اسرائیل نئے مسلم ملک ’صومالی لینڈ‘ کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا

صومالی لینڈ نے طویل جنگ کے بعد 1991 میں صومالیہ سے علیحدگی اختیار کی تھی

اسرائیل نے ایک نئے مسلم اکثریتی ملک صومالی لینڈ کو باضابطہ طور پر ایک آزاد ریاست تسلیم کر لیا ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیل ایسا کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے، کیونکہ اس سے قبل کسی بھی ریاست نے صومالی لینڈ کو رسمی طور پر تسلیم نہیں کیا تھا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صومالی لینڈ ان ممالک میں شامل ہے جو غزہ سے فلسطینیوں کی ممکنہ آبادکاری کے معاملے پر اسرائیل سے رابطے میں تھے۔

صومالی لینڈ نے 1991 میں صومالیہ سے علیحدگی اختیار کی تھی، یہ علیحدگی ایک طویل خانہ جنگی اور سیاسی عدم استحکام کے بعد عمل میں آئی تھی۔

اس خطے میں اکثریتی آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے، جبکہ عربی اور صومالی زبانیں بولی جاتی ہیں۔

اسرائیلی حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے پر وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور وزیر خارجہ نے باضابطہ طور پر دستخط کر دیے ہیں۔

دوسری جانب صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمان محمد عبداللہی نے بھی اپنی حکومت کی جانب سے اس معاہدے پر دستخط کیے۔

اس موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم اور صومالی لینڈ کے صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے اس پیش رفت کو تاریخی قرار دیا۔

بینجمن نیتن یاہو نے صومالی لینڈ کے صدر کو اسرائیل کے سرکاری دورے کی دعوت دی اور کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی صومالی لینڈ کی ابراہیم معاہدوں میں شمولیت کی خواہش سے آگاہ کریں گے۔

صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمان محمد عبداللہی نے اسرائیل کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اپنی قوم کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔

انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے اور ابراہیم معاہدوں میں شامل ہونے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

تاہم اسرائیل کے اس فیصلے پر اندرونِ ملک تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔

اسرائیلی چینل 12 کے مطابق ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبردار کیا ہے کہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے سے فلسطینی ریاست کے حوالے سے اسرائیل کے دیرینہ مؤقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ عالمی برادری اب بھی صومالی لینڈ کو صومالیہ کا حصہ تصور کرتی ہے، جس کے باعث یہ فیصلہ سفارتی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔

یاد رہے کہ صومالی لینڈ نے 1960 میں مختصر عرصے کے لیے آزادی حاصل کی تھی، جسے اسرائیل سمیت 35 ممالک نے اس وقت تسلیم کیا تھا۔

بعد ازاں صومالی لینڈ نے صومالیہ کے ساتھ اتحاد کر لیا، تاہم یہ اتحاد زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔

طویل جنگوں اور سیاسی کشمکش کے بعد صومالی لینڈ نے 1991 میں دوبارہ علیحدہ ہو کر خود کو ایک آزاد ریاست قرار دیا تھا۔

اگرچہ اس اعلان کے بعد کئی دہائیاں گزر چکی ہیں، مگر اب تک کسی بھی ملک نے اسے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا تھا۔

البتہ برطانیہ، ایتھوپیا، ترکی، متحدہ عرب امارات، ڈنمارک، کینیا اور تائیوان جیسے ممالک نے وہاں رابطہ دفاتر قائم کر رکھے ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے بعد ماہرین کے مطابق صومالی لینڈ کی بین الاقوامی حیثیت پر نئی بحث کا آغاز ہو سکتا ہے۔

اسرائیل میں ردِعمل

اسرائیل کے اس فیصلے پر اندرونِ ملک تنقید بھی سامنے آئی ہے۔
اسرائیلی چینل 12 کے مطابق ایک سینئر عہدیدار نے خبردار کیا ہے
کہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے سے
فلسطینی ریاست کے حوالے سے اسرائیل کا دیرینہ مؤقف کمزور پڑ سکتا ہے۔

عہدیدار کے مطابق عالمی برادری اب بھی صومالی لینڈ کو
صومالیہ کا حصہ تصور کرتی ہے،
ایسے میں یہ فیصلہ سفارتی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔

تاریخی پس منظر

صومالی لینڈ نے
1960 میں مختصر مدت کے لیے آزادی حاصل کی تھی،
جسے اس وقت اسرائیل سمیت 35 ممالک نے تسلیم کیا تھا۔

بعد ازاں صومالی لینڈ نے صومالیہ کے ساتھ اتحاد کیا
مگر یہ اتحاد ناکام ہو گیا۔

طویل خانہ جنگی کے بعد
1991 میں صومالی لینڈ نے دوبارہ علیحدگی کا اعلان کیا،
تاہم اب تک اسے باضابطہ عالمی تسلیمیت حاصل نہ ہو سکی تھی۔

البتہ برطانیہ، ایتھوپیا، ترکی، متحدہ عرب امارات، ڈنمارک، کینیا
اور تائیوان جیسے ممالک وہاں رابطہ دفاتر قائم کر چکے ہیں۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق
اسرائیل کا یہ فیصلہ مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کی سیاست میں نئی صف بندی کا آغاز ہو سکتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ
یہ اقدام اسرائیل کے لیے افریقی خطے میں اثرورسوخ بڑھانے
اور عرب دنیا میں نئے اتحادی تلاش کرنے کی کوشش ہے۔

اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا
محض سفارتی اقدام نہیں
بلکہ ایک اسٹریٹجک جیو پولیٹیکل چال بھی تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ فیصلہ
ابراہیم معاہدوں کے دائرہ کار کو افریقہ تک وسعت دینے
اور فلسطینی مسئلے پر دباؤ کم کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔

تاہم اس کے نتیجے میں
عالمی سطح پر صومالیہ، عرب دنیا اور اسلامی ممالک کے ردِعمل
اس فیصلے کے مستقبل کا تعین کریں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین