1990 میں ریلیز ہونے والی مشہور فلم ہوم اَ لون کو آج پورے 35 برس مکمل ہو چکے ہیں، مگر یہ فلم آج بھی ناظرین کے ذہنوں میں تازہ اور دلوں کے قریب ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس نے یہ فلم نہ دیکھی ہو، لیکن اس کے باوجود اس سے جڑے کئی دلچسپ آف اسکرین حقائق ایسے ہیں جن سے کم ہی لوگ واقف ہیں۔
یہ فلم اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک بڑا رسک سمجھی جا رہی تھی، کیونکہ پوری کہانی ایک بچے کے گرد گھومتی ہے اور مرکزی کردار بھی ایک کم عمر بچہ ہی ادا کرتا ہے۔ تاہم ریلیز کے بعد یہ فلم دیکھتے ہی دیکھتے عالمی شہرت حاصل کر گئی اور کرسمس فلموں کی تاریخ میں ایک یادگار مقام بنا لیا۔
کرسمس اور ہوم اَ لون کا گہرا رشتہ
ہوم اَ لون آج بھی کرسمس کی روایات کا لازمی حصہ سمجھی جاتی ہے۔ فلم کی کہانی میں ننھا لڑکا کرسمس کی تعطیلات کے دوران گھر میں اکیلا رہ جاتا ہے جبکہ اس کا خاندان چھٹیاں منانے چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ فلم ہر سال کرسمس کے موقع پر دنیا بھر میں دوبارہ نشر کی جاتی ہے۔
برطانیہ میں بھی اس سال کرسمس کے دن فلم کو ایک بار پھر ٹی وی پر دکھایا جا رہا ہے، تاکہ نئی نسل کے ناظرین بھی اس کلاسک فلم سے لطف اندوز ہو سکیں۔
کہانی کا مختصر خلاصہ
فلم کی کہانی آٹھ سالہ کیون میکلسٹر کے گرد گھومتی ہے، جو کرسمس کی چھٹیوں پر خاندان کے سفر کے دوران ایک غلطی کے باعث گھر میں اکیلا رہ جاتا ہے۔
ابتدا میں کیون اپنی آزادی سے لطف اندوز ہوتا ہے، مگر حالات اس وقت بدل جاتے ہیں جب اس کا گھر چوروں کے نشانے پر آ جاتا ہے۔ اس کے بعد کیون اپنی ذہانت، چالاکی اور شرارتی منصوبوں کے ذریعے گھر کا دفاع کرتا ہے۔
میکالے کلکن اور راتوں رات شہرت
فلم نے کم عمر اداکار میکالے کلکن کو راتوں رات عالمی شہرت دلا دی۔ شوٹنگ کے وقت ان کی عمر صرف 10 سال تھی، جس کے باعث بچوں سے متعلق قوانین کے تحت وہ رات گئے تک شوٹنگ نہیں کر سکتے تھے۔
ہدایتکار نے خود کیون کا کردار ادا کیا
بچوں سے متعلق قوانین کے باعث ہدایتکار کرس کولمبس نے فلم کے بعض رات کے مناظر میں خود کیون کا کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق وہ رات 10 بجے کے بعد سے صبح تک وہ مناظر فلماتے رہے جہاں کیون کا چہرہ واضح نہیں دکھایا جاتا۔
کیتھرین اوہارا اور ٹینس بال کا کمال
کیون کی ماں کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ کیتھرین اوہارا کو بھی ایک انوکھے انداز میں مناظر فلمانا پڑے۔
بچوں کی غیر موجودگی میں وہ اسٹینڈ پر لگے ٹینس بال اور اسکرپٹ سپروائزر کی آواز کے ساتھ اپنے سین مکمل کرتی تھیں۔
کیون کے کردار کے لیے پہلا اور آخری انتخاب
اگرچہ سیکڑوں بچوں کے آڈیشن ہوئے، مگر ہدایتکار کرس کولمبس کے ذہن میں ابتدا سے ہی میکالے کلکن تھے۔ یہ انتخاب معروف فلم ساز جان ہیوز کی سفارش پر کیا گیا، جن کے ساتھ میکالے کلکن پہلے بھی کام کر چکے تھے۔
مشہور گھر کی اصل کہانی
فلم میں دکھایا گیا مشہور گھر امریکی ریاست الینوائے کے علاقے وِنیٹکا میں واقع ہے۔ شوٹنگ تقریباً پانچ ماہ تک جاری رہی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دوران گھر کے اصل مالکان وہیں مقیم رہے، کیونکہ معاہدے کے تحت فلمی ٹیم کو گھر میں تبدیلیوں کی اجازت حاصل تھی۔
جو پیسکی کی سنجیدہ اداکاری
فلم میں چور کا کردار ادا کرنے والے اداکار جو پیسکی نے کردار کی سنجیدگی برقرار رکھنے کے لیے میکالے کلکن سے کم سے کم بات چیت کی۔
شوٹنگ کے دوران انہیں واقعی کچھ چوٹیں بھی آئیں، جن میں آگ سے جلنے کا ایک منظر بھی شامل ہے۔
شوٹنگ کے دوران دلچسپ مشکلات
فلم کی شوٹنگ کے دوران اچانک قدرتی برفباری نے کام میں رکاوٹ ڈال دی، جس کے بعد مصنوعی برف کے لیے آلو کے فلیکس، برف مشینیں اور کٹی ہوئی برف استعمال کی گئی۔
کئی مناظر شکاگو کے اسکول اور ہوائی اڈے پر فلمائے گئے، جنہیں فلم میں پیرس کے مناظر کے طور پر دکھایا گیا۔
ہوم اَ لون: ایک لازوال کرسمس کلاسک
ہوم اَ لون محض ایک فلم نہیں بلکہ ایک احساس، ایک روایت اور کرسمس کی خوشیوں کی علامت بن چکی ہے۔ 35 برس گزرنے کے باوجود یہ فلم آج بھی بچوں اور بڑوں، دونوں کے لیے یکساں دلچسپی اور مسکراہٹ کا ذریعہ ہے۔
بین الاقوامی و ثقافتی تجزیہ
’ہوم الون‘ محض ایک کامیاب فلم نہیں بلکہ عالمی کرسمس کلچر کی علامت بن چکی ہے۔ امریکا، برطانیہ، یورپ اور ایشیا میں یہ فلم ہر سال تہوار کے موقع پر نشر کی جاتی ہے، جس سے یہ نسل در نسل مشترکہ یادداشت (Shared Cultural Memory) کا حصہ بن گئی ہے۔
یہ فلم اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح ایک سادہ گھریلو کہانی عالمی سطح پر ثقافتی سفیر بن سکتی ہے۔ بچوں کی خودمختاری، خاندان کی اہمیت اور تہوار کے جذبات—یہ عناصر مختلف ثقافتوں میں یکساں طور پر قبول کیے گئے، جس نے فلم کو عالمی بنا دیا۔
ماہرین کی رائے
فلمی نقاد مارک جانسن کے مطابق“’ہوم الون‘ نے ثابت کیا کہ کامیابی کے لیے بڑے بجٹ نہیں، مضبوط کہانی اور جذباتی ربط کافی ہوتا ہے۔”
ثقافتی ماہر ڈاکٹر ایملی رچرڈز کہتی ہیں:“یہ فلم کرسمس کے دوران خاندان کے اکٹھا ہونے کی علامت بن چکی ہے، اسی لیے 35 سال بعد بھی اس کی مقبولیت برقرار ہے۔”
میڈیا تجزیہ کار احمد فرید کے مطابق“میکالے کلکن کا کردار آج بھی بچوں کے لیے خوداعتمادی اور ذہانت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔”





















