حکومت نے نئے سال پر عوام کو بڑا ریلیف دے دیا، پیٹرول 10 روپے 28 پیسے سستا

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 8 روپے 57 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے

اسلام آباد:(خصوصی رپورٹ۔غلام مرتضی) حکومت نے عوام کو نئے سال کے آغاز پر بڑا ریلیف دیتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس حوالے سے پیٹرولیم ڈویژن نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے آئل اینڈ گیس ریگیولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی سفارشات کی روشنی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کیا ہے، جس کا اطلاق یکم جنوری 2026 سے آئندہ 15 روز کے لیے ہوگا۔

نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 10 روپے 28 پیسے کی کمی کر دی گئی ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 253 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل پیٹرول 263 روپے 45 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہو رہا تھا۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 8 روپے 57 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔ نئی قیمت کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل اب 257 روپے 08 پیسے فی لیٹر دستیاب ہوگا، جبکہ پہلے اس کی قیمت 265 روپے 65 پیسے فی لیٹر تھی۔

حکومت کے اس فیصلے کو مہنگائی سے پریشان عوام کے لیے اہم ریلیف قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف روزمرہ اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ نقل و حمل اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی مثبت اثرات متوقع ہیں۔

ماہرین کی رائے

معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ایک مثبت معاشی اشارہ ہے، تاہم اس کے اثرات محدود مدت کے لیے ہو سکتے ہیں۔

سینئر معاشی تجزیہ کار ڈاکٹر سلمان شاہ کے مطابق“پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی سے فوری طور پر مہنگائی کے دباؤ میں کچھ کمی آئے گی، خاص طور پر ٹرانسپورٹ اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔”

توانائی امور کے ماہر عارف حبیب کا کہنا ہے“یہ کمی اگرچہ خوش آئند ہے، مگر پائیدار ریلیف کے لیے حکومت کو توانائی اصلاحات، ٹیکس اسٹرکچر اور درآمدی انحصار کم کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔”

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب عوام پہلے ہی مہنگائی، بجلی اور گیس کے بھاری بلوں سے پریشان ہیں۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں براہِ راست ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق

ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی کا امکان

مہنگائی کی شرح میں وقتی نرمی

کاروباری لاگت میں کمی سے مارکیٹ میں بہتری

تاہم خدشہ یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر عالمی تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھیں یا روپے پر دباؤ آیا تو یہ ریلیف عارضی ثابت ہو سکتا ہے۔

حکومت کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ قیمتوں میں استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے مالی خسارہ اور ٹیکس اہداف بھی پورے کرے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین