امریکی حملے کے بعد وینزویلا کی نائب صدر کا قوم سے خطاب

حکومت کے پاس اس وقت صدر مادورو اور خاتونِ اوّل سیلیا فلورس کے بارے میں کوئی تصدیق شدہ معلومات موجود نہیں ہیں

نیویارک(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)وینزویلا پر امریکی حملے اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد ملک کی نائب صدر کا پہلا بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے ملکی صورتحال اور مستقبل کے اقدامات کے حوالے سے عوام کو آگاہ کیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وینزویلا کی نائب صدر دَلسی رودریگیز نے سرکاری ٹیلی ویژن کے ذریعے قوم سے خطاب کیا اور ملک میں ہونے والی ناقابل یقین پیش رفت پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس اس وقت صدر مادورو اور خاتونِ اوّل سیلیا فلورس کے بارے میں کوئی تصدیق شدہ معلومات موجود نہیں ہیں۔

نائب صدر نے مزید کہا کہ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی موجودگی اور حالت کے بارے میں جاننے کے لیے حکومت مسلسل کوشاں ہے اور ہر ممکن ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

رودریگیز نے امریکی حملے کو بدترین سامراجی جارحیت قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کے زندہ ہونے کا ثبوت پیش کریں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی کارروائی کے دوران ملک بھر میں متعدد سرکاری حکام، فوجی اہلکار اور شہری ہلاک ہوئے، اور ان واقعات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

نائب صدر نے قوم سے اتحاد اور یکجہتی کی اپیل کی اور کہا کہ موجودہ حالات وینزویلا کے لیے انتہائی سنگین ہیں، اور سب کو ملکی سالمیت کے تحفظ کے لیے یکسو ہو کر کام کرنا ہوگا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی تھی کہ امریکا نے وینزویلا پر بڑے پیمانے پر فوجی حملہ کیا اور صدر مادورو کو اہلیہ سمیت حراست میں لے کر بیرون ملک منتقل کر دیا ہے۔

امریکی صدر نے یہ نہیں بتایا کہ مادورو کو کس مقام پر منتقل کیا گیا ہے، تاہم امریکی سینیٹرز کا کہنا ہے کہ انہیں امریکا لایا گیا تاکہ قانونی کارروائی کے تحت جواب دہ بنایا جا سکے۔

علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا میں ہونے والی فوجی کارروائیوں اور صدر نکولس مادورو کی اہلیہ سمیت گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ وینزویلا اور اس کی موجودہ قیادت کے خلاف ایک منظم آپریشن انجام دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس کارروائی کے دوران وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے کر ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کی گئی، جبکہ اس حوالے سے مزید اہم تفصیلات وہ آج رات ایک باقاعدہ پریس کانفرنس میں پیش کریں گے۔

دوسری جانب کولمبیا اور کیوبا نے وینزویلا پر امریکی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا فوری ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

کیوبا کے صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ وینزویلا پر امریکا کی جانب سے کیے گئے ان حملوں کو مجرمانہ اقدام قرار دیتے ہوئے وہ عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سنگین صورتحال پر فوری اور مؤثر ردِعمل دیا جائے۔

اسی طرح روس نے بھی امریکی کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ وینزویلا پر حملہ بین الاقوامی قوانین اور عالمی ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہے، جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس سمیت متعدد ریاستوں میں فضائی حملے کیے ہیں، جن میں ملک کی اہم فوجی تنصیبات اور وزارتِ دفاع کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

دارالحکومت کاراکاس میں کم از کم سات شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ شہریوں نے نچلی فضا میں امریکی فوج کے سی ایچ 47 چینوک ہیلی کاپٹرز کو پرواز کرتے ہوئے بھی دیکھا۔ ان مناظر کے بعد امریکی دھمکیوں کے تناظر میں خطے میں جنگ کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا پر فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی اہلیہ سمیت گرفتاری کی تصدیق نے عالمی سیاست میں ایک نیا اور خطرناک موڑ پیدا کر دیا ہے۔ یہ واقعہ محض ایک ملک کے خلاف فوجی آپریشن نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون، ریاستی خودمختاری اور عالمی طاقت کے توازن کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکا ہے۔ٹرمپ کا یہ اعلان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دنیا پہلے ہی یوکرین، غزہ اور ایشیا پیسیفک میں کشیدگی جیسے سنگین بحرانوں سے دوچار ہے۔ وینزویلا پر براہِ راست امریکی کارروائی نہ صرف لاطینی امریکا کے سیاسی منظرنامے کو ہلا کر رکھ دینے والی ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

امریکی مؤقف کے مطابق یہ کارروائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کی گئی اور اس کا مقصد وینزویلا کی قیادت کے خلاف کارروائی تھا۔ تاہم، بین الاقوامی قانون کے ماہرین کے نزدیک کسی خودمختار ریاست کے صدر اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے کر ملک سے باہر منتقل کرنا اقوام متحدہ کے چارٹر، ریاستی خودمختاری اور عدم مداخلت کے اصولوں سے متصادم نظر آتا ہے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکا نے لاطینی امریکا میں براہِ راست مداخلت کی ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ کیوبا، پاناما، نکاراگوا اور چلی جیسے ممالک میں امریکی مداخلت ہمیشہ ’’قانون‘‘ یا ’’جمہوریت‘‘ کے نام پر کی گئی، مگر نتائج اکثر سیاسی عدم استحکام اور عوامی ردِعمل کی صورت میں سامنے آئے۔

کاراکاس میں زور دار دھماکوں، فوجی تنصیبات اور وزارتِ دفاع کو نشانہ بنائے جانے، اور نچلی فضا میں امریکی چینوک ہیلی کاپٹروں کی پرواز نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ یہ محض علامتی حملہ نہیں بلکہ ایک مکمل عسکری پیغام ہے۔ زمینی فوج اتارنے کی اطلاعات نے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے کہ یہ بحران کسی بھی وقت ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

روس، کیوبا اور کولمبیا کا فوری اور سخت ردِعمل اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ دنیا ایک بار پھر طاقت کے بلاکس میں تقسیم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ روس کا یہ کہنا کہ وینزویلا پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، دراصل امریکا کے عالمی کردار کو چیلنج کرنے کی ایک سفارتی کوشش ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین