روس میں ایک حیران کن اور تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں 17 سالہ نوجوان نے اپنا ہی خون پینے کے بعد طبیعت بگڑنے پر اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔
روسی میڈیا اور ٹیلی گرام چینلز پر سامنے آنے والی رپورٹس کی بعد ازاں ملکی ہیلتھ حکام نے بھی تصدیق کر دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ماسکو سے تعلق رکھنے والے نوجوان نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھنے کے بعد یہ خطرناک قدم اٹھایا۔
رپورٹ کے مطابق نوجوان نے سرنج کے ذریعے اپنا خون نکالا اور اسے پی لیا۔ اس کا خیال تھا کہ اس عمل سے خون میں آئرن اور ہیموگلوبین کی مقدار میں اضافہ ہو جائے گا۔
کچھ ہی دیر بعد نوجوان کی حالت بگڑنے لگی۔ اسے خون کی الٹیاں، تیز بخار اور شدید کمزوری کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد اہلِ خانہ نے فوری طور پر اسے ایمرجنسی میں اسپتال منتقل کیا۔
طبی معائنے کے دوران ڈاکٹروں نے بتایا کہ نوجوان کے جسم میں شدید زہریلا اثر (ٹاکسِسٹی) پھیل چکا تھا، جس کے باعث اسے فوری طور پر اسپتال میں داخل کرنا ناگزیر ہو گیا۔
ڈاکٹروں نے بروقت علاج کے ذریعے نوجوان کی جان بچا لی، تاہم جب انہیں اس بیماری کی اصل وجہ معلوم ہوئی تو وہ بھی حیران رہ گئے۔
نوجوان نے ڈاکٹروں کو بتایا کہ اس نے یہ عمل سوشل میڈیا پر دیکھی گئی ایک ویڈیو سے متاثر ہو کر کیا تھا، جس میں بغیر سائنسی بنیاد کے ایسے طریقوں کو فائدہ مند قرار دیا گیا تھا۔
طبی ماہرین نے اس واقعے کے بعد والدین اور نوجوانوں کو خبردار کیا ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود غیر مستند طبی مشوروں پر عمل کرنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے اور کسی بھی طبی مسئلے کی صورت میں صرف مستند ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہیے۔





















