منہاج یونیورسٹی لاہور میں رنگا رنگ سپورٹس فیسٹیول کا آغاز

وائس چانسلر منہاج یونیورسٹی لاہور پروفیسر ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور فیسٹیول کا افتتاح کیا

لاہور(خصوصی رپورٹ:حافظ عمران )منہاج یونیورسٹی لاہور میں گزشتہ روز رنگا رنگ سپورٹس فیسٹیول کا آغاز ہوگیا۔ الفارابی آڈیٹوریم میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں وائس چانسلر منہاج یونیورسٹی لاہور پروفیسر ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور فیسٹیول کا افتتاح کیا۔ سپورٹس فیسٹیول میں منہاج یونیورسٹی لاہور کے  35 ڈیپارٹمنٹ کے طلبہ تیر اندازی ،کرکٹ،بیڈ منٹن، جمناسٹک ،والی بال،ٹیبل ٹینس ،فٹ بال،رسہ کشی،لڈو،کراٹے اوراتھلیٹکس سمیت25گیمزمیں حصہ لیں گے۔

افتتاحی تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ کھیل نوجوان نسل بالخصوص طلبہ کے لیے ایک صحت مند اور مثبت سرگرمی ہے جو نہ صرف جسمانی صحت کو بہتر بناتی ہے بلکہ ذہنی نشوونما اور کردار سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منہاج یونیورسٹی میں سپورٹس فیسٹیول کے انعقاد کا مقصد طلبہ میں خود اعتمادی، ٹیم ورک، قیادت کی صلاحیت اور نظم و ضبط جیسے اوصاف پیدا کرنا ہے جو کہ زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی کے لیے ناگزیر ہیں ۔

افتتاحی تقریب میں رجسٹرار منہاج یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹرخرم شہزادڈائریکٹر سپورٹس منہاج یونیورسٹی اقبال مرتضیٰ حیدر، ڈپٹی ڈائریکٹر سپورٹس فہد سرور سمیت مختلف تعلیمی شعبہ جات کے ڈینز ،فیکلٹی ممبران ،طلبہ اور سپورٹس ڈیپارٹمنٹ سٹاف نے شرکت کی ۔ تقریب کے آغاز میں مختلف ڈیپارٹمنٹس کے طلبہ نے شاندار مارچ پاسٹ کیا ا ور فٹ بال اور بیڈمنٹن کا شاندارکھیل پیش کیا۔سپورٹس فیسٹیول 7 جنوری تک جاری رہے گا۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی حافظ عمران نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب محض ایک روایتی اسپورٹس ایونٹ نہیں بلکہ جامع تعلیمی تربیت، نوجوانوں کی کردار سازی اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کی ایک واضح مثال ہے۔ منہاج یونیورسٹی لاہور میں سپورٹس فیسٹیول کا انعقاد اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جدید جامعات اب تعلیم کو صرف کتاب اور کلاس روم تک محدود نہیں رکھ رہیں بلکہ طلبہ کی جسمانی، ذہنی اور سماجی نشوونما کو یکساں اہمیت دی جا رہی ہے۔

آج کے تیز رفتار اور دباؤ سے بھرپور دور میں نوجوان نسل کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ صحت مند سرگرمیاں ہیں۔ کھیل نہ صرف جسم کو توانا رکھتے ہیں بلکہ ذہنی دباؤ کو کم کرنے، فیصلہ سازی کی صلاحیت بڑھانے اور مثبت طرزِ فکر اپنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ منہاج یونیورسٹی کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارہ اپنے طلبہ کو صرف ڈگری یافتہ نہیں بلکہ متوازن، پراعتماد اور ذمہ دار شہری بنانا چاہتا ہے۔

سپورٹس فیسٹیول میں یونیورسٹی کے 35 ڈیپارٹمنٹس کے طلبہ کی شرکت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ کھیلوں کے فروغ کے لیے ادارہ جاتی سطح پر سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ تیر اندازی، کرکٹ، فٹ بال، والی بال، بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس، جمناسٹک، کراٹے، اتھلیٹکس اور یہاں تک کہ لڈو جیسے کھیلوں کو شامل کرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ انتظامیہ نے ہر طرح کی صلاحیت رکھنے والے طلبہ کو آگے آنے کا موقع دیا ہے۔ یہ تنوع طلبہ میں شمولیت (Inclusivity) کے جذبے کو فروغ دیتا ہے۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد کا خطاب دراصل اسپورٹس فیسٹیول کی اصل روح کی ترجمانی کرتا ہے۔ کھیلوں کے ذریعے طلبہ میں ٹیم ورک، قیادت، نظم و ضبط اور خود اعتمادی جیسے اوصاف پیدا ہوتے ہیں، جو عملی زندگی میں کامیابی کے لیے ناگزیر ہیں۔ کلاس روم میں دی جانے والی نظریاتی تعلیم اگر کھیل کے میدان میں عملی صورت اختیار کر لے تو شخصیت نکھر کر سامنے آتی ہے۔

افتتاحی تقریب میں مختلف ڈیپارٹمنٹس کے طلبہ کا شاندار مارچ پاسٹ محض ایک نمائشی سرگرمی نہیں بلکہ یہ اتحاد، نظم اور ادارہ جاتی شناخت کی علامت تھا۔ فٹ بال اور بیڈمنٹن کے عملی مظاہروں نے فیسٹیول کے آغاز ہی میں طلبہ کے جوش و جذبے کو عروج پر پہنچا دیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوان نسل میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں، صرف انہیں درست پلیٹ فارم کی ضرورت ہوتی ہے۔

سپورٹس فیسٹیول جیسے مقابلے طلبہ میں مثبت مسابقت کو فروغ دیتے ہیں۔ ہار اور جیت دونوں طلبہ کو برداشت، صبر اور محنت کا سبق سکھاتی ہیں۔ یہی اوصاف آگے چل کر پیشہ ورانہ زندگی میں ناکامیوں سے نمٹنے اور کامیابی کو سنبھالنے میں مدد دیتے ہیں۔ کھیل کا میدان طلبہ کو یہ سکھاتا ہے کہ کامیابی صرف انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی کوشش کا نتیجہ ہوتی ہے۔

رجسٹرار، ڈائریکٹر اسپورٹس، ڈپٹی ڈائریکٹر اسپورٹس، ڈینز اور فیکلٹی ممبران کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ اسپورٹس فیسٹیول محض ایک سرگرمی نہیں بلکہ ادارہ جاتی وژن کا حصہ ہے۔ جب تعلیمی قیادت خود کھیلوں کی حوصلہ افزائی کرے تو طلبہ میں اس کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔

7 جنوری تک جاری رہنے والا یہ اسپورٹس فیسٹیول نہ صرف طلبہ کے لیے یادگار لمحات فراہم کرے گا بلکہ مستقبل میں منہاج یونیورسٹی کی شناخت کو ایک ایسے ادارے کے طور پر مضبوط کرے گا جو تعلیم، صحت اور کردار سازی تینوں کو یکساں اہمیت دیتا ہے۔

منہاج یونیورسٹی لاہور کا اسپورٹس فیسٹیول اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قوموں کی ترقی صرف نصابی تعلیم سے نہیں بلکہ صحت مند جسم، مثبت سوچ اور مضبوط کردار سے جڑی ہوتی ہے۔ اگر دیگر تعلیمی ادارے بھی اس مثال کو اپنائیں تو پاکستان کی نوجوان نسل نہ صرف علمی میدان میں بلکہ کھیل، قیادت اور اخلاقی اقدار میں بھی نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہے۔ یہ فیسٹیول درحقیقت ایک روشن، متحرک اور پراعتماد مستقبل کی طرف بڑھتا ہوا قدم ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین