
میاں محمد بخش رحمتہ اللہ علیہ برصغیر پاک و ہند کے ایک عظیم صوفی بزرگ اور اہل اللہ میں سے ہیں، آپ نے پنجابی زبان کے ذریعے معرفت حق کا ایسا ابلاغ کیا کہ آپ کی سیف الملوک کا ہر مصرعہ اور حرف سالکانِ اسرار و رموز اور طالبانِ علم و عرفان کے دل و دماغ کی تختیوں پر نقش ہوتا چلا گیا، اللہ رب العزت ہر دور میں ایسی چنیدہ ہستیوں کو اپنی وحدت کے اظہار و بیان کے لئے توفیق خاص ارزاں کرتے ہیں جن کے باطن اور دامن عشق الٰہی، حُب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لعل و گوہر سے مرصع ہوتے ہیں۔ حضرت علی بن عثمان المعروف داتا علی ہجویری گنج بخشؒ، خواجہ غلام فرید ؒکوٹ مٹھن والی سرکار،بابا فرید گنج شکر ؒ، بابا بلھے شاہؒ، مادھولعل شاہ حسینؒ جیسی ہستیوں کی آخری آرام گاہ کی زیارت کریں تو وہاں ہر مذہب،مسلک کے اہل علم اور اہل دل حضرات کا ایک ہجوم بے کراں دیکھنے کو ملتا ہے، انسانوں کا یہ ہجوم دل کی دعوت پر ان عشق و مستی میں ڈوبی ہوئی مجالس کا حصہ بنتا ہے، ان زائرین کی نگاہیں کیف و ادب کی سرخیوں اور دل عجز و انکساری سے لبریز ہوتے ہیں، یہ ایک سوال ہے کہ کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان خرقہ پوشوں، حجرہ نشینوں اور گدڑی بردار ہستیوں کے عہد کے بادشاہ،سرمایہ دار، جاگیردار اور اہل ثروت کون تھے اور ان بادشاہوں کی قبریں کہاں ہیں؟ لیکن اللہ نے مخلوقِ خدا کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دینے والے ان بندگان صبر و رضا کے ذکر کو ایسی برکتوں سے مالا مال کیا کہ ہر وقت ان محبوبان خدا کے توسل سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں درود و سلام کے نذرانے اور اللہ کے حضور التجائیں پیش کرنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے کیونکہ اس کا حکم بھی سورہ فاتحہ میں اللہ رب العزت نے ایک دعا کی صورت میں عطا کیا کہ اے اللہ ہمیں ان کے راستے پر چلا جو تیرے انعام یافتہ ہیں نہ کہ ان کے راستے پر جن پر تیرا غضب ہے۔ ہزاروں سال گزر جانے کے بعد بھی ان بزرگوں کے مزارات پر مخلوق خدا جمع رہتی ہے اور ذکر واذکار کا سلسلہ شب و روز چلتا رہتا ہے، یہ انعام یافتہ بندے ہونے کی ایک نشانی ہے کہ اللہ نے انہیں ان کے صالح اعمال کے باعث دائمی زندگی عطا کر دی۔
میاں محمد بخشؒ ایک عاجزبندہ خدا تھے، ان کی وصیت تھی کہ جب مجھے دمِ آخر غسل دیا جائے تو مجھے چارپائی کی بجائے زمین پر لٹایاجائے کہ میں اللہ رب العزت کے دربار میں ایک بندہ خاکی کے طور پر پیش ہونا چاہتا ہوں۔ میاں محمد بخش ؒ کے بارے میں مورخین لکھتے ہیں کہ آپؒ کے سامنے جب بھی خوش ذائقہ کھانا آتا تو آپ اس کھانے کے اندر پانی کی اتنی مقدار شامل کر دیتے کہ وہ ذائقہ ختم ہو جاتا، آپؒ فرماتے تھے کہ نفس کے منہ زور گھوڑے کو لگامیں ڈال کر رکھیں ورنہ یہ مالک حقیقی کے خوف اور ذکر سے بیگانہ کر دے گا اور جو نفس مالک کائنات کے ذکر سے بیگانہ ہو گیااس کا تو پھر کچھ بھی نہ رہا۔ میاں محمد بخشؒ نے سیف الملوک کے کردارں کو وہ حیات جاوداں دے دی کہ وہ خود پس منظر میں چلے گئے اور سیف الملوک کے کردار اَمر ہو گئے، یہ آپ کی ذات کی نفی اور نفس کشی کی ایک عمدہ مثال ہے۔ بلھے شاہ نے اس کیفیت کو اس طرح بیان کیا کہ ”رانجھے رانجھا کردی نی میں آپے، رانجھا ہوئی“۔
گزشتہ ہفتہ میر پور کھڑی شریف میں دربار شریف پر حاضری کی سعادت ملی اور کچھ وقت اس رومیئ کشمیر کی صحبت میں وقت گزرا اور ان کے معروف اشعار جو حکمت و دانائی کے خزانے ہیں ذہن کی تختی پر ابھرتے رہے، دربار شریف کے منتظمین مبارکباد کے مستحق ہیں کہ دربار شریف سے ملحقہ ایک خوبصورت کشادہ مسجد تعمیر کی گئی ہے اور وسیع و عریض صحن اور صفائی کا عمدہ نظام دربار شریف کے ماحول کو مزید روحانی اور وجدانی بنا دیتا ہے، میں یہاں قابل صد احترام محترمہ تنویر اختر صاحبہ کا اور محترم میاں محمد افضل صاحب کا بطور خاص ذکر کروں گا کہ اس حاضری کے بعد اُن سے ملاقات ہوئی جو دربار شریف کے خادمین اور منتظمین میں سے ہیں اور بہت ہی عمدہ میزبان اور عجز و انکساری والے شستہ گو نفوس ہیں، مجھے یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ محترمہ تنویر اختر صاحبہ میاں محمد بخش کے کلام کو ازسرنو شائع کرنے کے مشن پر کاربند ہیں اور کمپوزنگ، پروف ریڈنگ کا ابتدائی مرحلہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے، محترمہ تنویر اختر صاحبہ نے اس اشاعت کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر بہت سارے لوگ میاں محمد بخشؒ کا نام استعمال کر کے اشعار پڑھتے ہیں جبکہ بیشتر اشعار اُن کے سرے سے نہیں ہوتے اور بہت سارے اہل علم حضرات بھی غلط تلفظ کے ساتھ اشعار پڑھتے ہیں جس سے اشعار کی فنی صحت اور حقیقی مطالب و فلاسفی کو نقصان پہنچ رہا ہے اور نئی نسل کو ایک غلط پیغام مل رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے کم و بیش 3 سے 4 بار 9 ہزار سے زائد اشعار پر مشتمل مسودہ پر نظر ثانی کی ہے اور پھر انہوں نے متبسم لہجے سے کہا کہ میں اب سیف الملوک کی حافظہ ہو گئی ہوں اور پھر انہوں نے مجھے بہت ہی شیریں اور شستہ لہجے اور تحت للفظ میں حضرت میاں محمد بخشؒ کے خوبصورت اشعار بھی سنائے میں نے ان کو مشورہ دیا کہ آپ کاغذ اور جلد کی خوبصورتی پر کوئی کمپرومائز نہ کریں، ہوسکتا ہے کہ نئی نسل خوبصورت جلد اور خوبصورت کاغذ سے متاثر ہو کر اس علم و حکمت کے خزانے کو اپنے گھر کی لائبریری تک لے آئیں بہرحال ظاہری خوبصورتی بھی دعوت کاایک مضبوط اور مقبول ذریعہ ہے۔ میری اس تجویز سے انہوں نے اتفاق کیا اور وعدہ کیا کہ اس کا پورا پورا خیال رکھا جائے گا۔ محترمہ تنویر اختر صاحبہ کو میں نے یہ مشورہ بھی دیا کہ آپ تحت للفظ میں پورے کلام کو ریکارڈ کروائیں بلکہ اسے یوٹیوب چینل پر رکھیں تاکہ اس کلام کی فنی صحت قائم و ددائم رہے اور وہی تعلیمات عامۃ الناس تک پہنچیں جو میاں محمد بخشؒ کے مقصودِ نظر و فکر تھیں۔ محترمہ تنویر اختر صاحبہ نے بتایا کہ وہ اس کی پہلے سے ہی سوچ رکھتی ہیں بس توفیق کی منتظر ہیں، محترمہ تنویر اختر صاحبہ گاہے بگاہے مختلف ٹی وی چینلز اور علمی و ادبی تقریبات میں لیکچرز دیتی رہتیں اور میاں محمد بخشؒ کے افکار و نظریات کا پرچار کرتی رہتی ہیں، محترمہ تنویر اختر صاحبہ نے شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا ذکر نہایت ادب و احترام سے کیا اور کہا کہ میں اُن کے مختلف موضوعات پر خطاب سنتی رہتی ہوں، ان کا کام بڑا شاندار ہے اور نسلیں اس سے مستفید ہورہی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ یہ علمی وجود اللہ رب العزت کی نعمت ہیں۔
ہم بدقسمتی سے ایک ایسی سوسائٹی بن چکے ہیں جہاں نقل بمطابق اصل کا فخریہ اظہار کیا جاتا ہے اور یوں ”اصل“ معدوم ہوتی چلی جارہی ہے، سوشل میڈیا پر علم کی فراوانی تو ہے مگر مستند علم کا قحط ہے، اس تناظر میں محترمہ تنویر اختر صاحبہ کی کاوش قابل تحسین ہے کہ وہ سیف الملوک کے اصل مسودہ کے مطابق اسے پرنٹ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، اللہ رب العزت اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے ضمن میں اُن کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔ برصغیر کے اس عظیم صوفی بزرگ کی پیدائش 1830ء میں خانقاہ شریف تحصیل بھمبر میں ہوئی اور آپ کو رومی کشمیر کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے، آپؒ کی زندگی زہدو تقویٰ، خدمت خلق اور عشق الٰہی کی عملی تصویر تھی۔ آپؒ نے پنجابی زبان میں شاعری کی جس میں تصوف، اخلاق،عشق حقیقی اور انسانی اصلاح کے موضوعات بکثرت ملتے ہیں، آپ کی شاعری عام فہم اور معنوی اعتبار سے نہایت گہری ہے، سیف الملوک آپ کا شہرہ آفاق صوفیانہ منظوم قصہ ہے بظاہر ایک عشقیہ داستان ہے مگر درحقیقت یہ انسان اور خدا کے تعلق کی علامتی تشریح ہے۔ اس کتاب نے پنجابی ادب کو ایک نئی روح عطا کی ہے۔ آپؒ کے کلام کے تعلیمی پہلوؤں میں تکبر، لالچ، خودغرضی کی نفی اور محبت و عاجزی، انسان دوستی، شریعت و طریقت کا توازن نمایاں ہے۔





















