لفظ بیانیہ آج کی سیاسی، سماجی زندگی اور روز مرہ کے معاملات میں بہت مقبول اصطلاح ہے۔ بالخصوص سیاسی حلقوں میں لفظ بیانیہ کا بکثرت استعمال کیا جاتا ہے۔ بیانیہ سے مراد موقف یا نقطہ نظر ہے یعنی جب بھی کسی فرد یا جماعت پر کوئی انگلی اٹھے تو وہ فوراً اُسے کائونٹر کرتا ہے اور اس کا تسلی بخش جواب دیتا ہے، یہاں تک تو بات درست ہے کہ جب بھی کسی پر کسی جانب سے الزام لگے تو دوسرے فرد، شخصیت، گروہ یا جماعت کا یہ حق ہے کہ وہ اُس پر اپنی پوزیشن واضح کرے مگر ہمارے ہاں بیانیہ سے مراد دوسروں کی ناحق کردار کشی لے لیا گیا ہے، جرائم کی پردہ پوشی کے لئے بھی بیانیے بنائے اور چلائے جاتے ہیں اور عوام کی آنکھوں میں منظم مہمات کے ذریعے دھول جھونکنے کے لئے بھی بیانیوں کا سہارا لیا جاتا ہے،کسی پر تہمت لگانا، بہتان باندھنا بیانیہ کے ذیل میں شامل کر لیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا تو اس نوع کی خرافات سے بھرا پڑا ہے، جاہل لاعلم افراد ہی نہیں بیانیہ بازی کے اس حمام میں پڑھے لکھے افراد بھی برہنہ پائے گئے ہیں، بلاضرورت بعض شخصیات جماعتوں پر تبصرے کیے جاتے ہیں اور اپنی خواہشات یا اپنی غلط فہمیوں کو حقائق بنا کر پیش کیا جاتا ہے، کسی کے بارے میں بات کرنے سے قبل تحقیق کرنے کی صفت تقریباً معدوم ہو چکی ہے، جس کے دل میں جوآتا ہے وہ کہہ گزرتا ہے اور اس بات کا ذرہ برابر بھی لحاظ نہیں کیا جاتا کہ اس ہرزہ سرائی کی مقابل کی سیاسی ،ذاتی، سماجی ،گھریلو زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، جھوٹے بیانیے بنانے والے اس بات سے بھی بے نیاز ہو گئے ہیں کہ تہمتیں لگانا، غیرضروری بولنا، حقائق کو مسخ کر کے پیش کرنا، کسی کی خوبیوں کو خامیوں میں اور خامیوں کو خوبیوں میں بدلنا اللہ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک کس قدر ناپسندیدہ اور قابل گرفت عمل ہے۔
وہ لوگ جو بلاسوچے سمجھے اپنی زبان کا غلط استعمال کرتے ہیں درحقیقت وہ اس نعمت گویائی کے غلط استعمال کے مرتکب ہوتے ہیں، روز قیامت ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پائوں انہی کے خلاف گواہی دیں گے، اظہار رائے کی آزادی کے نام پر جس کے دل میں جو آتا ہے ابلاغ کا ہر فورم استعمال کر کے تشہیرکرتا رہتا ہے، بسیار گوئی سے سچ اور جھوٹ کی تمیز ختم ہو چکی ہے، زبان کا غیر محتاط استعمال خاندانوں، معاشروں اور مملکتوں میں جھگڑے، فساد،انتشار یہاں تک کہ کشت و خون کا سبب بن جاتا ہے، اللہ رب العزت جھوٹ بولنے والی زبانوں کو ناپسند کرتا ہے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے اُسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے، غیر ضروری گفتگو سے اجتناب کے لاتعداد دینی، و دنیوی فوائد ہیں، قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے فرمایا کہ عام لوگوں سے نرمی، خوش خلقی اور نیکی کی بات کیا کرو، قرآن مجید میں ایک اور جگہ پر اللہ رب العزت نے فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ جس بات کا تجھے صحیح طرح سے علم نہیں اُس سے دور رہو ورنہ اس کی آپ سے باز پرس ہو گی، ایک اور موقع پر اللہ رب العزت نے اچھے کردار کے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ جھوٹ اور باطل کے کاموں میں قولاً اور عملاً دور رہتے ہیں، بے ہودہ کاموں کے پاس سے نہیں گزرتے، نہایت وقار اور متانت کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے فرمایا اے ایمان والو اللہ سے ڈرا کرو اور صحیح اور سیدھی بات کہا کرو۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ کون سا مسلمان ہے جس کا اسلام افضل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں ہم اپنا محاسبہ کریں کیا ہمارے کلام سے ، ہماری زبان سے، ہمارے قرب و جوار میں موجود افراد کیا پوری طرح محفوظ ہیں؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے اُسے چاہیے کے اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ حضرت ثوبانؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا خوش خبری ہے اس شخص کے لئے جس نے اپنی زبان پر گرفت رکھی تاکہ کسی کے لئے بدگوئی نہ کرے، دوسرا وہ جس کا گھر اُس کے لئے کشادہ ہو گیا اور تیسرا وہ جو اپنے گناہوں پر روتا رہا۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابوذرؓ سے ملے اور فرمایا اے ابوذر! کیا میں تمہیں ایسی دو خصلتوں کے بارے میں نہ بتائوں جو پیٹھ پر تو بڑی ہلکی محسوس ہوں گی مگر میزان میں سب نیکیوں پر بھاری ہوں گی؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہؐ، ضرور آگاہ فرمائیے، آپؐ نے فرمایا اپنے نفس پر حسن اخلاق اور زیادہ خاموش رہنے کو لازم کر لو، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اخلاق کا کوئی سا بھی عمل ان دواعمال کی مثل نہیں ہو سکتا۔
انسان کے لئے سب سے خطرناک چیز اس کی زبان ہے۔ حضرت ابو سعیدخدری ؓ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب انسان صبح کرتا ہے تو اُس کے تمام اعضا جھک کر زبان سے کہتے ہیں ہمارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر کیونکہ ہم تجھ سے متعلق ہیں، اگر تو سیدھی رہے گی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم سب ٹیڑھے ہو جائیں گے۔ حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفیؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسلام کے متعلق مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیں کہ میں اُسے مضبوطی سے تھامے رکھوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہو میرا پروردگار اللہ ہے، پھر اس پر استقامت اختیار کرو، انہوں نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کس شے سے ڈرنا چاہیے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک میرے لئے زیادہ خطرناک ہے، جواباً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست اقدس سے اپنی زبان مبارک پکڑی اور فرمایا یہ تیری زبان۔انسان کی زبان اُسے جنت میں بھی لے جا سکتی ہے اور جہنم میں بھی۔ حضرت ابوہریرہؓسے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جب کوئی آدمی جھوٹ ،ظلم ،منافقت ،دھوکہ دہی یا برائی کی بات کہتا ہے اور اس کے انجام پر غور نہیں کرتا تو اس کی وجہ سے وہ جہنم میں اتنا دور جا گرتا ہے جتنا کہ مشرق و مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاجس نے اپنے دونوں جبڑوں کی درمیانی شے یعنی زبان اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی وہ جنت میں داخل ہو گا۔ ایک اور موقع پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے بری بات سے خاموشی اختیار کی وہ برے انجام سے نجات پا گیا۔ اب مختلف جماعتوں ،گروہوں اور شخصیات کے ترجمان مذکورہ بالا قرآن و سنت کی تعلیمات اور فرامین رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں اپنا محاسبہ کریں کہ وہ جو بولتے ہیں کیا وہ مکمل سچ ہوتا ہے، اُس میں جھوٹ اور تہمت کی آمیزش تو نہیں ہوتی اور اگر وہ ایسا کررہے ہیں تو پھر وہ غور کریں کہ وہ کن کے کہنے پر اپنی آخرت کو خراب کررہے ہیں؟ کسی کو خوش کرنے کے لئے جھوٹ بولنا، تہمتیں لگانا، جھوٹے بیانیے بنانا یہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک ایک ناقابل معافی جرم ہے۔ آج کسی کے لئے عارضی فائدوں کی خاطر بکثرت جھوٹ بولے جاتے ہیں، بیانیے بنائے جاتے ہیں، تہمتیں لگائی جاتی ہیں، قیامت کے دن جب اس ایک ایک لفظ کا محاسبہ اور مواخذہ ہو گا تو کون بچانے آئے گا؟ لہٰذا اللہ نے زندگی کی جو مہلت دے رکھی ہے اس کی ایک ایک گھڑی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت میں بسر کریں۔ کسی کے لئے اپنی قبر کو آگ سے مت بھریں، جس بات کے بارے میں آپ کا دل آپ کو شک میں ڈالتا ہے کہ وہ حقیقت کے برخلاف ہے تو اس کے اظہار سے بچیں۔
نوٹ: اس مضمون میں جو احادیث مبارکہ نقل کی گئی ہیں یہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی کتاب ’’الروض الباسم من خلق النبی الخاتمؐ‘‘ جلد سوم سے لی گئی ہیں۔





















