بھارت میں ہونے والے پنچایت انتخابات کے دوران ایک ایسا غیر معمولی اور چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا جس نے پورے ملک میں الیکشن کمیشن کی کارکردگی، انتخابی طریقہ کار اور انتظامی غفلت پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
تلنگانہ میں ایک مرحوم امیدوار سب سے زیادہ ووٹ لے کر کامیاب قرار پایا، جس نے عوام، حکام اور میڈیا سب کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب پنچایت انتخابات کے نتائج کا اعلان کیا گیا اور معلوم ہوا کہ 53 سالہ مرلی جو پولنگ سے پانچ دن پہلے دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر چکے تھے۔ سب سے زیادہ ووٹ لے کر فاتح ٹھہرے۔
انتخابی حکام کے مطابق مرلی کی اچانک وفات کے باوجود ان کا نام بیلٹ پیپر سے ہٹایا نہیں جا سکا اور پولنگ مجوزہ شیڈول کے مطابق ہی جاری رہی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کا کہنا ہے کہ مرلی کی موت کی اطلاع ہونے کے باوجود انتخابی لسٹوں میں تبدیلی ممکن نہ ہو سکی، اور جب ووٹوں کی گنتی مکمل ہوئی تو نتائج دیکھ کر خود انتخابی عملہ بھی ششدر رہ گیا۔
حکام کے مطابق متوفی امیدوار کے حق میں ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد باقی تمام امیدواروں سے زیادہ تھی جس پر مقامی سطح پر حیرت اور تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ریٹرننگ آفیسر نے فوری طور پر نتائج روک کر معاملہ اعلیٰ حکام کو ارسال کیا تاکہ اس غیر معمولی صورت حال پر آئینی اور قانونی رائے لی جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ قانون میں اس حقیقت کا باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے، مگر ایسے کیسز انتہائی نایاب ہونے کی وجہ سے ان پر فوری فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس لیے قانونی پہلوؤں کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی حتمی فیصلہ سنایا جائے گا۔
یہ معاملہ سوشل میڈیا، مقامی آبادی اور انتخابی مبصرین کے درمیان شدید بحث کا موضوع بنا ہوا ہے، اور لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر پانچ دن پہلے انتقال کر جانے والے امیدوار کا نام بیلٹ پیپر سے ہٹایا کیوں نہ گیا؟
یہ واقعہ بھارت کے انتخابی ڈھانچے میں موجود خامیوں کو نمایاں کرتا ہے۔
ایک جانب یہ نظام کی تکنیکی کمزوری اور سست رفتاری کی نشاندہی کرتا ہے، دوسری جانب انتخابی فہرستوں کے بروقت اپڈیٹ نہ ہونے کی سنگین مثال بھی ہے۔
مرلی کا جیت جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام کے بعض طبقات میں امیدوار کی شخصیت، مقبولیت یا ہمدردی کا اثر اس قدر طاقتور ہوتا ہے کہ ان کی وفات بھی ووٹرز کے فیصلے پر اثرانداز نہیں ہوتی۔
انتخابی ماہرین کے مطابق اس کیس سے یہ ضرورت بھی سامنے آتی ہے کہ الیکشن کمیشن کو ہنگامی تبدیلیوں کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے چاہئیں تاکہ ایسی غلطیاں مستقبل میں نہ دہرائی جائیں۔
عوامی رائے
عوام کا ردعمل حیرت، طنز اور تشویش کا مجموعہ ہے
کچھ لوگ اسے “انتخابی تاریخ کا سب سے انوکھا واقعہ” قرار دے رہے ہیں۔
کئی افراد طنزیہ تبصرے کر رہے ہیں کہ “مرلی تو چلے گئے، مگر اعتماد پھر بھی وہی جیت گئے!”
سینئر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ انتخابی نظام کی شفافیت پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔
کچھ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن اس معاملے پر فوری اصلاحات نافذ کرے تاکہ آئندہ کسی مرحوم امیدوار کی جیت سے نظام کی ساکھ متاثر نہ ہو۔
آپ کی رائے کیا ہے؟
آپ کے خیال میں اس واقعے کی اصل ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
کیا ایسے واقعات الیکشن کمیشن کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔





















