بچوں کے لیے صرف سبزیوں پر مبنی غذا فائدہ مند یا نقصان دہ؟

اصل فرق متوازن منصوبہ بندی اور غذائی اجزاء کی درست تکمیل سے پڑتا ہے

بچوں کے لیے صرف سبزیوں پر مبنی غذا بعض حالات میں صحت بخش ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اگر اس کی مناسب منصوبہ بندی نہ کی جائے تو یہ غذا بچوں کی نشوونما کے لیے نقصان دہ بھی بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس حوالے سے اصل فیصلہ غذا کی نوعیت سے نہیں بلکہ غذائی توازن اور ضروری اجزاء کی مکمل فراہمی سے ہوتا ہے۔

اگر سبزیوں پر مبنی غذا سائنسی بنیادوں پر ترتیب دی جائے تو یہ دل کی صحت کے لیے مفید ہو سکتی ہے۔ ایسی غذا میں فائبر، وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو بچوں کو موٹاپے، شوگر اور دیگر طویل المدتی بیماریوں سے بچانے میں مدد دیتی ہے۔

تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے کچھ غذائی اجزاء نہایت ضروری ہوتے ہیں، جنہیں صرف سبزیوں سے حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ان اجزاء کی کمی بچوں کی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

اہم غذائی اجزاء جن کی کمی کا خدشہ رہتا ہے، ان میں
پروٹین شامل ہے جو پٹھوں کی مضبوطی اور نشوونما کے لیے ضروری ہے،
وٹامن بی 12 جو دماغ اور اعصابی نظام کی درست کارکردگی کے لیے اہم ہے،
آئرن جو خون کی کمی سے بچاتا ہے،
کیلشیم اور وٹامن ڈی جو ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے ناگزیر ہیں،
اومیگا 3 فیٹی ایسڈز جو دماغی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں،
اور زنک جو قوتِ مدافعت کو مضبوط بناتا ہے۔

ان غذائی اجزاء کی کمی کے باعث بچوں کے قد اور وزن کی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے، کمزوری، تھکن اور توجہ کی کمی پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ ہڈیوں اور دانتوں کے مسائل بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر والدین بچوں کے لیے سبزیوں پر مبنی غذا اختیار کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ماہرِ غذائیت کے مشورے سے مکمل اور متوازن غذائی منصوبہ تیار کرنا چاہیے، تاکہ بچوں کی صحت اور نشوونما پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔

ماہرین کی رائے

ماہرِ غذائیت ڈاکٹر سدرہ فاطمہ کے مطابق“سبزیوں پر مبنی غذا بذاتِ خود نقصان دہ نہیں، مگر بچوں کے لیے یہ تبھی محفوظ ہے جب والدین غذائی اجزاء کی کمی کو سمجھ کر متبادل ذرائع شامل کریں۔”

بچوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر عمران علی کا کہنا ہے“بچوں میں وٹامن بی 12، آئرن اور کیلشیم کی کمی خاموشی سے بڑھتی ہے، جو بعد میں کمزوری، سیکھنے میں دشواری اور ہڈیوں کے مسائل کی صورت میں سامنے آ سکتی ہے۔”

اہم غذائی اجزاء جن کی کمی کا خدشہ ہوتا ہے

  • پروٹین  پٹھوں، خلیوں اور مجموعی نشوونما کے لیے

  • وٹامن B12 دماغ اور اعصابی نظام کی صحت کے لیے

  • آئرن  خون کی کمی سے بچاؤ کے لیے

  • کیلشیم اور وٹامن ڈی  ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے

  • اومیگا 3 فیٹی ایسڈز  دماغی نشوونما اور یادداشت کے لیے

  • زنک  قوتِ مدافعت اور زخم بھرنے کے لیے

ان اجزاء کی کمی سے بچوں کے قد اور وزن کی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے، ساتھ ہی تھکن، کمزوری، توجہ کی کمی، سیکھنے میں مشکلات اور ہڈیوں و دانتوں کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

بچوں کے لیے سبزیوں پر مبنی غذا اختیار کرنا ایک نظریاتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک سائنسی ذمہ داری ہے۔ جدید تحقیق بتاتی ہے کہ ویجیٹیرین یا ویگن غذا بچوں کو دی جا سکتی ہے، بشرطیکہ والدین اس میں پروٹین، وٹامنز اور معدنیات کے متبادل ذرائع شامل کریں۔

مسئلہ خود سبزیوں میں نہیں بلکہ غذائی کمی کو نظر انداز کرنے میں ہے۔ اگر والدین بغیر منصوبہ بندی کے صرف سبزیوں پر اکتفا کریں تو یہ بچوں کی طویل المدتی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ماہرین غذائی سپلیمنٹس، متبادل غذاؤں اور باقاعدہ میڈیکل مانیٹرنگ پر زور دیتے ہیں۔

والدین کے لیے عملی رہنمائی

✔️ بچے کی عمر کے مطابق غذائی منصوبہ بنائیں
✔️ دالیں، لوبیا، سویا، گری دار میوے شامل کریں
✔️ وٹامن B12 اور وٹامن D کی سطح چیک کروائیں
✔️ ماہرِ غذائیت سے باقاعدہ مشورہ کریں
✔️ بچے کے وزن اور قد کی باقاعدہ نگرانی کریں

متعلقہ خبریں

مقبول ترین