر فیلڈ مارشل کی پذیرائی اور پاکستان کی نمایاں سفارتی کامیابیوں نے بھارتی عسکری قیادت کو شدید الجھن میں ڈال دیا ہے۔ اپنی شکست چھپانے اور مقبولیت بڑھانے کے لیے بھارتی فوج میڈیا میں شعبدہ بازی اور غیر سنجیدہ رویے اختیار کر رہی ہے۔
بھارتی عسکری قیادت سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے ہندو مذہبی رسومات میں پیش پیش نظر آتی ہے، جبکہ دوسری طرف اپنی اسٹریٹجک صلاحیت دکھانے کے لیے روزانہ میڈیا پر عسکری تیاری کے دعوے کرتی نظر آتی ہے۔
اپنی مقبولیت اور ذہنی تصویر بہتر دکھانے کے لیے بھارتی آرمی اور فضائیہ کے اعلیٰ افسران پاسنگ آؤٹ پریڈز میں بھی تھیٹر کرتے نظر آتے ہیں۔ بھارتی آرمی چیف کا پاسنگ آؤٹ پریڈ میں پُش اَپس کا بھونڈا مظاہرہ دراصل ناکام حکمت عملی اور ناقص تیاریوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔
بھارتی آرمی چیف نے ڈنڈوں کے ساتھ مشقیں کیں، جن میں سے ایک بھی درست نہیں تھی، اور بھارتی فضائی قیادت بھی سستی شہرت کے لیے احمقانہ حرکات میں مصروف رہی۔ فضائیہ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں فلائی پاسٹ اور کیڈٹس کو سلامی دینا بھی ایک ایسی حرکت تھی جس کا تعلق پیشہ ورانہ مہارت سے نہیں بلکہ دکھاوا بازی سے تھا۔
بھارتی فضائی قیادت رقص و سرور کی محافل میں اپنی ویڈیوز میڈیا پر دکھانے میں مصروف ہے، جبکہ میدان جنگ میں ان کی موجودگی یا قابلیت مشکوک ہے۔ اس طرح کا غیر سنجیدہ رویہ اور تماشہ بازی بھارتی فوج کے وقار کے لیے شرمندگی اور بدنامی کا سبب بن رہا ہے، اور ادارے کی پیشہ ورانہ ساکھ پر سوالیہ نشان اٹھا رہا ہے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نوشیرواں عاصم نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق میں بھارتی فوج کی عبرت ناک شکست نے نہ صرف اس کے عسکری وقار کو نقصان پہنچایا بلکہ عالمی منظرنامے پر اس کی ساکھ کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ تاریخی طور پر بھارت کی فوج کو مضبوط اور پیشہ ورانہ سمجھا جاتا رہا ہے، مگر حالیہ شکست نے اس قدیم تاثر کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
سب سے پہلے واضح ہونا چاہیے کہ عالمی سطح پر فیلڈ مارشل کی پذیرائی اور پاکستان کی نمایاں سفارتی کامیابیوں نے بھارتی عسکری قیادت کو شدید الجھن میں ڈال دیا ہے۔ شکست کو چھپانے اور داخلی سیاست میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے بھارتی فوج نے میڈیا میں شعبدہ بازی اور غیر سنجیدہ حرکات کا سہارا لیا۔ یہ رویہ ایک پیشہ ور فوجی ادارے کے لیے شرمندگی کا سبب ہے۔
بھارتی عسکری قیادت سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے مذہبی رسومات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے، جبکہ دوسری طرف اپنی اسٹریٹجک صلاحیتیں دکھانے کے لیے میڈیا پر دکھاوا کرتی ہے۔ یہ رویہ ایک پیشہ ور فوج کی بجائے ایک سیاسی اور میڈیا تنظیم کی عکاسی کرتا ہے۔
پاسنگ آؤٹ پریڈز اور عوامی تقریبات میں بھارتی فوج کی اعلیٰ قیادت کی حرکات اس بات کی واضح مثال ہیں کہ فوج اپنے بنیادی کاموں پر توجہ دینے کی بجائے دکھاوا اور سستی شہرت حاصل کرنے میں مصروف ہے۔ بھارتی آرمی چیف کی پُش اَپس کی مشقیں، ڈنڈوں کے ساتھ غیر مؤثر مظاہرہ اور فضائیہ کی غیر سنجیدہ فلائی پاسٹس یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بھارتی فوج اپنی ناکامیوں اور ناقص تیاریوں پر پردہ ڈالنے کے لیے تھیٹر اور تماشہ بازی کو ترجیح دے رہی ہے۔
بھارتی فضائی قیادت کی رقص و سرور کی محافل میں میڈیا پر اپنی ویڈیوز دکھانے کی حرکات بھی اسی غیر سنجیدہ رویے کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف فوجی ادارے کی پیشہ ورانہ ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ عام شہری اور عالمی برادری کے ذہن میں بھی بھارتی فوج کی قابلیت پر سوالیہ نشان اٹھتا ہے۔
اس تجزیے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ بھارتی فوج کی اندرونی کمزوری اور قیادت کی غیر سنجیدگی نے اسے عالمی سطح پر ایک مضحکہ خیز ادارے میں تبدیل کر دیا ہے۔ اگر بھارتی فوج نے اپنے بنیادی عسکری معیار، تربیت اور اسٹریٹجک سوچ پر توجہ نہ دی تو مستقبل میں اس کے لیے عالمی اور داخلی سطح پر مزید شرمندگی کے مناظر سامنے آ سکتے ہیں۔
اس صورتحال سے بھارت کو یہ سبق لینا چاہیے کہ عسکری وقار صرف دکھاوا، میڈیا پریڈز اور مذہبی رسومات میں حصہ لینے سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ مضبوط تربیت، پیشہ ورانہ رویہ اور اسٹریٹجک حکمت عملی سے ہی حقیقی مقام ملتا ہے۔





















