پاکستان کے نامور گلوکار اور اداکار علی ظفر نے طویل وقفے کے بعد اپنا چوتھا میوزک البم ’’روشنی‘‘ ریلیز کر دیا ہے، جس نے ریلیز ہوتے ہی شائقین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ بولڈ ڈانس مناظر اور جدید موسیقی کے امتزاج کے ساتھ یہ البم 15 سال بعد سامنے آیا ہے، جس میں مجموعی طور پر 12 گانے شامل ہیں۔
’’روشنی‘‘ میں علی ظفر نے مختلف موسیقی کے انداز اور آوازوں کو یکجا کیا ہے۔ اس البم میں السٹیر الون، طلحہ انجم، ڈی جے شاہ رخ اور علی حیدر کے ساتھ خصوصی تعاون شامل ہے، جس کے باعث البم ایک منفرد، جدید اور متنوع ساؤنڈ پیش کرتا ہے۔
البم کی ٹریک لسٹ میں
رُکسانا، 5 اسٹار، ماماسیٹا (السٹیر الون کے ساتھ)، سانولی سلونی (السٹیر الون کے ساتھ)، روشنی، شدت، بے قراری سی، ڈھونڈتا ہوں، تیرے بن میں، چل دل میرے (طلحہ انجم کے ساتھ)، میرا پیار (ڈی جے شاہ رخ کے ساتھ) اور ظالم نظروں سے (علی حیدر کے ساتھ) شامل ہیں۔
البم کے ساتھ ہی گانے ’’رُکسانا‘‘ کی میوزک ویڈیو بھی جاری کر دی گئی ہے، جو لاس اینجلس میں فلمائی گئی ہے۔ ویڈیو میں صاف اور سینماٹک مناظر کے ساتھ جدید کوریوگرافی شامل ہے، جو گانے کی دلکش دھن اور توانائی کو مزید نمایاں کرتی ہے۔
اپنے آرٹسٹ نوٹ میں علی ظفر نے ’’روشنی‘‘ کو روشنی اور سائے، خود احتسابی، اندرونی کشمکش اور جذباتی تضاد کا سفر قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ البم ذاتی تجربات اور تخلیقی ارتقا کی عکاسی کرتا ہے، جس میں موسیقی کے ذریعے احساسات کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
’’روشنی‘‘ کو علی ظفر کے کیریئر میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جہاں وہ طویل عرصے بعد موسیقی کی دنیا میں ایک بھرپور اور جرات مندانہ واپسی کرتے نظر آتے ہیں۔
ماہرین اور میوزک ناقدین کی رائے
میوزک ناقدین اور شوبز ماہرین کے مطابق علی ظفر کا نیا البم ’’روشنی‘‘ ان کے کیریئر کا ایک جرات مندانہ اور بالغ تخلیقی مرحلہ ظاہر کرتا ہے۔
موسیقی کے ناقد احمد بلال کے مطابق“روشنی میں علی ظفر نے روایتی پاپ سے نکل کر جدید، عالمی اور شہری موسیقی کو اپنایا ہے، جو نوجوان نسل کو خاص طور پر متاثر کر رہی ہے۔”
شوبز تجزیہ کار سدرہ امین کا کہنا ہے“بولڈ ڈانس مناظر اور سینماٹک ویژولز پاکستانی میوزک انڈسٹری میں ایک نیا معیار قائم کر رہے ہیں۔ علی ظفر نے خود کو ایک بین الاقوامی آرٹسٹ کے طور پر پیش کیا ہے۔”
میوزک پروڈیوسر وقاص احمد کے مطابق مختلف فنکاروں کے ساتھ اشتراک البم کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
“طلحہ انجم، السٹیر الون اور علی حیدر جیسے فنکاروں کی شمولیت نے البم کو متنوع اور جدید بنا دیا ہے۔”
علی ظفر کا البم ’’روشنی‘‘ محض ایک میوزک ریلیز نہیں بلکہ ان کے تخلیقی ارتقا کی واضح علامت ہے۔ 15 سال کے طویل وقفے کے بعد اس البم کی ریلیز اس بات کا ثبوت ہے کہ علی ظفر نے واپسی کے لیے سوچا سمجھا اور جرات مندانہ راستہ اختیار کیا۔
اس البم میں شامل 12 گانے مختلف جذبات، انداز اور موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں کہیں محبت، کہیں خود احتسابی، کہیں جذباتی کشمکش اور کہیں توانائی سے بھرپور بیٹس نظر آتی ہیں۔ خاص طور پر گانا ’’رُکسانا‘‘ اپنی بولڈ کوریوگرافی اور لاس اینجلس میں فلمائے گئے سینماٹک مناظر کی وجہ سے نمایاں ہے۔
البم میں طلحہ انجم کے ساتھ ریپ فیوژن، السٹیر الون کے ساتھ پاپ الیکٹرانک انداز، اور علی حیدر کے ساتھ نوستالجک ٹچ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ علی ظفر نے موسیقی کی مختلف نسلوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے۔
’’روشنی‘‘ دراصل علی ظفر کے اندرونی سفر، روشنی اور سائے کے امتزاج، اور ذاتی تجربات کی موسیقی میں عکاسی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناقدین اس البم کو ان کے کیریئر کا سب سے ذاتی اور پختہ کام قرار دے رہے ہیں۔





















