امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کو ایک بار پھر سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اپنا رویہ درست نہ کیا تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو وینزویلا میں موجود تیل اور دیگر قدرتی وسائل تک مکمل رسائی حاصل ہونی چاہیے، اور اگر وینزویلا نے امریکی شرائط کے مطابق طرزِ عمل اختیار نہ کیا تو دوسرا حملہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے وینزویلا میں اقتدار سنبھالنے والی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو بھی سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے درست فیصلے نہ کیے تو انہیں سابق صدر مادورو سے بھی زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ انہوں نے خطے کے دیگر ممالک کو بھی خبردار کیا کہ امریکا اپنے مفادات کے تحفظ میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا۔
ایک اور موقع پر صدر ٹرمپ نے کیوبا کے بارے میں سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کیوبا کی حکومت جلد خود بخود زوال کا شکار ہو جائے گی اور شاید وہاں فوجی مداخلت کی ضرورت بھی پیش نہ آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیوبا کی معیشت کا بڑا انحصار وینزویلا پر تھا، اور اب وہ سہارا بھی ختم ہو چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کولمبیا پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ وہاں ایک ایسی حکومت موجود ہے جو منشیات، خاص طور پر کوکین کی تیاری اور امریکا میں فروخت میں دلچسپی رکھتی ہے، تاہم یہ صورتحال زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہ سکے گی۔
جب صحافیوں نے سوال کیا کہ کیا امریکا کولمبیا کے خلاف فوجی کارروائی پر غور کر رہا ہے تو صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ایسی تجویز سن کر انہیں اچھا محسوس ہوا، جس سے ان کے جارحانہ مؤقف کا عندیہ ملتا ہے۔
گفتگو کے دوران امریکی صدر نے میکسیکو کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر میکسیکو نے اپنا نظام درست نہ کیا تو امریکا کو وہاں بھی سخت اقدامات کرنا پڑ سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد لاطینی امریکا میں کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر بھی ان دھمکیوں پر تشویش پائی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ بیان محض زبانی دھمکی نہیں بلکہ پریشر ڈپلومیسی اور ممکنہ ریجیم چینج اسٹریٹجی کا حصہ ہو سکتا ہے۔
وینزویلا پہلے ہی روس، چین اور ایران کے قریب سمجھا جاتا ہے، ایسے میں امریکی حملے یا دھمکیاں عالمی طاقتوں کے درمیان براہِ راست تصادم کا سبب بن سکتی ہیں۔
کیوبا اور کولمبیا پر دیے گئے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا پورے لاطینی خطے میں اپنی بالادستی دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ رویہ جاری رہا تو اقوام متحدہ، یورپی یونین اور گلوبل ساؤتھ کی جانب سے امریکا پر شدید دباؤ آ سکتا ہے، جبکہ خطہ ایک طویل عدم استحکام میں داخل ہو سکتا ہے





















