انسان کتوں سے پہلے کون سا جانور پالتا تھا؟ نئی تحقیق نے حیران کن انکشاف کر دیا

یہ دریافت انسانی تاریخ اور جانوروں کے ساتھ اس کے تعلق کو سمجھنے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو

ایک نئی سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسان نے کتوں کو پالنے سے ہزاروں برس پہلے بھیڑیوں کو اپنا ساتھی بنایا ہوا تھا۔

سویڈن کی اسٹاک ہوم یونیورسٹی سے وابستہ محققین کے مطابق، سویڈن کے ایک جزیرے پر دریافت ہونے والی قبل از تاریخ باقیات اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہیں کہ انسان اور بھیڑیوں کا تعلق توقع سے کہیں زیادہ قدیم ہے۔

ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو یہ باقیات سویڈن کے جزیرے پر واقع اسٹورا فورور نامی غار سے ملیں، جن کی عمر تقریباً 3 ہزار سے 5 ہزار سال کے درمیان بتائی جا رہی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ آثار پتھر اور کانسی کے دور سے تعلق رکھتے ہیں، جہاں بڑی تعداد میں بھیڑیوں کے استعمال کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ جزیرہ صرف 2.5 مربع کلومیٹر کے رقبے پر مشتمل ہے اور یہاں کسی بھی مقامی زمینی ممالیہ جانور کے فطری وجود کے شواہد نہیں ملے۔ محققین کے مطابق یہی امر اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ یہاں موجود بھیڑیے انسان خود ساتھ لائے اور انہیں پالا گیا۔

تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کتے دراصل قدیم پتھر کے دور میں بھیڑیوں ہی سے ارتقا پذیر ہوئے، اور یہ عمل دوسرے جانوروں کے پالتو بننے سے بھی پہلے کا ہے۔ تاہم اب تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ بھیڑیوں کو سب سے پہلے کہاں اور کن حالات میں پالا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت انسانی تاریخ اور جانوروں کے ساتھ اس کے تعلق کو سمجھنے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے، جو یہ بتاتی ہے کہ انسان اور بھیڑیے کا رشتہ محض دشمنی کا نہیں بلکہ رفاقت کا بھی رہا ہے۔

ماہرین آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ بھیڑیوں کا پالنا انسانی تاریخ میں ایک جرات مندانہ قدم تھا، کیونکہ بھیڑیے فطری طور پر جنگلی اور خطرناک سمجھے جاتے تھے۔

یہ شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ ابتدائی انسان نہ صرف جانوروں کو قابو کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے بلکہ انہیں اپنے سماجی نظام کا حصہ بھی بنا رہے تھے۔

یہ تحقیق اس نظریے کو بھی تقویت دیتی ہے کہ انسان اور جانور کے درمیان تعلق محض ضرورت پر مبنی نہیں بلکہ اعتماد اور باہمی فائدے پر قائم تھا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین