کراچی(رپورٹ: غلام مرتضیٰ) سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بنچ نے عدالتی احکامات کو مسلسل نظرانداز کرنے پر سخت اقدام اٹھاتے ہوئے ریٹائرڈ افسر کی پنشن جاری نہ کرنے کے معاملے میں ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے قابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے۔
عدالت میں سماعت کے دوران انکشاف ہوا کہ ایک ریٹائرڈ افسر کو طویل عرصے سے پنشن کی ادائیگی نہیں کی جا رہی، حالانکہ عدالت اس سے قبل واضح احکامات جاری کر چکی تھی۔ عدالتی حکم عدولی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئینی بنچ نے ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض قابلِ ضمانت وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت پہلے ہی ایڈیشنل ڈائریکٹر میڈیکل سروسز ڈاکٹر کریم کو پنشن کی ادائیگی کا حکم دے چکی ہے، مگر اس کے باوجود ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے سال 2022 سے عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
سندھ ہائیکورٹ نے واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی تعطیلات کے پہلے ہفتے میں ہر صورت عدالت میں پیش ہوں اور ریٹائرڈ افسر کی پنشن کی فوری ادائیگی کو یقینی بنائیں۔
عدالت کے اس دوٹوک اور سخت اقدام کو سول ایوی ایشن میں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کے خلاف ایک واضح پیغام قرار دیا جا رہا ہے، جس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ذمہ دار افسران کو اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے وارنٹِ گرفتاری کا اجرا محض ایک فرد کی پنشن کا معاملہ نہیں بلکہ یہ فیصلہ پورے پاکستان کے سرکاری اداروں کے لیے ایک آئینہ اور واضح تنبیہ ہے۔ یہ اقدام اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ ملک میں ہزاروں ریٹائرڈ ملازمین برسوں سے اپنی جائز پنشن کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں، جبکہ متعلقہ محکمے عدالتی احکامات کو بھی نظرانداز کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔
پنشن کسی خیرات یا احسان کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک قانونی اور آئینی حق ہے۔ ایک سرکاری ملازم اپنی زندگی کے قیمتی سال ریاست کی خدمت میں صرف کرتا ہے، کم تنخواہوں، دباؤ، اور محدود سہولتوں کے باوجود یہ امید رکھتا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اسے کم از کم باعزت زندگی گزارنے کے لیے پنشن ضرور ملے گی۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں یہی امید سب سے پہلے ٹوٹتی نظر آتی ہے۔
عدالت کے سامنے آنے والا سول ایوی ایشن کا کیس اس مسئلے کی ایک مثال ضرور ہے، مگر مسئلہ اس سے کہیں زیادہ سنگین اور وسیع ہے۔ پاکستان کے کئی وفاقی اور صوبائی اداروں میں پنشن کی ادائیگی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ خاص طور پر پاکستان پوسٹ (ڈاک خانہ) کے ریٹائرڈ ملازمین کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، جہاں اطلاعات کے مطابق بڑی تعداد میں سابق ملازمین کی پنشن مکمل یا جزوی طور پر روک دی گئی ہے۔ ان ملازمین میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے دہائیوں تک دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دیں، مگر آج بڑھاپے میں علاج، دواؤں اور روزمرہ اخراجات کے لیے محتاج ہیں۔
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ آخر پنشن کیوں روکی جاتی ہے؟ اکثر محکمے مالی بحران، فنڈز کی کمی، آڈٹ اعتراضات یا انتظامی پیچیدگیوں کا بہانہ بناتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ پنشن کی ادائیگی ریاست کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہونی چاہیے۔ اگر ایک ادارہ اپنے ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن نہیں دے سکتا تو یہ اس کی بدانتظامی، ناقص منصوبہ بندی اور ترجیحات کی غلطی کا ثبوت ہے، نہ کہ ملازم کا قصور۔
سندھ ہائیکورٹ کا سخت رویہ دراصل اسی سوچ کو چیلنج کرتا ہے کہ سرکاری افسران خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگے ہیں۔ عدالت نے واضح پیغام دیا ہے کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کوئی اختیار نہیں بلکہ لازم ہے، اور اگر اس میں کوتاہی برتی گئی تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے۔ ڈی جی سول ایوی ایشن کے وارنٹ گرفتاری اس بات کی علامت ہیں کہ اب ادارہ جاتی بے حسی کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ دیگر متاثرہ پنشنرز کے لیے بھی امید کی کرن ہے، خاص طور پر ڈاک خانہ، واپڈا، ریلوے اور دیگر محکموں کے وہ ریٹائرڈ ملازمین جو برسوں سے خاموشی کے ساتھ ناانصافی برداشت کر رہے ہیں۔ اگر عدالتیں اسی طرح فعال کردار ادا کرتی رہیں تو ممکن ہے کہ پنشن کے نظام میں موجود خرابیوں کی اصلاح کا آغاز ہو سکے۔
تاہم، اصل حل عدالتی کارروائی نہیں بلکہ حکومتی سطح پر سنجیدہ اصلاحات ہیں۔ پنشن کے نظام کو ڈیجیٹل، شفاف اور خودکار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ کسی افسر کی ذاتی مرضی یا سستی سے کسی بزرگ شہری کی زندگی داؤ پر نہ لگے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی ناگزیر ہے جو جان بوجھ کر پنشن کی ادائیگی میں تاخیر کرتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پنشن کا مسئلہ صرف مالی نہیں بلکہ انسانی وقار کا مسئلہ ہے۔ ایک ریاست کا معیار اس بات سے جانچا جاتا ہے کہ وہ اپنے بزرگ شہریوں اور سابق ملازمین کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے۔ سندھ ہائیکورٹ کا حالیہ اقدام اگرچہ ایک فرد کے حق میں ہے، مگر اس کی گونج پورے نظام میں سنائی دینی چاہیے، تاکہ کوئی بھی ریٹائرڈ ملازم اپنی زندگی کے آخری حصے میں انصاف کے لیے عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور نہ ہو۔





















