پاکستان کے متنازع یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف توہینِ مذہب کے مقدمے میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ لندن سے واپسی کے بعد شعائرِ اسلام کی مبینہ بے حرمتی کے کیس میں سیشن عدالت وسطی نے ان کی عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔
کراچی سٹی کورٹ میں سیشن عدالت وسطی کے روبرو مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں ملزم رجب بٹ اپنے وکیل میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ اس موقع پر رجب بٹ کی جانب سے عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی گئی۔
سماعت کے دوران وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں اور یہ مقدمہ سی آر پی سی 196 کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ وکیل کے مطابق نہ تو صوبائی حکومت اور نہ ہی وفاقی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باقاعدہ شکایت درج کرائی گئی ہے۔ انہوں نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ ملزم تفتیش میں شامل ہو کر مکمل تعاون کرے گا، لہٰذا عبوری ضمانت منظور کی جائے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد رجب بٹ کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
یاد رہے کہ اس مقدمے میں رجب بٹ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے پرفیوم برانڈ کی لانچنگ کے دوران ایسے الفاظ اور انداز اختیار کیے جس سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے، اور مبینہ طور پر پاکستان کے توہینِ مذہب کے قوانین کا مذاق اڑایا گیا۔
رجب بٹ ان دنوں مختلف تنازعات کی وجہ سے خبروں میں ہیں، جبکہ اس کیس کی آئندہ سماعتوں میں مزید قانونی پیش رفت متوقع ہے۔
ماہرین کی رائے
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ رجب بٹ کے خلاف درج مقدمہ ایک حساس قانونی معاملہ ہے، جس میں قانون اور جذبات دونوں کا توازن رکھنا ضروری ہے۔
سینئر قانون دان ایڈووکیٹ سلمان اکرم راجہ کے مطابق توہینِ مذہب سے متعلق قوانین میں سی آر پی سی 196 ایک بنیادی حفاظتی شق ہے، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اس نوعیت کے مقدمات بلا جواز یا ذاتی عناد کی بنیاد پر درج نہ ہوں۔
ان کے بقول“اگر حکومت کی جانب سے باقاعدہ اجازت یا شکایت موجود نہ ہو تو مقدمے کی قانونی حیثیت کمزور ہو جاتی ہے، یہی نکتہ عبوری ضمانت کی بنیاد بنا ہے۔”
آئینی و فوجداری امور کی ماہر ڈاکٹر عائشہ ملک کا کہنا ہے کہ عبوری ضمانت کا مطلب ملزم کو بے گناہ قرار دینا نہیں بلکہ اسے گرفتاری سے عارضی تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا“ایسے مقدمات میں عدالتیں انتہائی احتیاط سے قدم اٹھاتی ہیں تاکہ نہ قانون کی خلاف ورزی ہو اور نہ ہی کسی کے مذہبی جذبات کو نظرانداز کیا جائے۔”
سوشل میڈیا قوانین کے ماہر ایڈووکیٹ احمد بلال کے مطابق یوٹیوبرز اور ڈیجیٹل انفلوئنسرز کے لیے یہ کیس ایک وارننگ بھی ہے۔
ان کا کہنا تھا:آن لائن پلیٹ فارمز پر کہی گئی باتیں بھی قانون کے دائرے میں آتی ہیں، خاص طور پر جب وہ مذہبی نوعیت کی ہوں۔”
رجب بٹ کے خلاف توہینِ مذہب کا مقدمہ پاکستان میں سوشل میڈیا، مذہبی حساسیت اور قانونی حدود کے باہمی تصادم کی ایک واضح مثال بن چکا ہے۔ یہ کیس نہ صرف ایک فرد کے خلاف کارروائی کا معاملہ ہے بلکہ اس نے ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والوں کے کردار اور ذمہ داریوں پر بھی سوال اٹھا دیے ہیں۔
عدالت کی جانب سے عبوری ضمانت کی منظوری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ابتدائی مرحلے پر شواہد اور قانونی تقاضوں کو حتمی طور پر پورا نہیں کیا جا سکا۔ خاص طور پر سی آر پی سی 196 کی شرط اس کیس میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ اس کے بغیر اس نوعیت کے مقدمات آگے بڑھانا مشکل ہو جاتا ہے۔
دوسری جانب، یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ مذہبی معاملات پاکستانی معاشرے میں انتہائی حساس ہیں۔ ایسے میں کسی بھی عوامی شخصیت کا غیر محتاط بیان نہ صرف قانونی مشکلات بلکہ عوامی ردِعمل کا سبب بھی بن سکتا ہے، جیسا کہ اس کیس میں دیکھنے میں آیا۔
یہ مقدمہ مستقبل میں ایک نظیر بھی بن سکتا ہے کہ عدالتیں سوشل میڈیا پر کیے گئے بیانات کو کس حد تک قابلِ گرفت سمجھتی ہیں اور کن قانونی شرائط کے تحت کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر تحقیقات میں شواہد مضبوط نہ ہوئے تو مقدمے کی قانونی حیثیت کمزور ہو سکتی ہے، تاہم اگر کسی نیت یا عمل سے مذہبی جذبات کو واقعی مجروح کرنے کا پہلو ثابت ہو گیا تو نتائج سنگین بھی ہو سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ کیس ایک اہم یاد دہانی ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی کے ساتھ قانونی اور سماجی ذمہ داریاں بھی جڑی ہوتی ہیں، خاص طور پر جب معاملہ مذہبی حساسیت کا ہو۔





















