اسلام آباد:آئندہ سال حج 2026ء کے دوران خدمات انجام دینے کے لیے خدام الحجاج کی سلیکشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس پر سرکاری ملازمین نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شکایات درج کرا دی ہیں۔
خدام الحجاج کے لیے درخواست دینے والے سرکاری ملازمین نے این ٹی ایس کے تحت لیے گئے ٹیسٹ کے بعد میرٹ کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ امیدواروں کے مطابق فزیکل ٹیسٹ کرائے بغیر ہی حتمی میرٹ لسٹ آویزاں کر دی گئی، جس سے متعدد اہل امیدواروں کی حق تلفی ہوئی۔
شکایات درج کروانے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ 20 دسمبر کی شب جیسے ہی نتائج پورٹل پر اپ لوڈ ہوئے، چند ہی منٹوں بعد مخصوص امیدواروں کو سلیکشن کے پیغامات موصول ہو گئے، جس نے پورے عمل پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا۔
متاثرہ امیدواروں نے ان بے ضابطگیوں کے خلاف وزیراعظم شکایت پورٹل اور وفاقی محتسب کو تحریری درخواستیں ارسال کر دی ہیں، جن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ خدام الحجاج کی سلیکشن مکمل طور پر میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر کی جائے۔
ذرائع کے مطابق اس بار کامیاب قرار دیے گئے امیدواروں کے فزیکل ٹیسٹ بھی مبینہ طور پر ختم کر دیے گئے ہیں، جو ماضی میں سلیکشن کا لازمی حصہ ہوا کرتے تھے۔
دوسری جانب وزارت مذہبی امور کے ترجمان کا مؤقف ہے کہ خدام الحجاج کی سلیکشن ہر سال ایک طے شدہ پالیسی کے تحت کی جاتی ہے، جس کے مطابق 70 فیصد پرانے جبکہ 30 فیصد نئے افراد کو شامل کیا جاتا ہے، اور تمام صوبوں کو آبادی کے تناسب سے کوٹہ دیا جاتا ہے۔
ماہرین کی رائے
انتظامی امور کے ماہر ڈاکٹر خرم اقبال کے مطابق“اگر فزیکل ٹیسٹ کے بغیر ہی میرٹ لسٹ جاری کی گئی ہے تو یہ واضح طور پر سروس رولز اور شفافیت کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔”
سابق سرکاری افسر سلیم اللہ خان کا کہنا ہے“خدام الحجاج جیسی حساس ذمہ داری کے لیے غیر شفاف سلیکشن نہ صرف نظام پر سوال اٹھاتی ہے بلکہ حج انتظامات کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔”
قانونی ماہر ایڈووکیٹ عائشہ فاطمہ کے مطابق“اگر امیدواروں کو میرٹ کے خلاف باہر کیا گیا ہے تو وفاقی محتسب یا عدالت سے رجوع کرنا ان کا قانونی حق ہے۔”
خدام الحجاج کا انتخاب ایک انتظامی عمل ہی نہیں بلکہ ایک مذہبی و قومی ذمہ داری بھی ہے۔ ایسے میں سلیکشن کے عمل پر اٹھنے والے سوالات حکومت کے شفاف طرزِ حکمرانی کے دعوؤں کے لیے ایک سنجیدہ امتحان بن گئے ہیں۔
نتائج کے فوری بعد مخصوص امیدواروں کو پیغامات موصول ہونا، فزیکل ٹیسٹ کا نہ ہونا اور امیدواروں کی بڑی تعداد کی شکایات اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ سلیکشن کے عمل کو مزید شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔
اگر حکومت نے ان شکایات کا بروقت اور غیر جانبدارانہ نوٹس نہ لیا تو نہ صرف متاثرہ امیدواروں کا اعتماد مجروح ہوگا بلکہ مستقبل میں حج انتظامات پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ضروری ہے کہ
میرٹ لسٹ کی آزادانہ جانچ کی جائے
فزیکل ٹیسٹ اور دیگر مراحل دوبارہ کرائے جائیں
اور پورے عمل کو عوام کے سامنے شفاف بنایا جائے
تاکہ حج جیسے مقدس فریضے کی خدمت کے لیے واقعی اہل اور مستحق افراد کا انتخاب یقینی بنایا جا سکے۔





















