چین میں موٹاپا کم کرنے کیلئے جیلیں قائم ،داخلہ فیس بھی مقرر

ان مراکز میں رہنے والے افراد کو روزانہ سخت جسمانی مشقیں کروائی جاتی ہیں تاکہ وہ کم وقت میں وزن کم کر سکیں

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)دنیا بھر میں موٹاپا تیزی سے ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے، مگر چین نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک ایسا انوکھا طریقہ اختیار کیا ہے جو سب کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ وزن کم کرنے کے یہ مراکز عام جم یا ڈائٹ پلان سے بالکل مختلف ہیں، اسی لیے لوگ انہیں حیرت سے “فیٹ جیلیں” کہہ رہے ہیں۔

موٹاپے کے بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کے لیے چین میں خصوصی مراکز قائم کیے گئے ہیں، جہاں زائد وزن کے شکار افراد کو 28 دن تک رکھا جاتا ہے۔ یہ مراکز سرکاری اور نجی سرپرستی میں چل رہے ہیں اور عوام میں انہیں “فیٹ جیلیں” کہا جاتا ہے۔

ان مراکز میں رہنے والے افراد کو روزانہ سخت جسمانی مشقیں کروائی جاتی ہیں تاکہ وہ کم وقت میں وزن کم کر سکیں۔ حال ہی میں ایک آسٹریلوی سوشل میڈیا انفلوئنسر نے اس کیمپ میں شرکت کی اور اپنے تجربات سوشل میڈیا پر شیئر کیے۔

انفلوئنسر کے مطابق یہ کیمپ فوجی طرز پر بنائے گئے ہیں اور بند عمارتوں میں قائم ہیں۔ شرکا کو بغیر کسی مضبوط وجہ کے تربیت مکمل ہونے سے پہلے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔

انسٹاگرام اکاؤنٹ Eggeats کے مطابق اس کیمپ میں داخلے کی فیس ایک ہزار ڈالر سے بھی کم ہے، جس میں رہائش، ورزش، ٹریننگ اور روزانہ کا کھانا شامل ہوتا ہے۔

اس پروگرام کے تحت شرکا سے روزانہ تقریباً چار گھنٹے سخت ورزش کروائی جاتی ہے۔ ہر فرد کے لیے الگ ڈائٹ پلان بنایا جاتا ہے اور اس پر مکمل نگرانی رکھی جاتی ہے۔ ورزش میں دوڑ لگانا، باکسنگ اور تیز کارڈیو شامل ہیں، جبکہ کھانے کی مقدار بھی ناپ تول کر دی جاتی ہے تاکہ کیلوریز پر مکمل کنٹرول رہے۔

ان مراکز کو “جیل” اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں کے دروازے ہر وقت بند رہتے ہیں اور کوئی بھی شخص اجازت کے بغیر باہر نہیں جا سکتا۔

آسٹریلوی انفلوئنسر کا کہنا ہے کہ انہوں نے صرف دو ہفتوں میں چار کلو وزن کم کر لیا۔ یہ کیمپ خاص طور پر ان افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہے ہیں جو وزن کم کرنے میں مستقل مزاجی برقرار نہیں رکھ پاتے۔

واضح رہے کہ چین دنیا میں موٹاپے سے متاثرہ افراد کی تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک ہے۔ 2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کی تقریباً 50.7 فیصد آبادی زائد وزن کا شکار ہے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں موٹاپا ایک ایسا مسئلہ بنتا جا رہا ہے جو صرف فرد کی صحت تک محدود نہیں رہا بلکہ ریاستی سطح پر صحتِ عامہ، معیشت اور سماجی ڈھانچے کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ چین جیسے گنجان آباد اور تیزی سے بدلتے ہوئے معاشرے میں یہ مسئلہ اور بھی سنگین شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں شہری طرزِ زندگی، فاسٹ فوڈ کلچر اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی نے موٹاپے کو ایک قومی چیلنج بنا دیا ہے۔ ایسے میں چین کی جانب سے متعارف کروائے گئے یہ خصوصی وزن کم کرنے والے مراکز ایک غیر معمولی مگر توجہ طلب تجربہ ہیں، جو روایتی ڈائٹ پلانز اور جم کلچر سے بالکل مختلف راستہ اختیار کرتے نظر آتے ہیں۔

ان مراکز کو عوامی سطح پر “فیٹ جیلیں” کہا جانا بذاتِ خود اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہاں نظم و ضبط کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ بند دروازے، فوجی طرز کی تربیت، مقررہ روٹین اور سخت نگرانی ایک ایسے ماحول کو جنم دیتی ہے جہاں فرد کے پاس انتخاب کی آزادی محدود ہو جاتی ہے۔ بظاہر اس ماڈل کا بنیادی فلسفہ یہی ہے کہ وہ افراد جو خود پر قابو نہیں رکھ پاتے یا مسلسل ڈائٹ اور ورزش چھوڑ دیتے ہیں، انہیں ایک کنٹرولڈ ماحول میں رکھ کر نتائج حاصل کیے جائیں۔ اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ مراکز ان لوگوں کے لیے امید کی کرن بن سکتے ہیں جو بارہا ناکامی کے بعد وزن کم کرنے سے مایوس ہو چکے ہوتے ہیں۔

دوسری جانب، روزانہ چار گھنٹے سخت ورزش، محدود کیلوریز پر مشتمل خوراک اور مسلسل نگرانی کے نتیجے میں کم وقت میں وزن کم ہونا کوئی حیران کن بات نہیں۔ آسٹریلوی سوشل میڈیا انفلوئنسر کا محض دو ہفتوں میں چار کلو وزن کم کرنے کا دعویٰ اس بات کی مثال ہے کہ سخت نظم و ضبط کے تحت جسم تیزی سے ردِعمل دیتا ہے۔ تاہم یہاں ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ وزن کم ہونا دیرپا ہے یا نہیں۔ اگر کوئی فرد 28 دن کے بعد دوبارہ اسی پرانی طرزِ زندگی کی طرف لوٹ جاتا ہے تو کیا یہ محنت ضائع نہیں ہو جائے گی؟ اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب ان مراکز سے نکلنے کے بعد بھی افراد صحت مند عادات کو برقرار رکھ سکیں۔

ان مراکز کا کمرشل پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ ایک ہزار ڈالر سے کم فیس میں رہائش، خوراک اور تربیت فراہم کرنا بظاہر ایک پرکشش پیکیج معلوم ہوتا ہے، مگر یہ سہولت ہر طبقے کے لیے یکساں طور پر قابلِ رسائی نہیں۔ اس سے یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا موٹاپے جیسے بڑے مسئلے کا حل صرف ایسے مہنگے اور سخت مراکز میں پوشیدہ ہے، یا پھر ریاست کو بنیادی سطح پر طرزِ زندگی میں تبدیلی، آگاہی مہمات اور صحت مند خوراک کی فراہمی پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

اخلاقی اور نفسیاتی پہلو سے دیکھا جائے تو “فیٹ جیلوں” کا تصور متنازع بھی ہو سکتا ہے۔ بند ماحول، محدود آزادی اور مسلسل دباؤ بعض افراد میں ذہنی تناؤ یا منفی جذبات کو جنم دے سکتا ہے۔ اگرچہ نتائج وقتی طور پر مثبت دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا اس عمل سے فرد کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے یا وہ خود کو سزا یافتہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ صحت صرف جسمانی وزن کا نام نہیں بلکہ ذہنی سکون اور توازن بھی اس کا لازمی حصہ ہے۔

مجموعی طور پر چین کا یہ تجربہ اس بات کی علامت ہے کہ دنیا موٹاپے جیسے مسئلے سے نمٹنے کے لیے غیر روایتی اور سخت اقدامات کی طرف جا رہی ہے۔ یہ مراکز کچھ افراد کے لیے واقعی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ان کے لیے جو خود نظم و ضبط قائم رکھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ تاہم طویل المدتی حل کے لیے ضروری ہے کہ وزن کم کرنے کو محض ایک وقتی مہم کے بجائے مستقل طرزِ زندگی کی تبدیلی بنایا جائے۔ بصورتِ دیگر، “فیٹ جیلیں” وقتی کامیابی تو دلا سکتی ہیں، مگر موٹاپے کے مسئلے کی جڑ تک پہنچنا اب بھی ایک بڑا چیلنج رہے گا

متعلقہ خبریں

مقبول ترین