پنجاب اسمبلی میں کم عمری کی شادی کے خاتمے کیلئے اہم اجلاس، تجاویز پیش

حکومت پنجاب بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے،سارہ احمد

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)پنجاب اسمبلی میں کم عمری کی شادی کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم پارلیمانی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ممبر پنجاب اسمبلی، کنوینئر جینڈر مین اسٹریمِنگ کمیٹی اور کنوینئر چائلڈ رائٹس کاکس، سارہ احمد نے کی۔ اجلاس یو این ایف پی اے کے اشتراک سے منعقد کیا گیا جبکہ اسپیکر پنجاب اسمبلی، ملک محمد احمد خان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کرتے ہوئے اختتامی کلمات بھی پیش کیے۔

اجلاس میں پنجاب اسمبلی کے ارکان، یو ایس قونصلیٹ لاہور کے نمائندہ، سیکرٹری جنرل پنجاب اسمبلی، یو این ایف پی اے کے کنٹری نمائندہ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر گروپ ڈویلپمنٹ پاکستان، پراسیکیوٹر جنرل پنجاب اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ تمام شرکاء نے صوبے میں کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے اپنی تجاویز اور مشاورت پیش کی۔

اس موقع پر کنوینئر چائلڈ رائٹس کاکس، سارہ احمد نے کہا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی قیادت میں پہلی مرتبہ پنجاب اسمبلی میں بچوں کے تحفظ کے لیے چائلڈ رائٹس کاکس قائم کیا گیا، جو ایک تاریخی اقدام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب، مریم نواز نے بچوں کو "ریڈ لائن” قرار دیا ہے اور حکومت پنجاب بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

سارہ احمد نے بطور چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو اپنے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کم عمری کی شادی کے نتیجے میں بچیوں کی تعلیم، صحت اور مستقبل پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں، جنہیں اجاگر کرنا اور روکنا اشد ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے مجوزہ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ میں بچیوں کی کم از کم شادی کی عمر 18 سال مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔

انہوں نے مزید واضح کیا کہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو اپنی مقررہ صلاحیتوں سے بڑھ کر کم عمری کی شادی کا شکار بچیوں کو ریسکیو کر کے انہیں تحفظ فراہم کر رہا ہے۔ سارہ احمد نے کہا کہ کم عمری کی شادی کا خاتمہ اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہے اور اس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

کنوینئر چائلڈ رائٹس کاکس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اراکین پنجاب اسمبلی صوبے میں کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے مؤثر قانون سازی کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ یو این ایف پی اے کے اشتراک سے پنجاب میں کم عمری کی شادی کی روک تھام کے لیے ایک جامع پالیسی بھی تیار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے گزشتہ سال پنجاب میں کم عمری کی شادی کے 16 کیسز کو مؤثر کارروائی کے ذریعے حل کیا۔

آخر میں سارہ احمد نے عوام سے اپیل کی کہ کم عمری کی شادی کا شکار بچیوں کے تحفظ کے لیے فوری طور پر چائلڈ ہیلپ لائن 1121 پر اطلاع دیں تاکہ ہر بچی محفوظ اور تعلیم یافتہ مستقبل کی طرف قدم بڑھا سکے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی رمیض حسین نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں کم عمری کی شادی کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم پارلیمانی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ممبر پنجاب اسمبلی، کنوینئر جینڈر مین اسٹریمِنگ کمیٹی اور کنوینئر چائلڈ رائٹس کاکس، سارہ احمد نے کی۔ اجلاس یو این ایف پی اے کے اشتراک سے منعقد کیا گیا جبکہ اسپیکر پنجاب اسمبلی، ملک محمد احمد خان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کرتے ہوئے اختتامی کلمات بھی پیش کیے۔

اجلاس میں پنجاب اسمبلی کے ارکان، یو ایس قونصلیٹ لاہور کے نمائندہ، سیکرٹری جنرل پنجاب اسمبلی، یو این ایف پی اے کے کنٹری نمائندہ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر گروپ ڈویلپمنٹ پاکستان، پراسیکیوٹر جنرل پنجاب اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ تمام شرکاء نے صوبے میں کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے اپنی تجاویز اور مشاورت پیش کی۔

اس موقع پر کنوینئر چائلڈ رائٹس کاکس، سارہ احمد نے کہا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی قیادت میں پہلی مرتبہ پنجاب اسمبلی میں بچوں کے تحفظ کے لیے چائلڈ رائٹس کاکس قائم کیا گیا، جو ایک تاریخی اقدام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب، مریم نواز نے بچوں کو "ریڈ لائن” قرار دیا ہے اور حکومت پنجاب بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

سارہ احمد نے بطور چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو اپنے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کم عمری کی شادی کے نتیجے میں بچیوں کی تعلیم، صحت اور مستقبل پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں، جنہیں اجاگر کرنا اور روکنا اشد ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے مجوزہ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ میں بچیوں کی کم از کم شادی کی عمر 18 سال مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔

انہوں نے مزید واضح کیا کہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو اپنی مقررہ صلاحیتوں سے بڑھ کر کم عمری کی شادی کا شکار بچیوں کو ریسکیو کر کے انہیں تحفظ فراہم کر رہا ہے۔ سارہ احمد نے کہا کہ کم عمری کی شادی کا خاتمہ اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہے اور اس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

کنوینئر چائلڈ رائٹس کاکس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اراکین پنجاب اسمبلی صوبے میں کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے مؤثر قانون سازی کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ یو این ایف پی اے کے اشتراک سے پنجاب میں کم عمری کی شادی کی روک تھام کے لیے ایک جامع پالیسی بھی تیار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے گزشتہ سال پنجاب میں کم عمری کی شادی کے 16 کیسز کو مؤثر کارروائی کے ذریعے حل کیا۔

آخر میں سارہ احمد نے عوام سے اپیل کی کہ کم عمری کی شادی کا شکار بچیوں کے تحفظ کے لیے فوری طور پر چائلڈ ہیلپ لائن 1121 پر اطلاع دیں تاکہ ہر بچی محفوظ اور تعلیم یافتہ مستقبل کی طرف قدم بڑھا سکے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین