کرکٹ کی دنیا میں باکسنگ ڈے ٹیسٹ کو ایک خاص اور تاریخی مقام حاصل ہے، مگر بہت سے شائقین آج بھی یہ سوال کرتے ہیں کہ آخر باکسنگ ڈے ٹیسٹ ہے کیا؟ اس کا نام باکسنگ کیوں رکھا گیا، اور اس کا کرسمس سے کیا تعلق ہے؟ بعض لوگ اسے باکسنگ کے کھیل سے جوڑ دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔
درحقیقت کرسمس عیسائیوں کا مذہبی تہوار ہے جو ہر سال 25 دسمبر کو منایا جاتا ہے، جبکہ اس کے اگلے دن یعنی 26 دسمبر کو باکسنگ ڈے کہا جاتا ہے۔ یہی وہ دن ہے جس سے باکسنگ ڈے ٹیسٹ کی روایت جڑی ہوئی ہے۔
آسٹریلیا میں ہر سال 26 دسمبر سے شروع ہونے والا ٹیسٹ میچ، جو تاریخی میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جاتا ہے، باکسنگ ڈے ٹیسٹ کہلاتا ہے۔ یہ میچ عموماً 30 دسمبر تک جاری رہتا ہے اور دنیا بھر میں کروڑوں شائقین کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔
باکسنگ ڈے کے نام کی دو مشہور وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق، چرچوں میں لگے خیراتی ڈبے (Charity Boxes) کرسمس کے بعد 26 دسمبر کو کھولے جاتے تھے اور ان میں جمع رقم غریبوں میں تقسیم کی جاتی تھی۔ انہی ڈبوں (Boxes) کی وجہ سے اس دن کو باکسنگ ڈے کہا جانے لگا۔
دوسری روایت وکٹورین دور سے جڑی ہے، جب آجر حضرات اپنے ملازمین کو تحائف دیا کرتے تھے، جو عموماً ڈبوں میں پیک ہوتے تھے۔ اس لیے 26 دسمبر کو باکسنگ ڈے کا نام دیا گیا، جس کا کرکٹ یا باکسنگ کے کھیل سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔
آسٹریلیا میں دسمبر کا موسم کرکٹ کے لیے نہایت موزوں ہوتا ہے، اسی لیے یہ روایت قائم ہوئی کہ 26 دسمبر کو میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں ایک بڑا ٹیسٹ میچ کھیلا جائے۔ 1980 کے بعد سے اب تک ہر سال ایم سی جی باکسنگ ڈے ٹیسٹ کی میزبانی کرتا آ رہا ہے، اور یہ میچ آسٹریلوی کرکٹ کی سب سے بڑی روایات میں شمار ہوتا ہے۔
رواں برس بھی آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان کھیلا جانے والا ٹیسٹ میچ باکسنگ ڈے ٹیسٹ کہلایا، جس نے ایک بار پھر کرکٹ شائقین کو تاریخی ماحول کا لطف دیا۔
صرف کرکٹ ہی نہیں، بلکہ باکسنگ ڈے کے موقع پر دنیا بھر میں فٹبال، ہارس ریسنگ، رگبی اور دیگر بڑے اسپورٹس ایونٹس بھی منعقد ہوتے ہیں۔ اس دن خریداری، خیرات اور تفریحی سرگرمیوں کو بھی خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔
پاکستان کی کرکٹ ٹیم اب تک چار مرتبہ باکسنگ ڈے ٹیسٹ کھیل چکی ہے۔
پہلا میچ 1983 میں کھیلا گیا جو بغیر نتیجے کے ختم ہوا،
2009 میں دو میچوں میں آسٹریلیا نے پاکستان کو شکست دی،
جبکہ آخری بار پاکستان نے 2016 میں باکسنگ ڈے ٹیسٹ کھیلا، جو ایک بار پھر آسٹریلیا کے نام رہا۔
بھارت سمیت دیگر ممالک کی ٹیمیں بھی گزشتہ دہائیوں سے باکسنگ ڈے ٹیسٹ کھیلتی آ رہی ہیں، تاہم یہ میچ سب سے زیادہ آسٹریلیا اور میلبرن کرکٹ گراؤنڈ کے ساتھ ہی پہچانا جاتا ہے۔
یوں باکسنگ ڈے ٹیسٹ نہ صرف کرکٹ کی ایک عظیم روایت ہے بلکہ یہ تہوار، کھیل اور ثقافت کے حسین امتزاج کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
باکسنگ ڈے ٹیسٹ کیا ہے اور یہ روایت کیسے بنی؟
کرکٹ کی دنیا میں باکسنگ ڈے ٹیسٹ ایک تاریخی اور روایتی مقابلہ سمجھا جاتا ہے، تاہم اکثر لوگ اس نام کو سن کر اسے باکسنگ (مکے بازی) کے کھیل سے جوڑ لیتے ہیں، حالانکہ اس کا باکسنگ سے کوئی تعلق نہیں۔
اصل میں Boxing Day، کرسمس کے اگلے دن یعنی 26 دسمبر کو کہا جاتا ہے۔ کرسمس 25 دسمبر کو منایا جاتا ہے اور اس کے فوراً بعد آنے والا دن برطانوی روایت میں باکسنگ ڈے کہلاتا ہے۔
آسٹریلیا میں ہر سال 26 دسمبر سے شروع ہونے والا ٹیسٹ میچ، جو تاریخی Melbourne Cricket Ground میں کھیلا جاتا ہے، باکسنگ ڈے ٹیسٹ کہلاتا ہے۔
باکسنگ ڈے نام کیوں رکھا گیا؟
تاریخ دانوں کے مطابق اس نام کی دو بڑی وجوہات بیان کی جاتی ہیں:
-
چرچ کی روایت
برطانیہ میں چرچز میں خیرات کے لیے باکس رکھے جاتے تھے، جنہیں 26 دسمبر کو کھول کر غریبوں میں تقسیم کیا جاتا تھا، اسی لیے اسے باکسنگ ڈے کہا گیا۔ -
وکٹورین دور کی روایت
اس دور میں مالکان اپنے ملازمین کو 26 دسمبر کو تحائف دیتے تھے، جو باکسز میں پیک ہوتے تھے، اسی وجہ سے اس دن کو باکسنگ ڈے کہا جانے لگا۔
اسی تاریخی پس منظر کے باعث 26 دسمبر کو شروع ہونے والا ٹیسٹ میچ باکسنگ ڈے ٹیسٹ کہلایا۔
آسٹریلیا اور باکسنگ ڈے ٹیسٹ
آسٹریلیا میں دسمبر کے مہینے میں موسم کرکٹ کے لیے انتہائی موزوں ہوتا ہے، اسی لیے 1980 کے بعد سے آج تک ہر سال 26 دسمبر کو میلبرن کرکٹ گراؤنڈ ٹیسٹ میچ کی میزبانی کرتا آ رہا ہے۔
یہ میچ اکثر آسٹریلیا کرکٹ ٹیم اور بڑی مہمان ٹیموں کے درمیان کھیلا جاتا ہے، جن میں انگلینڈ کرکٹ ٹیم اور بھارت شامل ہیں۔
پاکستان اور باکسنگ ڈے ٹیسٹ
پاکستان کی پاکستان کرکٹ ٹیم اب تک 4 مرتبہ باکسنگ ڈے ٹیسٹ کھیل چکی ہے:
-
1983: میچ ڈرا
-
2009: دو میچ، دونوں میں آسٹریلیا کامیاب
-
2016: آخری باکسنگ ڈے ٹیسٹ، آسٹریلیا فاتح
پاکستان کو تاحال باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
صرف کرکٹ نہیں، عالمی اسپورٹس ڈے بھی
باکسنگ ڈے صرف کرکٹ تک محدود نہیں۔ اس دن:
-
یورپ میں فٹبال کے بڑے میچز
-
برطانیہ میں ہارس ریسنگ
-
مختلف ممالک میں اسپورٹس فیسٹیول
منعقد کیے جاتے ہیں، جبکہ لوگ شاپنگ، تفریح اور خیرات کو بھی ترجیح دیتے ہیں۔
بین الاقوامی و ثقافتی تجزیہ
ماہرین کے مطابق باکسنگ ڈے ٹیسٹ محض ایک کرکٹ میچ نہیں بلکہ برطانوی نوآبادیاتی تاریخ، کھیل اور ثقافت کا امتزاج ہے۔ آسٹریلیا نے اس روایت کو جدید کرکٹ برانڈنگ میں تبدیل کر دیا ہے، جس سے کھیل کو عالمی سطح پر شناخت ملی۔
یہی وجہ ہے کہ باکسنگ ڈے ٹیسٹ آج دنیا کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے ٹیسٹ میچز میں شمار ہوتا ہے۔
ماہرین کی رائے
کرکٹ تجزیہ کار ہارون رشید کے مطابق:
“باکسنگ ڈے ٹیسٹ کرکٹ کی روح ہے، یہ روایت شائقین اور کھلاڑیوں دونوں کے لیے تہوار کی حیثیت رکھتی ہے۔”
سپورٹس مورخ ڈاکٹر فہد حسین کہتے ہیں:
“یہ میچ اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح ایک ثقافتی دن کو کھیل کے ذریعے عالمی شناخت دی جا سکتی ہے۔”





















