امریکا میں نوزائیدہ بچوں کا ایک فارمولا دودھ مضر صحت قرار؛ ایف ڈی اے کا سخت انتباہ

انتباہ کے باوجود یہی فارمولا بڑے سپر اسٹورز پر رعایتی نرخوں پر فروخت ہوتا رہا

اسلام آباد(نوشیر عاصم) امریکا میں نوزائیدہ بچوں کی صحت سے متعلق ایک نہایت تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے جہاں ایک مخصوص فارمولا دودھ کو بچوں میں پھیلتی ایک خطرناک بیماری کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی حوالے سے امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے ملک کے بڑے ریٹیلرز کو فوری کارروائی کے ساتھ انتباہ بھی جاری کیا ہے۔

ایف ڈی اے کے مطابق 10 دسمبر تک 19 ریاستوں میں 51 بچوں میں انفنٹ بوٹولزم کے مشتبہ یا تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے تمام بچوں کو اسپتال منتقل کرنا پڑا۔ خوش قسمتی سے کوئی ہلاکت پیش نہ آئی، تاہم بیماری کے پھیلاؤ کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔

امریکی ڈرگ ایجنسی نے کارگر، والمارٹ، ٹارگٹ اور البرٹ سنز سمیت کئی بڑے معروف سپر اسٹورز کو نوٹس جاری کیے ہیں کیونکہ وہاں وہی فارمولا دودھ فروخت ہو رہا تھا جسے قبل ازیں واپس اٹھانے کا حکم دیا جا چکا تھا۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب ٹھوس شواہد میں یہ بات ثابت ہوئی کہ اس فارمولا دودھ کے استعمال سے انفنٹ بوٹولزم کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ دودھ کمپنی ByHeart کا تیار کردہ تھا، اور کمپنی کے مطابق وہ گزشتہ ماہ اپنے تمام انفنٹ فارمولا پروڈکٹس چاہے ڈبوں کی شکل میں ہوں یا سنگل سروس اسٹکسواپس اٹھا چکی ہے۔

انفنٹ بوٹولزم کیا ہے؟

انفنٹ بوٹولزم ایک نایاب مگر نہایت سنگین بیماری ہے جو اُس وقت لاحق ہوتی ہے جب نوزائیدہ بچہ Clostridium botulinum نامی بیکٹیریا کے جراثیمی ذرات نگل لیتا ہے۔ یہ بیکٹیریا آنتوں میں خطرناک زہریلا مادہ پیدا کرتا ہے۔

اس بیماری کی علامات میں قبض، غیر معمولی کمزوری، سانس لینے میں دشواری، دودھ پینے میں مشکل، اور بچے کے لیے گردن یا سر سنبھالنے میں ناکامی شامل ہیں۔ شدید نوعیت کی صورت میں سانس رک جانے کا خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے۔

عمومی طور پر امریکا میں سالانہ 200 سے کم کیسز سامنے آتے ہیں، اس لیے اس بار کا پھیلاؤ غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔

اسٹورز نے واپس کیوں نہ اٹھایا؟

ایف ڈی اے کا کہنا ہے کہ اس نے متعدد بار ریٹیل کمپنیوں کو آگاہ کیا اور کئی ای میلز کے ذریعے اُن سے عملی اقدامات کا منصوبہ بھی طلب کیا، مگر کسی بڑے اسٹور نے کوئی جواب نہیں دیا۔

انسپکٹرز نے ملک بھر میں 4 ہزار سے زائد معائنے کیے، جن میں 36 ریاستوں کے 175 سے زیادہ مقامات پر وہ فارمولا دودھ فروخت ہوتا پایا جو پہلے ہی واپس اٹھایا جا چکا تھا۔
ایک ٹارگٹ اسٹور میں تو یہ فارمولا رعایتی قیمت پر بھی دستیاب تھا، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔

ایف ڈی اے کمشنر ڈاکٹر مارٹی میکری نے واضح کیا کہ خوراک کی حفاظت پوری سپلائی چین کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بچوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے ہر فریق کو فوری اور سنجیدہ قدم اٹھانا ہوگا۔

تمام سپر اسٹورز کو 15 دن کے اندر وضاحت پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

والدین کے لیے اہم ہدایات

ایف ڈی اے نے والدین سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کے پاس ByHeart کا کوئی بھی انفنٹ فارمولا موجود ہے تو فوراً اس کا استعمال بند کر دیں۔
اگر بچے میں قبض، کمزوری، دودھ پینے میں کمی یا سانس لینے میں کسی مشکل کا احساس ہو تو بغیر تاخیر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

ماہرین کی رائے

طبی ماہرین اور بچوں کے امراض کے اسپیشلسٹ اس صورتحال کو نہایت تشویشناک قرار دے رہے ہیں۔ ماہرِ اطفال ڈاکٹر جیمز ہاپکنز کے مطابق، نوزائیدہ بچوں میں بوٹولزم کا پھیلاؤ معمول کے برعکس ہے اور بظاہر یہ معاملہ صرف ایک خراب بیچ تک محدود نہیں لگتا بلکہ اس کے پیچھے سپلائی چین کی بڑی غفلت واضح دکھائی دیتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ“انفنٹ بوٹولزم ایک ایسی بیماری ہے جس کے اثرات چند گھنٹوں میں بچے کی صحت کو شدید متاثر کر سکتے ہیں۔ فارمولا دودھ جیسے حساس اور بنیادی غذائی جز میں معمولی سے آلودگی بھی سنگین نتائج پیدا کرتی ہے، اس لیے کسی بھی پروڈکٹ کی واپسی کے بعد اس کا بازار میں دستیاب رہنا ایک خطرناک عمل ہے۔”

دوسری جانب غذائی حفاظت کی ماہر پروفیسر الیسا گوڈمین نے بتایا کہ سپر اسٹورز کا ایک واپس شدہ پروڈکٹ کو نہ ہٹانا نہ صرف قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ بچوں کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
ان کے مطابق“جب ایف ڈی اے کسی پروڈکٹ کو خطرناک قرار دے دے تو ریٹیلرز پر لازم ہے کہ وہ چند گھنٹوں کے اندر فوری ردعمل دیں۔ اس کیس میں جو تاخیر ہوئی، اس نے خطرات کو کئی گنا بڑھا دیا۔”

اسی طرح، امریکن ایسوسی ایشن آف پیڈیاٹرکس کے ترجمان ڈاکٹر رابرٹ کیسلر کا کہنا ہے کہ والدین کو انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے، خصوصاً جب بچے میں کمزوری، دودھ پینے میں رکاوٹ یا قبض جیسی علامات ظاہر ہوں۔
وہ کہتے ہیں:
“نوزائیدہ بچے کی قوتِ مدافعت بہت کمزور ہوتی ہے۔ معمولی آلودگی بھی بڑے مسئلے پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ لیبل، مینوفیکچرر اور بیچ نمبر ہمیشہ چیک کریں، اور اگر شک ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔”

ماہرین نے اس بات پر تشویش بھی ظاہر کی کہ یہ پہلا موقع نہیں جب امریکا میں فارمولا دودھ کے حوالے سے مسائل سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق سپلائی چین، معیار کی نگرانی اور پراڈکٹ ٹریکنگ کے نظام میں فوری اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ بچوں کی صحت کو مزید کسی بڑے خطرے سے بچایا جا سکے۔

امریکا میں ByHeart کے فارمولا دودھ سے منسلک انفنٹ بوٹولزم کے کیسز نے ملک کے نظامِ خوراک، سپلائی چین اور ریگولیٹری نگرانی میں سنگین خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس معاملے نے ثابت کیا ہے کہ ایک محفوظ سمجھی جانے والی مارکیٹ میں بھی بچوں کی بنیادی غذائی مصنوعات خطرے سے خالی نہیں۔

سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ایف ڈی اے کی جانب سے فارمولے کو واپس بلانے کے واضح احکامات کے باوجود بڑے بڑے سپر اسٹورز نے اسے نہ صرف شیلف سے نہ ہٹایا بلکہ کسی جگہ یہ رعایتی قیمتوں پر فروخت بھی ہوتا رہا۔ یہ صورتِ حال اس بات کا ثبوت ہے کہ ریٹیل سیکٹر اور ریگولیٹری نظام کے درمیان موجود فاصلے نے والدین اور بچوں کو بلاوجہ خطرے کی زد میں رکھا۔

ریگولیٹری اداروں کی جانب سے بار بار ای میلز، ہدایات اور انسپکشنز کے باوجود کمپنیوں کی جانب سے عدم تعاون ایک خطرناک رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس سے یہ خدشہ بھی بڑھ گیا ہے کہ اربوں ڈالر کی فوڈ انڈسٹری میں بعض کمپنیاں منافع کے مقابلے میں صارفین کی سلامتی کو ثانوی حیثیت دیتی ہیں۔

یہ واقعہ اس حقیقت کا بھی مظہر ہے کہ امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی فوڈ سیفٹی کے نظام کی کمزوریاں، خصوصاً بچوں سے متعلق مصنوعات میں، بڑے حادثات کا باعث بن سکتی ہیں۔ جب ایک بنیادی نوعیت کا فارمولہ — جو نوزائیدہ بچوں کی بقا کا ذریعہ ہوتا ہے۔ بازار میں بغیر چیک و بیلنس کے دستیاب رہے، تو یہ پورے نظام پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔

مزید یہ کہ کمپنی کے مطابق پروڈکٹ واپس اٹھا لیا گیا تھا، لیکن عملی طور پر یہ اب بھی شیلفوں پر موجود رہا، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ پروڈکٹ ری کال کا موجودہ طریقہ ناکافی، بے ربط اور آسانی سے ناکام ہونے والا ہے۔ اس پالیسی میں فوری اصلاح نہ کی گئی تو مستقبل میں مزید خطرناک واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔

اس بحران میں خوش آئند بات یہ ہے کہ کسی بچے کی موت واقع نہیں ہوئی، لیکن 51 کیسز اور متعدد اسپتال داخلوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بچوں کی غذائی مصنوعات کے سخت ترین معیار، مسلسل چیکنگ، اور بروقت ردعمل ناگزیر ہے۔ والدین میں بھی اس واقعے کے بعد شعور میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو مستقبل کے لیے مثبت علامت ہے۔

مجموعی طور پر یہ واقعہ ایک سنگین وارننگ ہے ۔ امریکا کا فوڈ سیفٹی سسٹم جدید ہونے کے باوجود خامیوں سے بھرا ہوا ہے، اور بچوں جیسے نازک طبقے کو بچانے کے لیے نظام کو سختی سے اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ ریگولیٹری اداروں، کمپنیوں اور ریٹیل چینز کے درمیان مربوط حکمتِ عملی ہی آئندہ ایسی صورتحال سے بچا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین