پاکستان کرکٹ ٹیم جنوری 2026 میں تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کھیلنے کے لیے سری لنکا کا دورہ کرنے والی ہے، جو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تیاریوں کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ سیریز 7، 9 اور 11 جنوری کو شیڈول ہے، تاہم پاکستانی اسکواڈ کے متعدد کلیدی کھلاڑی اس وقت آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ (بی بی ایل) میں مصروف ہیں، جس کے باعث ان کی سری لنکا سیریز میں دستیابی پر سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔
پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں شامل بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی، حسن علی، حارث رؤف اور چند دیگر کھلاڑی اس وقت مختلف فرنچائزز کے ساتھ بی بی ایل میں شریک ہیں، جہاں انہیں سیزن بھر ٹیموں کا حصہ رہنے کے لیے معاہدوں کے تحت پابند کیا گیا ہے۔
اسی پس منظر میں کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو ٹوڈ گرین برگ نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کے بارے میں انہیں واضح پیغام مل چکا ہے کہ،
“بی بی ایل میں جن کھلاڑیوں کے معاہدے ہوئے ہیں، وہ پورا سیزن کھیلیں گے۔”
یہ بیان پاکستانی شائقین اور ٹیم مینجمنٹ کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے، کیونکہ سیریز سے قبل بابر اعظم اور شاہین آفریدی جیسے بڑے کھلاڑیوں کی عدم موجودگی ٹیم کی تیاریوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
ٹوڈ گرین برگ نے مزید کہا کہ بی بی ایل انتظامیہ کو پاکستانی کھلاڑیوں کے سلسلے میں جو یقین دہانی کرائی گئی ہے وہ واضح ہے، البتہ پاکستان کے دورۂ سری لنکا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ
“ٹی ٹوئنٹی سیریز شیڈول کے مطابق ہوگی، البتہ تاریخوں کا سرکاری اعلان بعد میں کیا جائے گا۔”
یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی ہے جب پاکستان کے لیے جنوری کی سیریز نہایت اہم تصور کی جا رہی ہے، کیونکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 سے قبل قومی ٹیم کو کم تجربہ شدہ کھلاڑیوں کے ساتھ نہیں اتارنا چاہیئے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کئی سالوں سے فرینچائز لیگز اور بین الاقوامی مقابلوں کے درمیان توازن قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔
بی بی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت یقینی طور پر عالمی کرکٹ میں پاکستان کے مثبت کردار کی علامت ہے، مگر اس کے ساتھ یہ خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے کہ ٹیم کی اہم سیریز میں تجربہ کار کھلاڑی دستیاب نہ ہوں۔
بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف جیسے کھلاڑی نہ صرف پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی ہیں بلکہ ورلڈ کپ سے قبل ان کی عدم موجودگی ٹیم کمبی نیشن کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔
ادھر آسٹریلیا کی جانب سے کھلاڑیوں کی مکمل شرکت پر زور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فرنچائز لیگز اب بین الاقوامی کرکٹ جتنی یا اس سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔
تحلیل کاروں کے مطابق اگر پاکستان نے بروقت لائحہ عمل نہ اپنایا تو مستقبل میں بھی ایسی صورت حال بار بار جنم لے سکتی ہے۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر شائقین نے اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی اہم سیریز کے دوران بڑے کھلاڑیوں کا لیگز میں مصروف ہونا درست نہیں۔
کچھ صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ پی سی بی کو کھلاڑیوں کے معاہدوں میں ایسی شقیں شامل کرنی چاہئیں جو بین الاقوامی کرکٹ کو ترجیح دیں۔
اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے چند ماہ قبل ٹیم کو اپنے بہترین ممکنہ کمبی نیشن کے ساتھ کھیلنا ضروری ہے۔
چند صارفین نے بی بی ایل انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ فرنچائزز کھلاڑیوں کے بین الاقوامی شیڈول کا احترام نہیں کرتیں۔
آپ کی رائے کیا ہے؟
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو بی بی ایل چھوڑ کر سری لنکا سیریز میں شامل ہونا چاہیے؟
اپنی رائے کمنٹ میں لکھیں۔





















