فیلڈ مارشل ایک قابلِ احترام شخصیت ہیں ! ٹرمپ نے پھر 8 طیارے گرانےکا ذکرچھیڑ دیا

امریکی بحریہ کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے اور ’گولڈن فلیٹ‘ کے قیام کا اعلان

فلوریڈا(نوشیر عاصم):امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے دنیا میں آٹھ بڑی جنگیں رکوانے میں کردار ادا کیا، جن میں سب سے زیادہ خطرناک پاک بھارت جنگ تھی۔ ان کے مطابق اگر یہ جنگ جاری رہتی تو اس کے منفی اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جاتے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ کے دوران آٹھ جنگی طیارے تباہ ہوئے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک نہایت قابلِ احترام اور مضبوط شخصیت کے حامل ہیں۔

اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے امریکی بحریہ کو دنیا کی بہترین بحری قوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنی نیوی کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج میں دنیا کا طاقتور ترین طیارہ بردار جہاز شامل کیا جا رہا ہے، کیونکہ امریکا کو نئے اور جدید بحری جہازوں کی اشد ضرورت تھی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی آبدوزیں دنیا کی سب سے جدید ہیں اور آبدوز سازی کے شعبے میں امریکا دیگر ممالک سے کم از کم 15 سال آگے ہے۔ ان کے مطابق امریکا کے پاس دنیا کے بہترین ہتھیار اور جدید ترین عسکری آلات موجود ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ امریکا جدید طیارہ بردار جہاز تیار کر رہا ہے جبکہ 15 جدید ترین آبدوزیں اس وقت تیاری کے مختلف مراحل میں ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کا جدید بحری بیڑا دنیا میں کسی بھی ملک کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور یہ طاقت امریکا کے دشمنوں کے لیے خوف کی علامت بنے گی۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ کیریبیئن کے سمندری راستوں سے منشیات کی اسمگلنگ میں 96.2 فیصد کمی لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب دنیا امریکا پر ہنستی تھی، مگر آج وہی ممالک امریکا کا احترام کرتے ہیں، اور چین و روس بھی آبدوزوں کے میدان میں امریکا کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی بحریہ کے ہیڈکوارٹر کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے اور سمندر کے راستے منشیات اسمگل کرنے والی کشتیوں کو براہِ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق امریکا میں منشیات کے داخلے کو ہر صورت روکا جا رہا ہے اور منشیات سے بھری کشتیوں کو سمندر میں ہی تباہ کیا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ سال امریکا میں منشیات کے استعمال سے تین لاکھ افراد ہلاک ہوئے، تاہم منشیات بردار کشتیوں کو تباہ کر کے ہر بار تقریباً 25 ہزار جانیں بچائی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کی سرحدیں محفوظ ہیں اور معیشت مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے امریکی بحریہ کے لیے ’گولڈن فلیٹ‘ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نیا بحری جہاز موجودہ جہازوں کے مقابلے میں 100 گنا زیادہ طاقتور ہوگا، جبکہ ’وکٹری‘ نامی جہاز امریکی فوجی طاقت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

صدر ٹرمپ کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف امریکی دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ جہاز سازی کی امریکی صنعت کی بحالی میں بھی مدد ملے گی۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور اور عسکری حکمتِ عملی کے ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے بیانات محض داخلی سیاسی خطاب نہیں بلکہ عالمی طاقت کے اظہار کا واضح پیغام بھی ہیں۔

سینئر دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) اسلم گھمن کے مطابق“پاک بھارت جنگ کا ذکر کر کے صدر ٹرمپ نے خود کو ایک عالمی ثالث کے طور پر پیش کیا ہے، جبکہ طیارے تباہ ہونے کا بیان جنوبی ایشیا کی حساس صورتحال کو اجاگر کرتا ہے۔”

بین الاقوامی تعلقات کی ماہر ڈاکٹر حنا سرفراز کا کہنا ہے“ٹرمپ کے بیانات میں داخلی سیاست، عسکری طاقت اور عالمی سفارت کاری کا امتزاج نظر آتا ہے۔ امریکی بحری طاقت کو نمایاں کرنا دراصل چین اور روس کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔”

امریکی سیکیورٹی امور کے تجزیہ کار مارک ولیمز کے مطابق“گولڈن فلیٹ اور جدید آبدوزوں کا اعلان امریکا کی بحری برتری کو مستقبل تک برقرار رکھنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔”

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فلوریڈا میں خطاب ایک کثیرالجہتی پیغام لیے ہوئے تھا۔ ایک جانب انہوں نے پاک بھارت جنگ کو دنیا کی سب سے خطرناک جنگ قرار دے کر خود کو عالمی تنازعات روکنے والے رہنما کے طور پر پیش کیا، تو دوسری جانب امریکی بحری طاقت کی برتری کو نمایاں کر کے عالمی طاقتوں کو واضح پیغام دیا۔

پاک بھارت جنگ میں آٹھ طیاروں کی تباہی کا ذکر جنوبی ایشیا کی حساس جغرافیائی صورتحال کو دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بناتا ہے۔ ایسے بیانات نہ صرف خطے کی نزاکت کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ امریکا کے ثالثی کردار کے دعوے کو بھی تقویت دیتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی بحریہ کے لیے ’گولڈن فلیٹ‘ اور جدید طیارہ بردار جہازوں و آبدوزوں کا اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا مستقبل کی جنگوں کو سمندری محاذ پر فیصلہ کن سمجھ رہا ہے۔ 15 جدید آبدوزوں کی تیاری اور جہاز سازی کی صنعت کی بحالی، امریکا کی طویل المدتی دفاعی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔

منشیات اسمگلنگ میں کمی کے دعوے اور بحری کارروائیوں کا ذکر ٹرمپ کی داخلی سیکیورٹی بیانیے کو مضبوط کرتا ہے، جس کے ذریعے وہ سرحدی تحفظ، قانون نافذ کرنے اور عوامی تحفظ کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

مجموعی طور پر یہ خطاب امریکی عسکری طاقت، عالمی سفارت کاری اور داخلی سیاسی پیغام رسانی کا امتزاج تھا، جس کے اثرات نہ صرف امریکا بلکہ جنوبی ایشیا اور عالمی سلامتی پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین