کائنات خود بخود نہیں بنی، ایلون مسک نے خدا کے وجود کو تسلیم کرلیا

ایلون مسک کا کہنا تھا کہ وہ طویل غور و فکر کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ خدا کا وجود ہے

لاہور(خصوصی رپورٹ:شوکت ابرار )دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے معروف امریکی صنعتکار ایلون مسک نے اپنے ایمان اور عقیدے سے متعلق ایک اہم اور چونکا دینے والا انکشاف کر دیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایلون مسک نے یہ خیالات ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کے دوران بیان کیے، جہاں میزبان کیٹی ملر نے ان سے خدا کے وجود کے حوالے سے سوال کیا۔ اس موقع پر ٹیسلا، اسپیس ایکس اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے مالک ایلون مسک نے اعتراف کیا کہ وہ کئی برس تک خود کو ملحد سمجھتے رہے، تاہم اب ان کی سوچ میں نمایاں تبدیلی آچکی ہے۔

ایلون مسک کا کہنا تھا کہ طویل غور و فکر کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ خدا کا وجود ہے۔ ان کے بقول یہ وسیع اور کرشماتی کائنات محض اتفاق کا نتیجہ نہیں ہو سکتی، بلکہ اس کے پیچھے کسی عظیم تخلیق کار کی قوت ضرور کارفرما ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب انہیں یہ بات بخوبی سمجھ آچکی ہے کہ اس منظم اور حیرت انگیز دنیا کی تخلیق خود بخود ممکن نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک اعلیٰ ہستی کا ہونا لازم ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس ایلون مسک نے مذہب سے متعلق ایک سوال کے جواب میں خود کو ’کلچرل کرسچن‘ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ ایک ایسے معاشرے میں پیدا ہوئے اور پروان چڑھے جہاں مسیحی ثقافت غالب تھی، اس لیے ثقافتی طور پر انہیں عیسائی کہا جا سکتا ہے، تاہم اس وقت وہ بطور مذہب خدا کے وجود پر یقین نہیں رکھتے تھے۔

تاہم اپنے تازہ انٹرویو میں ایلون مسک نے واضح کیا کہ اب ان کے خیالات تبدیل ہو چکے ہیں اور وہ ایک ایسی ہستی پر یقین رکھتے ہیں جس نے اس پوری کائنات کو تخلیق کیا۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ایلون مسک کی سوچ میں یہ تبدیلی ایک ایسے دور میں سامنے آئی ہے جب وہ خلائی سفر اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں مسلسل نئی کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں، جس نے ان کے فکری زاویے کو مزید گہرائی عطا کی ہے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی شوکت ابرار نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایلون مسک کا خدا کے وجود پر یقین کا اظہار محض ایک ذاتی اعتراف نہیں بلکہ جدید دور کی فکری کشمکش کی ایک نمایاں مثال ہے۔ یہ وہ دور ہے جہاں سائنس، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت نے انسان کو کائنات کے بے شمار رازوں سے روشناس کرایا، مگر اسی کے ساتھ کئی نئے سوالات بھی جنم دیے۔ ایلون مسک جیسے سائنس اور ٹیکنالوجی کے علمبردار کی جانب سے خدا کے وجود کو تسلیم کرنا اس بات کی علامت ہے کہ جدید علم انسان کو مکمل اطمینان فراہم نہیں کر سکا۔

ایلون مسک کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جو سائنسی ترقی کو محض کاروبار نہیں بلکہ انسانیت کے مستقبل سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ اسپیس ایکس کے ذریعے خلا کی تسخیر، مریخ پر انسانی آبادکاری کے خواب اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خطرات پر ان کی تشویش، یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ کائنات کو محض مادی زاویے سے نہیں دیکھتے۔ ایسے میں ان کا یہ کہنا کہ یہ دنیا خود بخود نہیں بنی، ایک گہرے فکری سفر کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ جدید سائنسی ترقی نے جہاں کائنات کے قوانین کو واضح کیا، وہیں اس کی پیچیدگی اور نظم و ضبط نے خدا کے وجود پر سوال اٹھانے کے بجائے کئی ذہنوں کو اس یقین کی طرف مائل کیا کہ اس نظام کے پیچھے کوئی اعلیٰ طاقت ضرور موجود ہے۔ ایلون مسک کا تازہ بیان اسی سوچ کا تسلسل دکھائی دیتا ہے کہ جتنا زیادہ انسان کائنات کو سمجھتا ہے، اتنا ہی اسے اپنی محدودیت کا احساس ہوتا ہے۔

گزشتہ برس ایلون مسک نے خود کو ’کلچرل کرسچن‘ قرار دے کر اس حقیقت کی نشاندہی کی تھی کہ مذہب بعض اوقات عقیدے سے زیادہ تہذیبی شناخت بن جاتا ہے۔ تاہم اب ان کا خدا کے وجود کو تسلیم کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ان کی سوچ محض ثقافتی دائرے تک محدود نہیں رہی بلکہ فکری اور روحانی سطح پر بھی ارتقا پذیر ہے۔ یہ تبدیلی اس تصور کو تقویت دیتی ہے کہ ایمان اور عقل ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ کئی مواقع پر ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔

یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا خلائی تحقیق اور کائنات کی وسعتوں میں جھانکنے کے بعد انسان زیادہ عاجز ہو جاتا ہے؟ ایلون مسک کے بیان سے یہی تاثر ملتا ہے کہ جب انسان زمین سے باہر نکل کر اربوں کہکشاؤں، ستاروں اور ناقابلِ تصور فاصلوں کو دیکھتا ہے تو یہ احساس مزید گہرا ہو جاتا ہے کہ انسان نہ تو اس کائنات کا مرکز ہے اور نہ ہی اس کا خالق۔ یہی احساس اکثر انسان کو کسی اعلیٰ ہستی کے وجود کی طرف لے جاتا ہے۔

ایلون مسک کی سوچ میں یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا میں مذہب اور سائنس کو ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑا کرنے کی روایت عام ہے۔ ان کا بیان اس بیانیے کو چیلنج کرتا ہے اور یہ پیغام دیتا ہے کہ سائنسی ترقی خدا کے انکار پر منتج ہونا لازمی نہیں۔ بلکہ کئی صورتوں میں یہی ترقی انسان کو تخلیق کے مقصد پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

اس اعتراف کا ایک سماجی پہلو بھی ہے۔ ایلون مسک دنیا کے بااثر ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی بات کروڑوں لوگ سنتے اور پڑھتے ہیں۔ ان کا یہ بیان نوجوان نسل کے لیے ایک نیا مکالمہ پیدا کر سکتا ہے، جہاں ایمان کو اندھی تقلید کے بجائے غور و فکر اور شعور کے ساتھ جوڑا جائے۔ یہ مکالمہ جدید معاشروں میں بڑھتے ہوئے روحانی خلا کو پُر کرنے میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایلون مسک کا خدا کے وجود پر یقین کا اظہار کسی مذہبی تبلیغ سے زیادہ ایک فکری اعتراف ہے۔ یہ اعتراف اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ چاہے انسان سائنس میں کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر لے، کائنات کا سوال آخرکار اسے اسی نقطے پر لے آتا ہے جہاں عقل خاموش اور غور و فکر بولنے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سائنس اور ایمان ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں، اور انسان خود کو محض ایک مخلوق کے طور پر پہچاننے لگتا ہے، خالق کی تلاش میں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین