دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی دولت کا نیا عالمی ریکارڈ

امریکی عدالت نے ٹیسلا میں 2018 کا تنخواہی پیکیج بحال کر دیا، جو دنیا کا سب سے بڑا پیکیج قرار

واشنگٹن / وانا:دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے دولت کے اعتبار سے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ ان کی مجموعی دولت 750 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، جس کے ساتھ ہی وہ یہ سنگِ میل عبور کرنے والے دنیا کے پہلے فرد بن گئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 16 دسمبر تک ایلون مسک کی دولت کا حجم تقریباً 600 ارب ڈالر تھا، تاہم امریکی عدالت کی جانب سے ٹیسلا میں ان کے لیے 2018 کا تنخواہی پیکیج بحال کیے جانے کے بعد ان کی دولت میں یکدم غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

عدالتی فیصلے کے تحت ایلون مسک کی تنخواہ 56 ارب ڈالر سے بڑھا کر 139 ارب ڈالر کر دی گئی، جو کارپوریٹ تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا تنخواہی پیکیج قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی فیصلے کے بعد ان کی مجموعی دولت نے 750 ارب ڈالر کی حد عبور کر لی۔

رپورٹ کے مطابق ایلون مسک کی دولت اس وقت دنیا کے دیگر تین امیر ترین افراد کی مجموعی دولت سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔
دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص لیری پیچ کی دولت تقریباً 252.6 ارب ڈالر، تیسرے نمبر پر موجود لیری ایلیسن کی دولت 242.7 ارب ڈالر جبکہ چوتھے امیر ترین شخص جیف بیزوس کی دولت 239.4 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ یوں ایلون مسک کی دولت ان تینوں کے مجموعی اثاثوں سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔

یاد رہے کہ 2018 میں ٹیسلا نے ایلون مسک کو 56 ارب ڈالر کا تنخواہی پیکیج دیا تھا، جسے 2024 میں عدالت نے منسوخ کر دیا تھا۔ تاہم دسمبر 2025 میں ڈیلاویئر سپریم کورٹ نے یہ پیکیج بحال کر دیا، جس کے بعد اس کی مالیت بڑھ کر 139 ارب ڈالر تک جا پہنچی۔

تنخواہ میں اس نمایاں اضافے کے ساتھ ساتھ ایلون مسک کی دیگر کمپنیوں کی قدر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس کی مجموعی مالیت اب 800 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جس میں ایلون مسک کے پاس 42 فیصد حصص موجود ہیں۔

اگر امریکی اسٹاک مارکیٹ میں اسپیس ایکس کی یہ قدر برقرار رہی تو ایلون مسک کے پاس صرف اسپیس ایکس کے حصص کی صورت میں ہی 336 ارب ڈالر سے زائد کی دولت موجود ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایلون مسک کی دولت میں یہ غیر معمولی اضافہ نہ صرف ٹیکنالوجی اور خلائی صنعت میں ان کی مضبوط گرفت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں طاقت کے تیزی سے بدلتے توازن کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

ماہرین کی رائے

کارپوریٹ فنانس اور عالمی معیشت کے ماہرین ایلون مسک کی دولت میں غیر معمولی اضافے کو جدید سرمایہ دارانہ نظام کا ایک غیر مسبوق واقعہ قرار دے رہے ہیں۔

معاشی تجزیہ کار ڈاکٹر سلمان شاہ کے مطابق“750 ارب ڈالر کی دولت کسی ایک فرد کے پاس ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ٹیکنالوجی اور جدت اب دولت سازی کا سب سے طاقتور ذریعہ بن چکی ہے۔ ایلون مسک اس نظام کی سب سے بڑی مثال ہیں۔”

کارپوریٹ گورننس کی ماہر ڈاکٹر نادیہ فاطمہ کا کہنا ہے“ٹیسلا کا تنخواہی پیکیج بحال ہونا صرف مسک کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ یہ سی ای او پاور اور بورڈز کے کردار پر عالمی بحث کو مزید تیز کرے گا۔”

امریکی مارکیٹس کے تجزیہ کار جیمز ہاورڈ کے مطابق“یہ فیصلہ سرمایہ کاروں کے لیے واضح پیغام ہے کہ عدالتیں غیر معمولی کارکردگی کے بدلے غیر معمولی معاوضے کو قبول کر سکتی ہیں۔”

دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کا 750 ارب ڈالر کی دولت کا سنگِ میل عبور کرنا محض ایک عددی کامیابی نہیں بلکہ عالمی معیشت، ٹیکنالوجی اور کارپوریٹ طاقت کے بدلتے توازن کی علامت ہے۔

اس غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجہ امریکی عدالت کی جانب سے ٹیسلا میں 2018 کے تاریخی تنخواہی پیکیج کی بحالی ہے، جو ابتدا میں 56 ارب ڈالر تھا اور اب بڑھ کر 139 ارب ڈالر ہو چکا ہے۔ یہ پیکیج کارپوریٹ تاریخ کا سب سے بڑا پیکیج تصور کیا جاتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ ایلون مسک کی دولت کا بڑا حصہ روایتی تنخواہ یا نقد نہیں بلکہ حصص اور کمپنی ویلیو سے جڑا ہوا ہے۔ اسپیس ایکس کی مالیت 800 ارب ڈالر تک پہنچنا اور اس میں مسک کے 42 فیصد حصص ہونا ان کی دولت کو مزید مستحکم بناتا ہے۔ صرف اسپیس ایکس میں ان کے حصص کی مالیت 336 ارب ڈالر سے زائد بنتی ہے۔

یہ حقیقت کہ ایلون مسک کی دولت دنیا کے دوسرے، تیسرے اور چوتھے امیر ترین افرادلیری پیچ، لیری ایلیسن اور جیف بیزوس کی مجموعی دولت سے بھی زیادہ ہو چکی ہے، عالمی دولت کی غیر مساوی تقسیم کو بھی نمایاں کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مستقبل میں سی ای او تنخواہوں، شیئر ہولڈر حقوق اور کارپوریٹ احتساب سے متعلق قوانین پر گہرا اثر ڈالے گی، جبکہ ٹیکنالوجی سیکٹر میں دولت کے ارتکاز کی رفتار مزید تیز ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین