لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین) 2025ء لاہور ہائیکورٹ کے لیے عدالتی کارکردگی کے نئے معیار کا سال رہا۔ چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کی مؤثر قیادت، جدید کیس مینجمنٹ اصلاحات اور ٹیکنالوجی کے بھرپور استعمال نے عدالتی نظام میں ایک تاریخی سنگِ میل قائم کیا۔ سال بھر کے دوران نہ صرف مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہوا بلکہ فیصلوں کی رفتار میں بھی حیران کن بہتری دیکھنے میں آئی، جس سے عوام کے لیے بروقت انصاف ممکن ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق، سال 2025 میں لاہور ہائیکورٹ نے مجموعی طور پر ایک لاکھ 73 ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے، جو اسی عرصے میں دائر ہونے والے نئے مقدمات کی تعداد سے 16 فیصد زیادہ ہے۔ اس سال ہائیکورٹ میں 1 لاکھ 45 ہزار 748 نئے مقدمات درج ہوئے۔ لاہور ہائیکورٹ کے مختلف سیٹس اور بنچز میں فیصلوں کی تفصیل یہ ہے: پرنسپل سیٹ لاہور میں 92 ہزار 505، ملتان بنچ میں 44 ہزار 145، بہاولپور بنچ میں 18 ہزار 415 اور راولپنڈی بنچ میں 17 ہزار 948 مقدمات کے فیصلے کیے گئے۔
چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے کہا کہ عدالتی شفافیت اور بروقت انصاف کی فراہمی لاہور ہائیکورٹ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے آٹومیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کو مقدمات کی سماعت اور فیصلوں کی رفتار بڑھانے میں اہم قرار دیا۔
چیف جسٹس کی ہدایات کے مطابق سول، فوجداری اور ٹیکس مقدمات کے لیے فاسٹ ٹریک پالیسی نافذ کی گئی، جبکہ ٹیکس مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی ڈویژن بنچز تشکیل دیے گئے۔ اس کے علاوہ کیس آڈٹ، یکساں نوعیت کے مقدمات کو یکجا کرکے سماعت کے لیے مقرر کرنے اور دیگر اصلاحات متعارف کروائی گئیں۔ سال 2025 میں ہائیکورٹ نے 6 ہزار ٹیکس مقدمات کے فیصلے بھی کیے، جو اپنی نوعیت میں ایک منفرد اور تاریخی ریکارڈ ہے۔
وکلا اور سائلین نے لاہور ہائیکورٹ کی اس شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کی رہنمائی میں نافذ کی گئی جوڈیشل، کیس مینجمنٹ اور ڈیجیٹل اصلاحات نے عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد مزید مضبوط کیا ہے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ سال 2025 لاہور ہائیکورٹ کے لیے نہ صرف ریکارڈ ساز بلکہ عدالتی نظام میں مثبت تبدیلیوں کے نئے دور کا سال رہا۔ چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کی قائدانہ صلاحیتوں، جدید کیس مینجمنٹ اصلاحات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال نے عدالت میں فیصلوں کی رفتار میں غیر معمولی اضافہ کیا اور لاہور ہائیکورٹ کو ملک کی اعلیٰ عدالتی سطح پر ایک مثالی ادارے کے طور پر سامنے لایا۔
اعداد و شمار خود اس کامیابی کی عکاسی کرتے ہیں۔ سال 2025 میں لاہور ہائیکورٹ نے مجموعی طور پر ایک لاکھ 73 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے، جبکہ اسی دوران نئے مقدمات کی تعداد 1 لاکھ 45 ہزار 748 رہی۔ یہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ عدالت نہ صرف نئے مقدمات کی بڑھتی ہوئی تعداد سے نمٹنے میں کامیاب رہی بلکہ پچھلے مقدمات کی صفائی اور حل میں بھی ریکارڈ قائم کیا۔ پرنسپل سیٹ لاہور میں 92 ہزار 505، ملتان بنچ میں 44 ہزار 145، بہاولپور بنچ میں 18 ہزار 415 اور راولپنڈی بنچ میں 17 ہزار 948 مقدمات کے فیصلے، مختلف جغرافیائی علاقوں میں عدالتی فعالیت کی یکسانیت اور مضبوطی کو ظاہر کرتے ہیں۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم کی رہنمائی میں عدالت نے عدالتی اصلاحات کو کئی سطحوں پر متعارف کرایا۔ سب سے اہم پہلو جدید کیس مینجمنٹ سسٹم کا نفاذ اور آٹومیشن تھا۔ عدالت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے مقدمات کی سماعت کے عمل کو تیز اور شفاف بنایا، جس کے نتیجے میں عوام کے لیے بروقت انصاف ممکن ہوا۔ سول اور فوجداری مقدمات کے ساتھ ساتھ ٹیکس مقدمات کے لیے بھی فاسٹ ٹریک پالیسی اپنائی گئی اور ٹیکس مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی ڈویژن بنچز تشکیل دیے گئے۔ یکساں نوعیت کے مقدمات کو یکجا کرنا اور کیس آڈٹ کے عمل کو مؤثر بنانا، عدالتی اصلاحات کے اہم اقدامات میں شامل ہیں، جن سے مقدمات کی کارروائی میں شفافیت اور یکسانیت پیدا ہوئی۔
سال 2025 میں 6 ہزار ٹیکس مقدمات کے فیصلے، اپنے نوعیت میں تاریخی اور منفرد ریکارڈ ہیں۔ یہ نہ صرف ٹیکس نظام کے موثر نفاذ کی علامت ہیں بلکہ عدالتی نظام کی استعداد اور عدالتوں کی فعال حکمت عملی کا بھی ثبوت ہیں۔ وکلاء اور سائلین نے اس کارکردگی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس عالیہ نیلم کی ہدایات پر نافذ کی گئی اصلاحات نے عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد مزید مضبوط کیا ہے۔
اس تاریخی کارکردگی کے باوجود، مستقبل میں عدالتی نظام کے لیے کئی چیلنجز موجود ہیں۔ نئے مقدمات کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد، پیچیدہ قانونی مسائل اور عدالتی عمل میں مزید شفافیت کے تقاضے، عدالت کی استعداد اور اصلاحات کی مستقل مزاجی پر منحصر ہیں۔ اس کے لیے عدالت کو موجودہ اصلاحات کو مزید بہتر بنانا، تکنیکی سہولیات کو اپ گریڈ کرنا اور عوامی رسائی کو آسان بنانا ہوگا۔
مجموعی طور پر، 2025ء کی لاہور ہائیکورٹ کی کارکردگی نہ صرف ایک ریکارڈ ہے بلکہ عدالتی نظام میں اصلاحات، ٹیکنالوجی کے استعمال اور عوامی اعتماد کے لیے ایک مثالی ماڈل بھی ہے۔ یہ کامیابی مستقبل میں دیگر عدالتی اداروں کے لیے بھی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کا باعث بنے گی۔





















