امریکا نے بھارت سے فاصلہ کیوں بڑھایا؟ فنانشل ٹائمز کی تہلکہ خیز رپورٹ

بھارت۔پاکستان کشیدگی اور خطے میں بڑھتے تصادم کے خدشات نے واشنگٹن کے شکوک مزید گہرے کر دیے

معروف برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ اقتدار میں امریکا اور بھارت کے تعلقات تاریخ کی بدترین سطح تک پہنچ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بھارت میں نریندر مودی حکومت کی ہندوتوا پر مبنی داخلی پالیسیاں اور متضاد خارجہ حکمتِ عملی واشنگٹن میں شدید تشویش کا باعث بن رہی ہیں، جس کے نتیجے میں امریکا نے بھارت سے اسٹریٹجک فاصلہ اختیار کر لیا ہے۔

فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس سفارتی سردمہری کا براہِ راست اثر بھارت کی معیشت اور بڑے کاروباری گروپس پر پڑا ہے۔ بھارتی ارب پتیوں نے امریکا میں اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے لاکھوں ڈالر لابنگ پر خرچ کیے، تاہم امریکی پالیسی سازوں اور عدالتی نظام پر اس کا کوئی خاطر خواہ اثر نہ پڑ سکا۔

رپورٹ میں گوتم اڈانی کے خلاف جاری امریکی قانونی کارروائیوں کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ذاتی روابط اور لابنگ امریکی قانون اور پالیسی کو تبدیل نہیں کر سکتے۔

صورتحال کو بھارت کے لیے مزید مشکل بناتے ہوئے امریکا نے پاکستان کے ساتھ سفارتی اور اسٹریٹجک روابط میں اضافہ کیا ہے، جسے تجزیہ کار بھارت کے لیے ایک بڑا سفارتی جھٹکا قرار دے رہے ہیں۔

 ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر ہمایوں بابر کے مطابق“امریکا بھارت کو چین کے مقابل توازن کے طور پر دیکھتا تھا، مگر بھارت کی روس نواز پالیسیوں اور اندرونی انتہاپسندی نے اس اعتماد کو کمزور کر دیا ہے۔”

سابق سفارت کار اعزاز چوہدری کا کہنا ہے“پاکستان کے ساتھ بڑھتے امریکی روابط اس بات کا ثبوت ہیں کہ واشنگٹن خطے میں ایک متوازن اور ذمہ دار شراکت دار کی تلاش میں ہے۔”

معاشی تجزیہ کار ڈاکٹر ثمر عباس کے مطابق“بھارتی ارب پتیوں کی ناکام لابنگ ظاہر کرتی ہے کہ امریکا میں قانون اور پالیسی ذاتی تعلقات سے بالا تر ہیں۔”

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکا اور بھارت کے تعلقات محض وقتی اختلافات کا شکار نہیں بلکہ ایک گہرے اسٹریٹجک ری سیٹ سے گزر رہے ہیں۔

امریکا کو بھارت کی روسی تیل پر انحصار، 50 فیصد ٹیرف، اور پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی پر شدید تحفظات ہیں۔ واشنگٹن اب بھارت کو ایسا قابلِ اعتماد اتحادی نہیں سمجھتا جو جنوبی ایشیا میں استحکام برقرار رکھ سکے۔

اس کے برعکس، پاکستان کے ساتھ امریکا کے بڑھتے روابط اس امر کا اشارہ ہیں کہ واشنگٹن خطے میں طاقت کے توازن کے لیے نئی ترجیحات طے کر رہا ہے۔

اگر بھارت نے اپنی خارجہ پالیسی میں لچک نہ دکھائی تو اسے مستقبل میں مزید معاشی دباؤ، قانونی رکاوٹوں اور سفارتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین