ہر طرف مصنوعی ذہانت کا راج، امریکہ میں ڈاکٹروں کا پیشہ شدید خطرے میں پڑ گیا

40 فی صد امریکی افراد بیماری کی علامات، ممکنہ امراض یا علاج سے متعلق مشورے کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس پر انحصار کر رہے ہیں

لاہور(خصوصی رپورٹ: رمیض حسین)یہ وہ دور ہے جہاں اسمارٹ فون جیب میں ہے اور ڈاکٹر اسکرین پر، انسان اب درد، بیماری اور علاج کے سوال پہلے سفید کوٹ والے ماہر سے نہیں بلکہ چیٹ باکس میں ٹائپ کر کے پوچھنے لگا ہے۔ ٹیکنالوجی کی یہ تیز رفتار پیش رفت جہاں سہولت بن کر ابھری ہے، وہیں اس نے روایتی پیشوں، خاص طور پر طب جیسے حساس شعبے کے لیے سنجیدہ سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔

دنیا کے سب سے طاقت ور ملک امریکا میں ڈاکٹروں کا پیشہ ایک نئے چیلنج سے دوچار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ حالیہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ بڑی تعداد میں امریکی شہری صحت سے متعلق رہنمائی کے لیے چیٹ جی پی ٹی اور دیگر مصنوعی ذہانت پر مبنی پروگراموں پر بھروسا کرنے لگے ہیں۔ رولنگ اسٹون ویب سائٹ کے مطابق سروے میں شامل 40 فی صد افراد نے اعتراف کیا کہ وہ صحت کے معاملات میں چیٹ جی پی ٹی سے مدد لیتے ہیں۔

سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ تقریباً 40 فی صد امریکی افراد بیماری کی علامات، ممکنہ امراض یا علاج سے متعلق مشورے کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس پر انحصار کر رہے ہیں۔ یہ رجحان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کس تیزی سے عام انسان کی زندگی میں شامل ہو چکی ہے، تاہم اس کے ساتھ خطرات بھی جڑے ہوئے ہیں۔

ماہرین نے اس رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کسی صورت حقیقی ڈاکٹر کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ ان کا کہنا ہے کہ اے آئی معلومات فراہم کر سکتی ہے، مگر تشخیص اور علاج کے لیے مستند اور تربیت یافتہ ڈاکٹر سے رجوع کرنا ناگزیر ہے۔

سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 23 فی صد افراد مہنگے طبی اخراجات سے بچنے کے لیے اے آئی کی مدد لیتے ہیں۔ کچھ شرکا نے چیٹ بوٹس کو فوری اور مفید معلومات کا ذریعہ قرار دیا، جب کہ کئی افراد نے غلط یا نامکمل معلومات کے خدشات کی نشان دہی بھی کی۔

یہ تحقیق سینسس وائڈ نامی ادارے نے ڈرپ ہائیڈریشن نامی میڈیکل سروسز کمپنی کے لیے کی، جس میں تقریباً دو ہزار امریکی بالغ افراد نے حصہ لیا۔ یہ سروے اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی اور انسانی صحت کا رشتہ مضبوط ضرور ہو رہا ہے، مگر احتیاط، توازن اور ماہرین کی رہنمائی اب بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی پہلے تھی۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی رمیض حسین نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں خاموش مگر گہرا اثر ڈالا ہے، مگر جب یہی ٹیکنالوجی انسانی صحت جیسے نازک معاملے میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے لگے تو سوالات جنم لینا فطری ہے۔ امریکا میں سامنے آنے والا حالیہ سروے اسی بدلتی ہوئی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں بڑی تعداد میں لوگ ڈاکٹر کے بجائے چیٹ جی پی ٹی اور دیگر اے آئی چیٹ بوٹس سے طبی مشورہ لینے لگے ہیں۔ یہ رجحان بظاہر سہولت، تیزی اور کم لاگت کا حل دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے اثرات طویل المدت اور گہرے ہو سکتے ہیں۔

سب سے پہلے اس رجحان کی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے۔ امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی طبی سہولتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ مہنگی انشورنس، ڈاکٹروں کی بھاری فیس، طویل اپائنٹمنٹ سسٹم اور اسپتالوں کی پیچیدہ کارروائیاں عام شہری کو متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ ایسے میں چیٹ جی پی ٹی جیسی ٹیکنالوجی، جو مفت یا کم خرچ میں فوری جواب فراہم کرتی ہے، لوگوں کے لیے پرکشش بن جاتی ہے۔ سروے میں 23 فی صد افراد کا مہنگے علاج سے بچنے کے لیے اے آئی کا سہارا لینا اسی معاشی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔

تاہم مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ معلومات حاصل کر رہے ہیں، بلکہ اصل تشویش یہ ہے کہ معلومات اور علاج کے درمیان لکیر دھندلی ہوتی جا رہی ہے۔ اے آئی چیٹ بوٹس علامات کے بارے میں عمومی رہنمائی تو فراہم کر سکتے ہیں، مگر وہ مریض کی مکمل طبی تاریخ، نفسیاتی کیفیت، جسمانی معائنے اور پیچیدہ ٹیسٹس کو مدنظر نہیں رکھ سکتے۔ طب محض ڈیٹا کا کھیل نہیں، بلکہ تجربے، مشاہدے اور انسانی احساس کا مجموعہ ہے، جو کسی الگورتھم میں مکمل طور پر سمویا نہیں جا سکتا۔

یہاں ڈاکٹروں کے پیشے کو درپیش خطرات بھی زیر بحث آتے ہیں۔ اگر مریض ابتدائی سطح پر ہی ڈاکٹر سے رجوع کرنے کے بجائے اے آئی پر انحصار کرنے لگے تو نہ صرف غلط تشخیص کا خطرہ بڑھتا ہے بلکہ بروقت علاج میں تاخیر بھی ہو سکتی ہے۔ بعض بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جو معمولی علامات سے شروع ہو کر خطرناک شکل اختیار کر لیتی ہیں، اور چیٹ بوٹ کی دی گئی ادھوری یا عمومی معلومات مریض کو جھوٹی تسلی میں مبتلا کر سکتی ہیں۔

دوسری جانب، اس رجحان کا ایک مثبت پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اے آئی نے صحت سے متعلق آگاہی میں اضافہ کیا ہے۔ لوگ اب اپنی علامات کے بارے میں سوال کرنے سے نہیں ہچکچاتے، وہ بیماریوں کے بارے میں پڑھتے ہیں اور اپنی صحت کے معاملے میں پہلے سے زیادہ باشعور ہو رہے ہیں۔ اگر یہ معلومات ڈاکٹر کے پاس جانے سے پہلے ایک ابتدائی رہنمائی کے طور پر استعمال ہوں تو یہ صحت کے نظام پر بوجھ کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

اصل مسئلہ توازن کا ہے۔ ماہرین کی تنبیہ بالکل بجا ہے کہ اے آئی کسی صورت ڈاکٹر کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ مصنوعی ذہانت کو معاون کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے، فیصلہ ساز کے طور پر نہیں۔ جیسے کیلکولیٹر نے ریاضی دان کو ختم نہیں کیا بلکہ اس کے کام کو آسان بنایا، اسی طرح اے آئی اگر درست حدود میں رہے تو طب کے شعبے کو بہتر بنا سکتی ہے۔ مگر جب یہ حد عبور ہو جائے تو انسانی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

ایک اور اہم پہلو معلومات کی درستگی اور ذمہ داری کا ہے۔ چیٹ بوٹس جو معلومات فراہم کرتے ہیں، وہ مختلف ذرائع سے اخذ کی جاتی ہیں، جن میں ہر معلومات مریض کے لیے موزوں نہیں ہوتی۔ اگر کوئی شخص اے آئی کے مشورے پر عمل کر کے نقصان اٹھاتا ہے تو ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ یہ سوال ابھی تک واضح جواب کا منتظر ہے اور یہی قانونی اور اخلاقی خلا اس رجحان کو مزید خطرناک بنا دیتا ہے۔

طبی ماہرین، ڈیجیٹل ہیلتھ اسپیشلسٹس اور پبلک ہیلتھ کے محققین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت صحت کے شعبے میں مددگار معاون تو بن سکتی ہے، مگر فیصلہ ساز متبادل ہرگز نہیں۔ ان کی آرا کا خلاصہ درج ذیل نکات میں کیا جا سکتا ہے:

اے آئی معلومات دے سکتی ہے، تشخیص نہیں
ماہرین کے مطابق چیٹ جی پی ٹی اور دیگر چیٹ بوٹس عام علامات، بیماریوں کے نام اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتے ہیں، مگر وہ مریض کا جسمانی معائنہ، ٹیسٹس اور مکمل طبی پس منظر دیکھے بغیر درست تشخیص نہیں کر سکتے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں انسانی ڈاکٹر کی ضرورت ناگزیر ہو جاتی ہے۔

غلط اطمینان سب سے بڑا خطرہ ہے
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اے آئی سے لیا گیا مشورہ بعض اوقات مریض کو وقتی تسلی دے دیتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ بروقت ڈاکٹر سے رجوع نہیں کرتا۔ کئی سنگین بیماریاں ابتدا میں معمولی علامات کے ساتھ ظاہر ہوتی ہیں، اور تاخیر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

مہنگا علاج، اصل مسئلے کی جڑ
پبلک ہیلتھ ماہرین کے مطابق اگر لوگ اے آئی کی طرف جا رہے ہیں تو اس کی بڑی وجہ مہنگا اور پیچیدہ طبی نظام ہے۔ ان کے خیال میں مسئلہ اے آئی نہیں بلکہ وہ معاشی دباؤ ہے جو مریض کو ڈاکٹر سے دور کر رہا ہے۔ اگر صحت کی سہولتیں سستی اور آسان ہوں تو یہ رجحان خود بخود کم ہو سکتا ہے۔

اے آئی کو ڈاکٹر کا معاون بنانا چاہیے
ڈیجیٹل ہیلتھ کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کو ڈاکٹروں کے لیے ایک ٹول کے طور پر استعمال کیا جائے، جیسے مریضوں کا ڈیٹا منظم کرنا، ابتدائی اسکریننگ یا طبی ریکارڈ تک فوری رسائی۔ اس سے نہ صرف وقت بچے گا بلکہ علاج کا معیار بھی بہتر ہو سکتا ہے۔

اخلاقی اور قانونی خلا تشویش ناک ہے
ماہرین یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اے آئی کے مشورے پر عمل کر کے نقصان اٹھاتا ہے تو ذمہ داری کس پر ہوگی؟ چیٹ بوٹ بنانے والی کمپنی، پلیٹ فارم یا خود صارف؟ ان کے مطابق جب تک واضح قوانین نہیں بنتے، اے آئی پر اندھا اعتماد خطرناک رہے گا۔

عوامی آگاہی سب سے ضروری قدم
طبی ماہرین متفق ہیں کہ عوام کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ اے آئی کو صرف معلومات کے لیے استعمال کریں، علاج کے فیصلے کے لیے نہیں۔ ڈاکٹر سے مشورہ لینا آج بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا ماضی میں تھا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین